رسائی کے لنکس

'لارڈ نذیر احمد جس مقام پر کھڑے ہیں، انہیں وہاں دیکھ کر دکھ ہوتا ہے'


لارڈ نذیر احمد (فائل)

برطانیہ کی شیفیلڈ کراؤن کورٹ نے پاکستانی نژاد برطانوی شہری اور ہاؤس آف لارڈز کے سابق رکن نذیر احمد کو تقریباً پچاس سال قبل دو کم عمر افراد کے خلاف جنسی زیادتی کے الزام میں قصوروار قرار دے دیا ہے۔ یہ جرائم 1970 کے عشرے میں اس وقت سرزد ہوئے تھے جب نذیر احمد کی اپنی عمر سولہ یا سترہ سال تھی۔ لارڈ نذیر ان الزامات کو مسترد کرتے رہے ہیں۔

برطانوی خبر رساں اداروں کے مطابق استغاثہ کے وکیل ٹام لٹل نے عدالت کو بتایا کہ نذیر احمد نے ستر کی دہائی کے اوائل میں جب وہ سولہ یا سترہ سال کی عمر میں تھے، ایک لڑکی کے ساتھ زیادتی کی کوشش کی جس کی عمر اس وقت ان سے بھی کم تھی۔ استغاثہ کے مطابق مدعا علیہ نے گیارہ سال یا اس سے کم عمر کے ایک لڑکے پر بھی اسی عرصے کے دوران جنسی حملہ کیا تھا۔

لارڈ نذیر احمد نے ان الزامات کو مسترد کیا تھا، لیکن استغاثہ نے سال دو ہزار سولہ میں نذیر احمد کے ہاتھوں جنسی حملوں کے شکار دونوں افراد کی آپس میں ہونے والی گفتگو کو حوالہ بناتے ہوئے یہ دعویٰ کیا کہ یہ گفتگو ظاہر کرتی ہے کہ الزامات بے بنیاد نہیں ہیں اور ان کو تراشا نہیں گیا ہے۔

لارڈ نذیر احمد کے ساتھ ساتھ ان کے بھائیوں 71 سالہ محمد فاروق اور 65 سالہ محمد طارق پر بھی اسی لڑکی اور لڑکے کے خلاف جنسی حملے کے الزامات عائد کیے گئے تھے، لیکن دونوں کے بارے میں یہ کہا گیا کہ وہ مقدمے کا سامنا کرنے کے لیے 'فٹ' نہیں ہیں تاہم دنوں بھائیوں کے بارے میں بھی جیوری نے شواہد کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ کیا کہ وہ بھی جرم کے مرتکب ہوئے تھے۔

لارڈ نذیر احمد نے نومبر 2020 میں ہاوس آف لارڈز سے اس وقت استعفی دے دیا تھا جب ہاوس کی کنڈکٹ کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ نذیر احمد سال 2017 میں ایک 43 سالہ پاکستانی نژاد برطانوی خاتون سے جنسی اور جذباتی استحصال کے مرتکب ہوئے ہیں۔ اور ان کے رویے کو 'مس کنڈکٹ' قرار دیا گیا تھا۔

یہ انکوائری اس کے بعد ہوئی تھی جب بی بی سی نے لارڈ نذیر احمد سے متعلق تحقیقاتی رپورٹ جاری کی تھی۔ اگر لارڈ نذیر اس وقت مستعفی نہ ہوتے تو، رائج طریقہ کار کے مطابق، ہاوس کی کنڈکٹ کمیٹی کی رپورٹ کو دیکھتے ہوئے ان کو ہاوس سے نکال دیا جانا تھا اور ہاوس آف لارڈز کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوتا کہ کسی رکن کو اس طرح کے رویے کے سبب ہاوس کی رکنیت سے محروم کیا جاتا۔

لارڈ نذیر احمد کو لیبر پارٹی کے لیے طویل عرصہ کام کرنے پر سال 2019 میں ہاوس آف لارڈز کا رکن بنایا تھا۔ وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والے پہلے مسلمان رکن تھے۔ اس سے قبل 1998 میں ان کو وزیراعظم ٹونی بلئیر کی سفارش پر ’ لائف پئیر‘ بنایا گیا تھا جو کہ برطانوی نظام میں بہت ہی نوبیل ذمہ داری ہوتی ہے۔

جس خاتون کے ساتھ نازیبا رویے کی بنیاد پر ہاوس نے انکوائری کی اور نذیر احمد نے استعفی دیا وہ اس مقدمے سے الگ معاملہ ہے جس میں مدعا علیہہ کو عدالت نے قصوروار پایا ہے۔

شیفیلڈ کورٹ مقدمے میں قصووار ٹھہرائے جانے والے نذیر احمد کے خلاف سزا کا تعین فروری میں کرے گی۔

برطانیہ میں کمیونٹی رہنماؤں کا ردِ عمل

بیرسٹر امجد ملک مانچسٹر میں مقیم ہیں اور اسی علاقے میں پریکٹس کرتے ہیں جو لارڈ نذیر احمد کے حلقے کا حصہ ہے۔

’’اس مقدمے کے میرٹ پر تو رائے نہیں دی جا سکتی کہ عدالت نے، جیوری نے فیصلہ دیا ہے اور ایک ٹرائل کے بعد یہ فیصلہ آیا ہے جس میں دونوں فریقوں کے وکلا دلائل دیتے رہے ہیں۔ یہ ضرور ہے کہ جب عدالت سزا کا تعین کرے گی تو اس کے سامنے یہ بات ضرور ہو گی کہ جب جرم سزد ہوا تو مدعا علیہہ کی اپنی عمر کیا تھی۔ عام طور پر ایسے مقدمات میں کم عمر ملزمان کو پانچ سے سات سال کی جیل کی سزا دی جاتی ہے اور اس سزا کے دوران مقصد اصلاح ہوتا ہے کہ جب جرم کا ارتکاب کرنے والا شخص دوبارہ معاشرے میں جائے تو ایک بہتر شہری کے طور پر زندگی گزار سکے۔‘‘

امجد ملک کے خیال میں جوونائل کیسز میں کمیونٹی کی خدمت کا کام تفویض کیا جاتا ہے۔ اگر لارڈ نذیر احمد کو سامنے رکھیں تو انہوں نے پچھلے چالیس سال یا اس سے بھی زیادہ عرصے تک کمیونٹی کی خدمت کی ہے اور بہت کام کیا ہے۔ یہ امکان ہو سکتا ہے کہ ان کو سزا تو دی جائے لیکن یہ ’کسٹڈی‘ کے بغیر سزا ہو۔ لیکن بیرسٹر امجد کے بقول جج صاحب کے سامنے یہ بات بھی ہو گی کہ ان کی طرف سے مجوزہ سزا میں یہ تاثر نہ جائے کہ نذیر احمد کی ہاوس کی سابقہ رکنیت یا سیاسی قد کاٹھ کو مد نظر رکھا گیا ہے۔

بیرسٹر امجد ملک کہتے ہیں کہ قانون اور آئین کے سامنے سر تسلیم خم، کوئی بھی برطانوی پاکستانی شخص کسی بھی جرم کی حمایت نہیں کر سکتا۔ جو کچھ ہوا ہے، بہت افسوسناک ہے۔ سزا کی حیثیت پر بھی کوئی سوال نہیں اٹھا سکتا، البتہ کئی ذہنوں میں یہ خیال ضرور آتا ہے کہ کشمیر اور فلسطین کے لیے ایک جاندار آوازخاموش کرا دی گئی ہے۔

برطانیہ میں پاکستانی نژاد ایک رکن پارلیمنٹ نے اپنا نام صیغہ راز میں رکھنے کی شرط پر اس مقدمے کے حوالے سے ردعمل دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ کسی سازشی نظریے پر یقین نہیں رکھتے کہ لارڈ نذیر احمد کو ان کے نظریات یا ان کی کسی کاز پر آواز کی وجہ سے گرفت میں لیا گیا ہے۔ سزا ہوئی ہے اور باقاعدہ دونوں فریقوں کے وکلا کے دلائل سننے کے بعد اور مقدمے کی تفصیل سے سماعت کے بعد۔ اس کیس میں چونکہ بظاہر اپنی ہی کمیونٹی کے لوگ مدعی ہیں تو ایسا سوچنا محال ہے کہ ان کے خلاف باقاعدہ کوشش سے مقدمہ بنایا گیا ہے۔

’’یہ فیملی کے لوگ ہیں۔ یہ تو نہیں کہ ان کو فریم کیا گیا ہے۔ زیادہ سے زیادہ کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ خاندان کے درمیان کسی مخاصمت کو برا رنگ دیا گیا ہے۔ میں بس یہی کہوں گا کہ میں اس پر بات کرتے ہوئے دقت محسوس کر رہا ہوں۔‘‘

انہوں نے کہا کہ مغربی معاشرے اس طرح کےجرائم میں بہت حساس ہیں اور ایک برطانوی شاہی خاندان کے رکن کو امریکہ میں مقدمے کا سامنا ہے۔

لارڈ نذیر احمد کے حوالے سے رکن پارلیمنٹ نے مزید کہا، ’’مجھے بہت دکھ ہے لارڈ نذیر احمد کو دیکھ کر کہ وہ جس جگہ کھڑے ہیں۔ تاہم میں یہ تسلیم کرتا ہوں کہ ان کا کنٹری بیوشن غیر معمولی رہا ہے۔‘‘

کیا نصف صدی گزر جانے سے جرم کی نوعیت پر فرق پڑتا ہے؟

اپنا نام صیغہ راز میں رکھنے کی شرط پر وائس آف امریکہ سے گفتگو کرنے والے برطانوی رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ جرم کے نئے یا پرانے ہونے سے فرق نہیں پڑتا۔ ’’میں نے کرمنل لا پڑھ رکھا ہے، وقت کے عنصر کا کوئی مسئلہ نہیں ہے، مشکلات شہادتوں پر ہوتی ہیں۔ جرم جتنا پرانا ہو وہ جرم ہی رہتا ہے۔ یہ اپنی نوعیت کا منفرد کیس نہیں ہے۔ ملکہ کے بیٹے کے خلاف امریکہ میں مقدمہ چل رہا ہے اور وہ بھی پرانا کیس ہے۔ البتہ، یہ ایک ضروری پہلو ہے جب جرم سرزد ہوا اس وقت فریقین کی عمر کیا تھی، اگر دونوں کم عمر ہوں، بچے ہوں تو اس کو اور طرح سے دیکھا جاتا ہے، اگر ایک فریق بالغ ہو اور دوسری فریق نابالغ تو اس کو اور طرح سے دیکھا جاتا ہے۔ (سزا سناتے ہوئے ) جج اس پہلو کو بھی دیکھتے ہیں‘‘

بیرسٹر امجد ملک بھی اس طرح کی رائے دیتے ہیں۔

اس طرح کے جرم میں کیا سزا کے خلاف اپیل ہو سکتی ہے؟

بیرسٹر امجد ملک کہتے ہیں کہ ابھی ان کو قصور وار ٹھہرایا گیا ہے۔ اس کے بعد جج ’پروبیشن رپورٹ‘ مانگیں گے جس میں انتظامیہ ملزم یا مجرم کے پس منظر اور کنڈکٹ سے متعلق رپورٹ فراہم کرتی ہے۔ پھر وکیل سزا کے بارے میں جج کو مشورہ دے سکتے ہیں۔ ملزم کے وکیل کوشش کرتے ہیں کہ سزا کم سے کم ہو۔ لارڈ نذیر احمد کے وکیل کو کوشش ہو گی کہ ’ نان کسٹڈی‘ سزا ہو۔ اس سزا سے مراد یہ ہے کہ مدعا علیہہ کو کمیونٹی سروس دینے کا کہا جا سکتا ہے، کچھ تعلیمی کورسز پڑھنے کے لیے کہا جا سکتا ہے، جرمانہ بھی ہو سکتا ہے۔

امجد ملک پراسیجرز کے بارے میں بتاتے ہیں کہ اگر کسٹڈی میں لینے کی سزا ہو تو مدعا علیہہ کو فورا گرفتار کر کے جیل بھیج دیا جاتا ہے جس کے بعد 14 سے 28 دن کے اندر کورٹ آف اپیل لندن میں جا کر اپیل کرنا پڑتی ہے۔ اور اپیلٹ کورٹ بھی نئے سرے سے پورا مقدمہ دوبارہ نہیں سنتی بلکہ نچلی عدالت میں چلائے گئے مقدمے کا ٹرانسکرپٹ پڑھ کر فریقوں سے نئے دلائل مانگتی ہے اور عام طور پر جلد فیصلہ دے دیتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ واضح نہیں ہے کہ لارڈ نذیر احمد اور ان کے وکلا نے کیا تیاری کر رکھی ہے۔ ممکن ہے کہ وہ سزا سنائے جانے کے بعد اگلے لائحہ عمل کا فیصلہ کریں۔

مقدمے کے مدعی کون ہیں؟

جنسی طور پر ہراساں کیے جانے والے، ستر کی دہائی کے کم عمر لڑکے اور لڑکی کی شناخت کو خفیہ رکھا گیا ہے۔ اکا دکا میڈیا رپورٹس میں مدعین کا نام آیا ہے لیکن پاکستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے تعلق رکھنے والی برطانیہ میں موجود کمیونٹی اس بارے میں زیادہ معلومات نہیں رکھتی۔ تاہم، اس بارے میں یہ رائے عام ہے کہ مدعی افراد کا تعلق کشمیری کمیونیٹی اور خاندان سے یا خاندان کے قریبی تعلق داروں سے ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG