رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا متاثرین کی تعداد 10 لاکھ ہوگئی، کراچی میں ڈیلٹا قسم کے کیسز میں 100 فی صد اضافہ


سندھ کا صوبائی دارالحکومت اور ملک کا سب سے بڑا شہر کراچی وبا سے سب زیادہ متاثر دکھائی دیتا ہے۔ (فائل فوٹو)

پاکستان میں عیدالاضحیٰ کی تعطیلات کے دوران کرونا وبا سے متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافے کا سلسلہ جاری رہا اور ملک میں وبا سے متاثر ہونے والوں کی مجموعی تعداد 10 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔ جب کہ وبا سے متاثرہ 23 ہزار کے قریب افراد جان کی بازی ہار گئے۔

اگر ملک میں گزشتہ ایک ہفتے کا جائزہ لیا جائے تو مثبت کیسز کی شرح چار سے چھ فی صد کے درمیان رہی ہے۔ البتہ دوسری جانب سندھ میں کیسز کی شرح قومی شرح سے کہیں بلند ریکارڈ کی جا رہی ہے۔ جب کہ ملک میں کرونا کے سب سے زیادہ کیسز بھی اسی صوبے میں رپورٹ کیے گئے جہاں اب تک کے اعداد و شمار کے مطابق تین لاکھ 63 ہزار 101 کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں۔

کراچی میں ٹیسٹ مثبت آنے کی شرح 21 فی صد سے زائد

صوبائی دارالحکومت اور ملک کا سب سے بڑا شہر کراچی وبا سے سب زیادہ متاثر دکھائی دیتا ہے جہاں گزشتہ ہفتے کے اعداد و شمار کے مطابق ٹیست مثبت آنے کی شرح 21 فی صد سے بھی بلند ریکارڈ کی گئی۔

کراچی میں کیسز میں غیر معمولی اضافے کا رجحان مسلسل برقرار رہنے اور وائرس کے ڈیلٹا ویرینٹ کے کیسز کی تعداد میں اضافے پر جمعے کو صوبائی حکومت نے فوری طور پر ریستوران اور شادی ہالز میں ان ڈور اور آؤٹ ڈور ڈائننگ بند کرنے کا فیصلہ کیا۔

کراچی میں کچھ ایس او پیز کے ساتھ ٹیک اوے سروس جاری رہے گی۔ جب کہ تمام مزار، درگاہیں، تفریحی مقامات اور حال ہی میں کھلنے والے تعلیمی اداروں کو بھی بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ البتہ امتحانات شیڈول کے مطابق لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اسی طرح بازاروں اور مارکیٹس کے اوقات پیر سے صبح چھ بجے سے شام چھ بجے تک کر دیے گئے ہیں۔ جب کہ فارمیسیز اور بیکرییز معمول کے مطابق کام کریں گی لیکن دو دن جمعہ اور اتوار کو کاروبار مکمل طور پر بند رہیں گے۔

پاکستان میں ایک بار پھر کرونا کیسز بڑھنے لگے
please wait

No media source currently available

0:00 0:03:01 0:00

سرکاری اور نجی دفاتر میں 50 فی صد عملے کی حاضری کے ساتھ کام کیا جائے گا۔

سیکریٹری صحت ڈاکٹر کاظم جتوئی نے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ صوبے میں مجموعی طور پر کرونا کی تشخیصی شرح 10.3 فی صد ریکارڈ کی گئی ہے لیکن کراچی میں یہ 22جولائی 2021 کو 21.54 فیصد ہوگئی ہے۔ جب کہ 16 جولائی کو کراچی میں کرونا کے کیسز کی شرح 14.27 فی صد تھی۔

وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ یہ ایک خطرناک صورت حال ہے اور اگر اس پر قابو نہ پایا گیا تو صورت حال کنٹرول سے باہر ہو جائے گی۔

سیکریٹری صحت کاظم جتوئی نے اجلاس کو بتایا کہ 35 فی صد مریض اجتماعات، 23 فی صد شادی بیاہ کی تقریبات میں، 17 فی صد بین الاقوامی سفر کرنے سے متاثر ہوئے ہیں اور رواں ماہ جولائی میں اب تک 307 مریض وبا سے متاثر ہوکر انتقال کرچکے ہیں۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ اسپتالوں میں داخل ہونے والے کُل 1002 کرونا کے مریضوں میں سے 85 فی صد کو ویکسین نہیں لگائی گئی تھی جب کہ 15 فی صد ایسے افراد بھی تھے جو ویکسین لگوا چکے تھے۔ تاہم ویکسین کرانے والے مریضوں میں ہلکی علامات تھیں۔

اسپتالوں میں داخل ہونے والے مریضوں پر کی جانے والی ایک اور تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ 76 فی صد افراد کو ویکسی نیشن کی پہلی خوراک ملی تھی اور 24 فی صد کو مکمل ویکسی نیشن ہو چکی تھی۔ تاہم مکمل طور پر ویکسی نیشن کرانے والے مریضوں کے مقابلے میں ایک خوراک حاصل کرنے والے مریضوں میں انفیکشن کی شدت زیادہ تھی۔ جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ویکسی نیشن ضروری ہے۔

'ویکسین نہ لگوانے والوں کی موبائل سمز بند کی جائیں'

وزیرِ اعلیٰ سندھ نے سیکریٹری خزانہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ ویکسین نہ لگوانے والے سرکاری ملازمین کی تنخواہ روکنے کے لیے اکاؤنٹنٹ جنرل سندھ سے رابطہ کریں۔

ادھر صوبائی حکومت کے ترجمان بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت نے یہ بھی طے کیا ہے کہ وہ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے ) کو خط لکھے گی کہ اب تک ویکسین شروع نہ کرانے والے شہریوں کی موبائل فون سمز بند کردی جائیں۔

ڈیلٹا ویرنیٹ کے کیسز میں 100 فی صد اضافہ

جامعہ کراچی میں قائم نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف وائرولوجی کے مطابق کراچی میں ڈیلٹا ویرینٹ کی شرح 100 فی صد بڑھ گئی ہے۔

منگل کو انسٹی ٹیوٹ میں گزشتہ روز 80 کی جینو ٹائپنگ کی گئی جن میں تمام ڈیلٹا ویرینٹ کے کیسز نکلے۔

دوسری جانب شہر کے کئی اسپتالوں میں کرونا کے مریضوں کے لیے مختص کوئی بیڈ خالی نہیں ہے۔ جن میں سول اسپتال، جناح اسپتال کے بعض بلاکس، انفیکشس ڈیزیز اسپتال گلشن اقبال اور دیگر اسپتال شامل ہیں۔

'ہمہ جہتی کام کرکے وائرس کو پھیلاؤ سے روکنا ہوگا'

کرونا پر کی جانے والی تحقیق سے منسلک ڈاؤ کالج آف بائیو ٹیکنالوجی کے پرنسپل ڈاکٹر شوکت علی کا کہنا ہے کہ اس وقت شہر میں کرونا سے متعلق صورت حال واقعتاً بہت تشویش ناک ہوچکی ہے۔ جب کہ کرونا کے نئے نئے ویرینٹس جو زیادہ طاقت ور ہوسکتے ہیں، سامنے آتے رہیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسی صورتِ حال سے سائنسی انداز اور جدید طریقوں سے نمٹنا ہوگا جب کہ دوسری جانب احتیاطی تدابیر جیسا کہ ماسک کا استعمال اور سماجی فاصلے کو بھی برقرار رکھنا ہو گا کیوں کہ لاک ڈاؤن کوئی مستقل حل نہیں ہے جس سے لوگ بیزار آ جاتے ہیں اور معاشی طور پر بھی یہ نقصان دہ ثابت ہوا ہے۔

ڈاکٹر شوکت کا کہنا تھا کہ تحقیق بتاتی ہے کہ ویکیسی نیشن سے اثر تو پڑ رہا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی احتیاط بھی ضروری ہے۔ یعنی لوگوں کو ویکسین لگوانے کے لیے بھی ان کی حوصلہ افزائی یا انہیں راغب کرنے کی ضرورت ہے۔ دوسرے الفاظ میں ان کے بقول ہمیں مختلف جہتوں پر کام کرکے وائرس کو روکنا ہوگا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG