رسائی کے لنکس

ایک سنگین واقعے نے کرونا وبا کے خلاف کوششوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے: شمالی کوریا


کم جونگ ان فائل فوٹو

شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان نے خبردار کیا ہے کہ ایک سنگین واقعے نے ان کے ملک کی کرونا وبا کے خلاف کوششوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

شمالی کوریا خود کو کووڈ نائنٹین سے پاک ملک قرار دیتا ہے، اس کی طرف سے اس سے پہلے ناکامی کا ایسا اعتراف کم ہی سامنے آیا ہے۔

برسر اقتدار ورکرز پارٹی کے ایک اجلاس کے دوران کم جونگ ان نے سینیئر اہلکاروں کے غفلت برتنے پر ان پر برہمی کا اظہار کیا۔

ریاستی سینٹرل نیوز ایجنسی کے مطابق سرکاری اہلکاروں کی غفلت نے ایک سنگین واقعے کو جنم دیا ہے جس سے شمالی کوریا کی قوم کو محفوظ رکھنے کی راہ میں ایک بڑا بحران پیدا ہوگیا ہے۔

البتہ خبر رساں ادارے نے اس بارے میں کوئی تفصیل نہیں دی کہ یہ سنگین واقعہ کیسے ایک خطرہ بن گیا ہے۔

اس سے قبل شمالی کوریا یہ دعویٰ کرتا آیا ہے کہ ملک میں کووڈ نائنٹین کا کوئی بھی کیس سامنے نہیں آیا۔ صحت کے عالمی ماہرین نے اس ناممکن دعویے کو ماننے سے انکار کردیا ہے۔

ابھی یہ بھی واضح نہیں ہو سکا ہے کہ شمالی کوریا کے ناکامی کے اس اعتراف کا مقصد ملک کی وائرس کے خلاف کوششوں میں تبدیلی کو ظاہر کرنا ہے یا کہ یہ ملک کے اندرونی منصوبوں کے لیے کوئی نیا بہانہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق کئی سرکاری اہلکاروں کو تبدیل کردیا گیا ہے لیکن یہ واضح نہیں کہ کہ آیا ان تبدیلیوں کا تعلق کروناوائرس کے واقعے سے ہے یا نہیں۔

اس موضوع پر بات کرتے ہوئے جنوبی کوریا کی ہانکوک یونیورسٹی برائے بیرونی مطالعہ کے پروفیسر میسن رچی کہتے ہیں کہ یہ عین ممکن ہے کہ حکومت چند ناپسندیدہ عناصر کو ان کے عہدوں سے ہٹاکر رہنما کم کے خوف پر مبنی اقتدار کی یاد دہانی کرا رہی ہے۔

ان کے مطابق اس عوامی سطح پر دیے گئے بیان کو آیندہ اقتصادی تنزلی کے لیے ایک بنے بنائے بہانے کے طور پر بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

یاد رہے کہ جنوری 2020 سے شمالی کوریا نے اپنے بارڈرز بند کررکھے ہیں،ملک کے اندر سفر کو محدود کردیا ہےاور چین جو کہ اس کی معیشت کا سب سے بڑا سہاراہے، اس سے تمام تجارت بھی ختم کر دی ہے۔

اقوام متحدہ کے کوویکس ویکسین کے تحت ایسٹرا زینیکا ویکسین کی بیس لاکھ خوراکین شمالی کوریا کو پہنچائی جانی تھیں لیکن شمالی کوریا اور کوویکس کے درمیان مذاکرات کے باعث ویکسین کی ترسیل موخر ہوگئی ہے۔

ماہرین کے مطابق عالمی وبا کا شمالی کوریا میں پھیلنا انتہائی خطرناک ہو گا کیونکہ ملک کے بہت سے حصوں میں لوگ مفلسی کا شکارہیں اور ملک میں صحت کا مناسب نظام بھی قائم نہیں ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق شمالی کوریا نے کہا ہے کہ اس نے ملک میں کووڈ نائنٹین کے اکتیس ہزار ٹیسٹ کرائے لیکن تمام نتائج منفی رہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG