رسائی کے لنکس

نیوزی لینڈ کی واپسی: پاکستان کرکٹ کے لیے سیریز منسوخ ہونے کا معاملہ نیا نہیں


فائل فوٹو

پاکستان کے دورے پر آئی ہوئی نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم نے پہلے ایک روزہ میچ سے کچھ دیر قبل دورہٴ پاکستان ختم کرنے کا اعلان کیا کیوں کہ انہیں سیریز کے دوران دہشت گردی کا خطرہ تھا۔

ایک طرف کیویز کے اس یک طرفہ فیصلے پر شائقین کرکٹ کو مایوسی ہوئی وہیں نیوزی لینڈ نے پاکستان کی تاریخ میں ایک منفرد مقام بھی حاصل کرلیا۔

بلیک کیپس دنیا کی پہلی ٹیم بن گئی جس نے سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر دوسری مرتبہ میچ سے چند گھنٹے قبل وطن واپس جانے کو ترجیح دی۔

یہ پہلا موقع نہیں جب کوئی کرکٹ ٹیم پاکستان آ کر دورہ مکمل کیے بغیر واپس چلی گئی ہو۔

نیوزی لینڈ سے پہلے کئی کرکٹ ٹیمیں پاکستان پہنچ تو پروگرام کے مطابق گئی تھیں لیکن ان کی واپسی کسی برے واقعے کی وجہ سے ہوئی۔

آئیے بین الاقوامی ٹیموں کے ایسے دوروں پر نظر ڈالتے ہیں جو شروع تو ہوئے اپنے وقت پر لیکن جن کا اختتام کسی کے اختیار میں نہ تھا۔

بھارت کی وزیرِ اعظم اندرا گاندھی کا قتل

پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں 31 اکتوبر 1984 کو سیالکوٹ میں سیریز کے دوسرے ون ڈے میچ میں مد مقابل تھیں۔ 40 اوورز تک محدود کیے جانے والے میچ میں اس وقت کی عالمی چیمپئن بھارت نے تین وکٹوں پر 210 رنز بنا کر پاکستان کو تین میچ کی سیریز میں فیصلہ کن برتری حاصل کرنے کے لیے 211 رنز کا ہدف دیا تھا۔

لیکن قسمت کو شاید کچھ اور ہی منظور تھا اور بھارت کی ٹیم کو میچ اور دورہ دونوں نامکمل چھوڑ کر اس وقت وطن واپس جانا پڑا جب انہیں خبر ملی کہ بھارت کی وزیرِ اعظم اندرا گاندھی کو انہی کے محافظ نے فائرنگ کرکے زخمی کر دیا ہے۔

اس واقعے کی مکمل تفصیلات اور بھارت کی وزیرِ اعظم کی ہلاکت کی خبر اس وقت تک مہمان کھلاڑیوں کو موصول نہیں ہوئی جب تک وہ اننگز بریک کے بعد اپنے ہوٹل نہ پہنچ گئے۔

تین میچز پر مشتمل ون ڈے اور تین کی میچوں کی ٹیسٹ سیریز کو دو ٹیسٹ اور ایک ون ڈے میچ کے بعد منسوخ کرنے کا فیصلہ کسی اور کا نہیں بلکہ صدر پاکستان جنرل ضیاء الحق کا تھا۔ جنہوں نے سیریز ختم کرنے کے لیے اس وقت سیالکوٹ کے ڈپٹی کمشنر اسماعیل قریشی کی مدد لی۔

نائن الیون حملے اور نیوزی لینڈ کا دورہٴ پاکستان

گیارہ ستمبر 2001 کو جب نیوزی لینڈ کی ٹیم براستہ سنگاپور پاکستان آ رہی تھی تو ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ انہیں آدھے راستے سے ہی وطن واپس جانا پڑ جائے گا۔

وہاں امریکی شہر نیویارک میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر سے دو جہاز ٹکرائے اور یہاں سنگاپور میں موجود کیوی ٹیم کو وطن واپس بلالیا گیا۔ گو کہ یہ دورہ شروع ہونے سے پہلے ہی ملتوی کر دیا گیا تھا البتہ اگلے سال بلیک کیپس اپنے نہ مکمل دورے کو مکمل کرنے کے لیے پاکستان آئے تاہم قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔

کراچی دھماکہ اور نیوزی لینڈ کی واپسی

سن 2001 میں پاکستان کا دورہ نہ کر پانے والی نیوزی لینڈ کی ٹیم اگلے سال مارچ، اپریل میں اپنا دورہ مکمل کرنے کے لیے پاکستان آئی۔

تین میچز پر مشتمل ون ڈے سیریز میں شکست کے بعد کیوی ٹیم کو لاہور میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میں بھی شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ البتہ دوسرے ٹیسٹ میچ سے قبل مہمان ٹیم سیریز میں کم بیک کے لیے پرامید تھی۔

نیوزی لینڈ کی ٹیم کراچی کے ریڈ زون میں واقع پرل کانٹی نینٹل ہوٹل میں موجود تھی جس کے برابر میں واقع شیرٹن ہوٹل میں فرانس سے آئے ہوئے چند نیوی کے افسران ٹھیرے ہوئے تھے جنہیں پاکستان نیوی کے ساتھ ایک بحری آبدوز پر کام کرنا تھا۔

جس وقت کیوی ٹیم نیشنل اسٹیڈیم جانے کے لیے تیاری کر رہی تھی۔ عین اسی وقت دہشت گردی کا ایک واقعہ ہوٹل کے باہر پیش آیا جس سے شیرٹن ہوٹل کے ساتھ واقع پرل کانٹی نینٹل ہوٹل کو بھی نقصان پہنچا۔

اس واقعے میں 11 فرانسیسی نیول انجینئرز اور دو پاکستانیوں سمیت مجموعی طور پر 14 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اسٹیفن فلیمنگ کی قیادت میں آئی ہوئی کیوی ٹیم کے لیے یہ واقعہ اس لیے بھی انہونہ تھا کیوں کہ ان کے ملک میں ایسے واقعے نہ ہونے کے برابر ہوتے تھے۔

اس واقعے کے بعد کیویز کا ٹیسٹ میچ اور دورہ چھوڑ کر جانا کسی کو عجیب نہیں لگا۔

سری لنکن ٹیم پر حملے نے پاکستان کرکٹ کو کئی برس پیچھے کر دیا

تین مارچ 2009 کی صبح شائقین کرکٹ انتظار کر رہے تھے کہ کب سری لنکا اور پاکستان کی کرکٹ ٹیمیں قذافی اسٹیڈیم پہنچیں گی اور کب دوسرے ٹیسٹ کے تیسرے دن کا کھیل شروع ہو گا۔ البتہ ایک ناخوش گوار واقعے نے شائقین کرکٹ کے انتظار کو طویل اور پاکستان کرکٹ کو کئی سال پیچھے دھکیل دیا۔

یہ واقعہ لاہورمیں اس وقت پیش آیا جب چند مسلح دہشت گردوں نے سری لنکا کی کرکٹ ٹیم کی بس کو قذافی اسٹیڈیم کے نزدیک نشانہ بنایا۔

دہشت گردی کے اس واقعے میں مہمان ٹیم کے کھلاڑی تو محفوظ رہے۔ تاہم پولیس کے پانچ اہل کار ہلاک ہوئے۔

حملے کے فوراً بعد ہی سری لنکا کی کرکٹ ٹیم کو قذافی اسٹیڈیم سے ہیلی کاپٹرز کے ذریعے ائیرپورٹ روانہ کیا گیا جہاں سے انہیں وطن واپس روانہ کر دیا گیا۔

یہ دورہ تو ایک ہی ٹیسٹ میچ کے بعد ختم کر دیا گیا۔ لیکن اس افسوس ناک واقعے سے جو نقصان پاکستان کرکٹ کو پہنچا، اس سے نکلنے کے لیے پوری قوم کو 10 سال لگے۔

کیویز کے موجودہ یک طرفہ فیصلے کو سب ہی نے تنقید کا نشانہ بنایا

نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم کو دنیا بھر میں ان کے فیئر پلے کی وجہ سے جانا جاتا ہے لیکن نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ اور ان کی حکومت کے حالیہ یک طرفہ فیصلے کے بعد نہ صرف پاکستان میں ان کی مقبولیت میں کمی آئی، بلکہ خود ان کے اپنے سابق کھلاڑیوں نے اسے تنقید کا نشانہ بنایا۔

سابق کیوی فاسٹ بالر ڈینی موریسن جو گزشتہ کئی برس سے پاکستان آکر کمنٹری کے فرائض انجام دے رہے ہیں، انہوں نے اپنے ہی بورڈ کے فیصلے کو افسوس ناک قرار دیا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے ہائی پرفارمنس سینٹر کے سربراہ گرانٹ بریڈ برن جن کا تعلق نیوزی لینڈ سے ہے، اس دن کو پاکستان کرکٹ کے لیے سیاہ دن قرار دیتے ہیں۔

سابق کیوی کھلاڑی گرانٹ ایلیٹ نے بھی اس فیصلے پر دکھ اور غم کا اظہار کرتے ہوئے پاکستانی کھلاڑیوں اور مداحوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG