رسائی کے لنکس

قومی اقتصادی کونسل سے بجٹ اہداف کی منظوری، سندھ کا اختلاف کیا ہے؟


وزیرِ اعلی سندھ مراد علی شاہ

پاکستان کے معاشی فیصلہ سازی کے سب سے بڑے فورم قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) نے وزیرِ اعظم عمران خان کی زیرِ صدارت آئندہ مالی سال کے بجٹ اہداف کی منظوری دی ہے۔ تاہم سندھ کے وزیر اعلٰی مراد علی شاہ نے مبینہ طور پر صوبے کی سفارشات کو نظر انداز کرنے پر احتجاج کیا ہے۔

وزیرِ اعظم پاکستان کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق (این ای سی) نے آئندہ برس کے لیے 2135 ارب روپے ترقیاتی بجٹ کے لیے رکھے گئے ہیں۔ معاشی شرح نمو کا ہدف 4.8 فی صد مقرر کیا گیا ہے۔

تقریباً 2135 ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ میں وفاقی ترقیاتی پروگرام کا حجم 900 ارب روپے اور صوبوں کو 1235 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈ دیے جائیں گے۔

صوبوں کے لیے مختص 1235 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ رواں برس کے 877 ارب روپے کے نظرِثانی شدہ تخمینے سے تقریباً 41 فی صد زیادہ ہے۔

منگل کو ہونے والے 'این ای سی' کے اس اجلاس میں چاروں صوبائی وزرائے اعلی، وزیرِ خزانہ، وزیر منصوبہ بندی، وزیر اقتصادی امور کے علاوہ متعلقہ وفاقی و صوبائی سیکرٹری شریک ہوئے۔

وفاق کے 900 ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ میں سے 526 ارب روپے وفاقی وزارتوں اور ڈویژنز کے لیے رکھے گئے ہیں۔ ٹرانسپورٹ اور مواصلات کے لیے 291 ارب 94 کروڑ روپے، توانائی کے شعبے کے لیے 120 ارب 88 کروڑ روپے اور آبی وسائل کے منصوبوں کے لیے 105 ارب 22 کروڑ روپے مختص کیے گئے۔

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر اور گلگت بلتستان کے لیے 43 ارب، ضم شدہ قبائلی اضلاع کے لیے 54 ارب، پائیدار ترقی کے اہداف کے لیے 74 ارب، اعلٰی تعلیمی کمیشن کے لیے 43 ارب 38 کروڑ روپے، ماحولیات کے لیے 15 ارب 46 کروڑ اور سائنس و ٹیکنالوجی کے لیے 31 ارب 33 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

صحت کے منصوبوں کے لیے 31 ارب سے زائد اور خوراک و زراعت کے لیے 12 ارب روپے سے زائد کی رقم رکھی گئی ہے۔

اجلاس میں مالی سال 22-2021 کے لیے میکرو اکنامک فریم ورک کی منظوری دی گئی جس میں شعبہ جاتی نمو کا ہدف زراعت میں 3.5 فی صد، صنعتی شعبے میں 6.5 فی صد، خدمات کے شعبے میں 4.8 فی صد جب کہ افراط زر کا ہدف آٹھ فی صد ہو گا۔

وزارتِ منصوبہ بندی کی جانب سے رواں مالی سال کا پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام پیش کیا گیا اور بتایا گیا کہ رواں مالی سال کے لیے ترقیاتی بجٹ نظرِثانی تخمینوں کے مطابق 1527 ارب روپے رہے گا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ پی ایس ڈی پی کا محور انفراسٹرکچر کی بہتری، آبی وسائل کی ڈویلپمنٹ، سوشل سیکٹر کی بہتری، علاقائی مساوات، اِسکل ڈویلپمنٹ، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کا فروغ اور ماحولیات کے حوالے سے اقدامات ہوں گے۔

بجٹ پر سندھ کا اختلاف کیا ہے؟

وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور صوبائی کابینہ کے رکن نثار کھوڑو نے 'این ای سی' کے منظور کردہ بجٹ اہداف میں اُن کے بقول سندھ کو نظر انداز کیے جانے پر اعتراض اٹھاتے ہوئے این ای سی کی کارروائی پر اختلافی نوٹ بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پیر کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ 'این ای سی' میں بجٹ اتفاق رائے سے نہیں بلکہ کثرت رائے سے منظور کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وفاق نے ترقیاتی بجٹ میں بعض اسکیموں کو شامل کرنے پر صوبوں سے مشاورت نہیں کی جس پر انہوں نے احتجاج ریکارڈ کروایا ہے۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ وزیرِ اعظم عمران خان نے اتفاق کیا کہ ترقیاتی پروگرام کو حتمی شکل دینے میں صوبوں کے ساتھ مشاورت نہیں کی گئی ہے اور اس کے باوجود انہوں نے صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا۔

وزیرِ اعلی سندھ کا کہنا تھا کہ صوبے کو جو ترقیاتی فنڈز دیے جاتے تھے ان میں بہت کمی کر دی گئی ہے۔

منگل کو کراچی میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے ایک بار پھر وفاق سے شکوے کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کو اس کے حق سے محروم نہ کیا جائے۔

مراد علی شاہ کی پریس کانفرنس پر ردِ عمل دیتے ہوئے وزیرِ اعظم پاکستان کے معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل نے کہا کہ مراد علی شاہ نے اپنی پریس کانفرنس میں صوبائیت کو ہوا دی۔

اُن کا کہنا تھا کہ مراد علی شاہ نے غلط اعدادوشمار پیش کیے کیوں کہ گزشتہ دو برسوں میں پنجاب کے مقابلے میں سندھ کو زیادہ فنڈز دیے گئے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG