رسائی کے لنکس

ترکی کابل ایئرپورٹ کی حفاظت کے لیے رضامند ہو گیا، عرب اخبار کا دعویٰ


کابل کے حامد کرزئی ایرپورٹ کا فضا سے ایک منظر (رائٹرز)

ایک عرب اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ ترکی کابل ایئرپورٹ کی سیکیورٹی کی ذمہ داری سنبھالنے کے لیے مغربی ملکوں کے عسکری اتحاد (نیٹو) کے ساتھ ایک معاہدے پر رضامند ہو گیا ہے۔ دوسری طرف نیٹو نے کہا ہے کہ اںخلا کے بعد وہ افغانستان سے باہر افغان فورسز کی تربیت کا کام جاری رکھیں گے اور افغانستان کے اندر نیٹو کا سویلین عملہ موجود رہے گا۔

افغان وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ وہ نیٹو ممالک کی جانب سے افغان سیکیورٹی فورسز کی تربیت کے وعدے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔

افغانستان کی وزارتِ دفاع کے ترجمان روح اللہ احمد زئی نے وائس آف امریکہ کی افغان سروس سے گفتگو میں کہا ہے کہ افغان نیشنل سیکیورٹی کے لیے اندرونی اور بیرونی سطح پر مدد بہت ضروری ہے۔

نیٹو کے سیکریٹری جنرل ینز اسٹولٹنبرگ نے منگل کے روز برسلز میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے افغانستان کی سیکیورٹی فورسز کی تربیت کے امکانات کے بارے میں کہا کہ وہ اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ کس طرح افغان فورسز کی تربیت کا ملک سے باہر بندوبست کیا جا سکتا ہے۔

ان کے بقول، ’’ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہم کس طرح افغانستان سے باہر رہتے ہوئے افغان سیکیورٹی فورسز کو فوجی تعلیم اور تربیت دے سکتے ہیں بالخصوص اسپیشل آپریشن فورسزکو۔ ہم یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ کس طرح ہم سروسز کے لیے رقم مہیا کر سکتے ہیں جس سے اتحادی اور انٹرنیشنل کمیونٹی کابل کے اندر رہنے کے قابل ہو سکے بشمول کابل ایئرپورٹ کو مدد فراہم کرنے کے۔‘‘

نیٹو کے سیکریٹری جنرل یینز سٹولٹنبرگ پریس کانفرس کرتے ہوئے (فوٹو: اے ایف پی))
نیٹو کے سیکریٹری جنرل یینز سٹولٹنبرگ پریس کانفرس کرتے ہوئے (فوٹو: اے ایف پی))

اسٹولٹنبرگ کا کہنا تھا کہ ہم اس پر بھی کام کر رہے ہیں کہ کس طرح ہم اہم نوعیت کے انفراسٹرکچر کو قائم رکھ سکتے ہیں، جیسے کہ ائیرپورٹ اور دیگر انفراسٹرکچر۔ کیوں کہ یہ افغانستان کے اندر بین الاقوامی کمیونٹی کی موجودگی جاری رکھنے کے لیے بہت ضروری ہے۔

نیٹو کے سیکریٹری جنرل کا مزید کہنا تھا کہ نیٹو افغانستان سے اپنے فوجیں نکال رہا ہے لیکن ہم اپنی سویلین موجودگی کو برقرار رکھیں گے۔

’’ نیٹو افواج کی افغانستان میں تعداد ایک لاکھ سے کم ہو کر، اس سال کے شروع تک، دس ہزار رہ گئی تھی۔ اب یہ تعداد صفر ہونے جا رہی ہے۔ ہم اپنا فوجی مشن ختم کر رہے ہیں ،تاہم افغانستان کے لیے دیگر طریقوں سے مدد بڑھا رہے ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ کہ ہم افغانستان کے اندر اپنی سویلین موجودگی برقرار رکھیں گے تاکہ افغانستان کے سیکیورٹی اداروں کو مشاورت دے سکیں اور ان کی استعداد کار بڑھانے پر کام کر سکیں۔ ‘‘

ادھر افغان اور عرب ذرائع ابلاغ خبر دے رہے ہیں کہ ترکی کی حکومت کابل ایئرپورٹ کی سیکیورٹی کی ذمہ داری لینے کے لیے رضامند ہو گئی ہے۔

متحدہ عرب امارات سے انگریزی میں شائع ہونے والے اخبار ’دی نیشنل‘‘ نے افغان حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ ترکی کی حکومت نیٹو کے ساتھ ایک سو تیس ملین ڈالرکے معاہدے پر کابل ایئرپورٹ کی ذمہ داری سنبھالنے کے لیےتیار ہو گئی ہے۔

افغانستان کے مستقبل پر امریکی قانون ساز پریشان
please wait

No media source currently available

0:00 0:02:54 0:00

توقع کی جارہی ہے کہ سابق افغان صدر حامد کرزئی سے موسوم کابل کے اس ائیرپورٹ کے سیکیورٹی سے متعلق غیریقینی صورتحال کے خاتمے کا وسیع پیمانے پر خیرمقدم کیا جائے گا۔

نیٹو کے سینکڑوں فوجی یہاں تعینات ہیں جہاں سے سویلین اور فوجی جہازوں کی آمدورفت جاری رہتی ہے۔

اخبار نے افغانستان ایوی ایشن ایسوسی ایشن کے عہدیدار محمود شاہ عابدی کا بھی یہ کہتے ہوئے حوالہ دیا ہے کہ یہ بندوبست بین الاقوامی برادری کو ایک بہتر حل کی یقین دہانی کرائے گا کیونکہ طالبان نے کبھی ترکوں پر حملہ نہیں کیا۔

افغانستان کے ذرائع ابلاغ نے بھی اس خبر کو شہہ سرخیوں میں شائع کیا ہے۔

گیارہ ستمبر تک امریکی اور نیٹو افواج کے انخلا کی ڈیڈ لائن کے بعد بین الاقوامی برادری میں افغانستان آنے جانے سے متعلق تشویش پائی جاتی تھی۔

گزشتہ ہفتے برطانوی اخبار ’ دی سن‘ نے بھی اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ امریکہ کے صدر جو بائیڈن چاہتے ہیں کہ افغآنستان سے بین الاقوامی افواج کے انخلا کے بعد کابل ائیر پورٹ کی سیکیورٹی کے لیے ترکی کے فوجی دستے وہاں تعینات رکھے جائیں۔ اخبار نے بتایا تھا کہ اس وقت ترکی کے چھ سو فوجی نیٹو فوج میں شامل ہیں اور افغانستان میں تعینات ہیں۔

کابل ائیرپورٹ کی سیکیورٹی کی ذمہ داری ترک فوجوں کو دینے کی منصوبہ بندی کے پیچھے یہ سوچ کار فرما ہے کہ طالبان اس فوجی دستے کو ’غیر مسلم‘ قرار نہیں دے سکتے اور ان پر حملوں سے گریز کریں گے۔

’دی سن‘ نے ترک فوجی ذرائع کے حوالے سے بتایا تھا کہ انقرہ از خود کوئی فیصلہ نہیں لے گا لیکن اگر بین الاقوامی برادری اس کے لیے باقاعدہ رابطہ کرتی ہے تو ترک فوجی یہ ذمہ داری لینے کے لیے تیار ہوں گے۔

افغانستان سے باہر افغان فوج کی تربیت پر تجزیہ کاروں کی رائے

وائس آف امریکہ کی افغان سروس کے مطابق فوجی امور کے تجزیہ کار اسداللہ ندیم نے کہا ہے کہ افغان نیشنل سیکیورٹی فورسز کی ملک سے باہر تربیت نیٹوکا منصوبہ ہے مگر ان کے بقول، اس کے موثر ہونے کا امکان کم ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نیٹو کو افغان حکومت پر دباو ڈالنا چاہیے کہ وہ افغان سیکیورٹی شعبے کے اندر بدعنوانی کے خلاف لڑائی لڑ ے۔

ایک اور تجزیہ کار ولی ناصر کا کہنا ہے کہ افغان سیکیورٹی فورسز کو مضبوط بنانے کا یہ ایک اچھا موقع ہے۔ افغان حکومت کو چاہیے کہ وہ تربیت کے یہ مواقع بہت احتیاط سے استعمال کرے۔ اگر افغان کمانڈوز کی تربیت ہو جاتی ہے تو بہت جلد افغانستان کے پاس ایک اچھی تریبت یافتہ فوج ہو گی۔

علی اکبر جمشیدی افغان پارلیمنٹ میں دفائی کمشن کے رکن ہیں۔ وہ بھی افغان فوجوں کی ملک سے باہر تربیت کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات بین الاقوامی افواج کے انخلا کے بعد مددگار ہوں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG