رسائی کے لنکس

'سندھ میں علیحدگی پسند گروہ فرقہ پرست تنظیموں سے زیادہ پر تشدد ثابت ہوئے ہیں'


فائل فوٹو

کراچی کی نجی ہاؤسنگ اسکیم 'بحریہ ٹاؤن' پر اتوار کو ہونے والے حملے کے بعد سندھ کی قوم پرست جماعتیں ایک مرتبہ پھر بحث کا موضوع بن گئی ہیں۔

اتوار کو جئے سندھ قومی محاذ، سندھ مزاحمتی تحریک، سندھ یونائیٹڈ پارٹی اور قومی عوامی تحریک کے علاوہ دیگر قوم پرست تنظیموں نے بحریہ ڈاؤن کراچی کے خلاف احتجاج کی کال دی تھی اور ایک ہجوم نے ہاؤسنگ اسکیم میں جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کی تھی۔

سندھ کی قوم پرست جماعتوں کی جانب سے ہنگامہ آرائی کا یہ واقعہ ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب سندھ پولیس کے محکمۂ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی دی) نے تین جون کو دہشت گردی کے واقعات میں انتہائی مطلوب دہشت گردوں کی فہرست پر مشتمل 'ریڈ بک' کا نیا ایڈیشن جاری کیا تھا۔

ریڈ بک میں سندھ اور بلوچستان میں فعال علیحدگی پسند تنظیموں کے علاوہ فرقہ وارانہ گروہ اور کراچی کے جرائم پیشہ گینگز سے وابستہ مبینہ شدت پسندوں کے نام و کوائف درج کیے گئے ہیں۔

سی ٹی ڈی سندھ نے ریڈ بک کا نواں ایڈیشن شائع کیا ہے جب کہ آٹھواں ایڈیشن جولائی 2017 میں شائع ہوا تھا۔

سی ٹی ڈی سندھ کے سربراہ عمر شاہد حامد نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ 18 ماہ کے دوران صوبۂ سندھ میں علیحدگی پسند گروہ مذہبی اور فرقہ پرست شدت پسند تنظیموں سے زیادہ پرتشدد ثابت ہوئے ہیں۔

ان کے بقول قوم پرست جماعتوں کی جانب سے پرتشدد واقعات سامنے آنے کے بعد پہلی مرتبہ سندھو دیش ریوولیشنری آرمی (ایس آر اے) اور بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) جیسی علیحدگی پسند تنظیموں کے رہنماؤں کو ریڈ بک میں شامل کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ پاک انسٹی ٹیوٹ آف پیس اسٹڈیز کی سالانہ سیکیورٹی رپورٹ کے مطابق 2020 میں سندھ کے علیحدگی پسند گروہوں نے کراچی سمیت صوبے بھر میں دہشت گردی کے 10 حملے کیے تھے جن میں ایس آر اے نے آٹھ حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

ان حملوں میں پاکستان رینجرز اور پولیس کے اہلکاروں سمیت جماعت اسلامی کی ریلی کو نشانہ بنایا گیا جب کہ کراچی میں چین کے دو باشندوں پر بھی ناکام قاتلانہ حملے کیے گئے۔

اسی طرح بلوچستان کی علیحدگی پسند تنظیم بی ایل اے نے بھی کراچی میں پاکستان اسٹاک ایکسچنج کی عمارت پر جون 2020 میں ہونے والے حملے کی ذمہ داری قبول کی۔

عمر شاہد حامد نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ نئی مرتب کردہ 'ریڈ بک' میں 93 نئے ناموں کا اضافہ ہوا ہے جن کی تلاش جاری ہے۔

ان کے بقول، ” چار برس قبل مرتب کی جانے والی ریڈ بک میں شامل 10 مطلوب دہشت گرد گرفتار ہوچکے ہیں جب کہ پانچ انتہائی مطلوب دہشت گرد مبینہ مقابلوں میں مارے گئے ہیں۔

ریڈ بک کیا ہے؟

پاکستان میں دہشت گردی اور ملک دشمن سرگرمیوں میں مبینہ طور پر ملوث ملزمان کے بارے میں ہر قسم کی معلومات کو یکجا کر کے شائع ہونے والے کتابچے کو 'ریڈ بک' کہا جاتا ہے۔

ریڈ بک شائع کرنے کا عمل صوبائی سطح پر پولیس کے سی ٹی ڈی کے شعبے نے سالوں قبل شروع کیا تھا۔

پاک انسٹی ٹیوٹ آف پیس اسٹڈیز نامی اسلام آباد میں قائم سیکیوریٹی تھنک ٹینک کے سربراہ محمد عامر رانا نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ ریڈ بک میں ملزمان کے کوائف شامل کرنے کا یہ عمل 1997 میں سی ٹی ڈی پنجاب نے شروع کیا تھا جسے ماضی میں کرائم انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کہا جاتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ چاروں صوبوں کی سی ٹی ڈیز کے ساتھ ساتھ وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) بھی باقاعدگی سے ہر سال یا کچھ سالوں کے وقفے کے بعد ریڈ بک کا اجرا کرتا ہے۔

ریڈ بک مرتب کرنے کے عمل میں شامل ایک سی ٹی ڈی اہلکار نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ریڈ بک میں دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث اشتہاری، مفرور یا مطلوب ملزمان کی تصاویر، تمام کوائف، پتہ اور دستیاب ہر طرح کی معلومات کو یکجا کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ متعدد کالعدم شدت پسند تنظیموں کے بہت سارے دہشت گردوں کے بارے میں دستیاب معلومات کو ریڈ بک میں اپ ڈیٹ کیا گیا ہے جب کہ ہلاک اور گرفتار ہونے وانے شدت پسندوں کے ناموں کو خارج کر دیا گیا ہے۔

ریڈ بک میں علیحدگی پسند گروہ

ریڈ بک میں بلوچستان اور سندھ کی دو کالعدم تنظیمیں سندھودیش ریوولیشنری آرمی اور بلوچ لبریشن آرمی کے بالترتیب چار اور پانچ مبینہ شدت پسندوں کو شامل کیا گیا ہے۔

فہرست میں ایس آر اے کے سربراہ سید اصغر شاہ اور بی ایل اے کے رہنماؤں حیر بیار مری اور بشیر زیب بلوچ کے نام شامل ہیں جن کے گروہوں نے ماضی قریب میں سندھ خصوصاً کراچی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں کے ساتھ ساتھ پاکستان میں چینی مفادات پر حملے کرنے کی ذمہ داریاں قبول کی ہیں۔

خاتون ڈاکٹر بھی ریڈ بک میں شامل

سی ٹی ڈی کی ریڈ بک میں کراچی کی ایک خاتون ڈاکٹر سعدیہ کو بھی شامل کیا گیا ہے جن کا تعلق مبینہ طور پر القاعدہ برصغیر سے بتایا جاتا ہے اور ان پر دہشت گردی کے واقعات میں معاونت کا الزام ہے۔

سی ٹی ڈی کے عمر شاہد حامد کے مطابق ڈاکٹر سعدیہ القاعدہ برصغیر کے رہنما عمر کاٹھیو کی تیسری بیوی اور القاعدہ سے منحرف ہو کر داعش میں شامل ہونے والے شدت پسند رہنما عبداللہ یوسف کی خالہ ہیں۔

خیال رہے کہ اس سے قبل پنجاب کی سی ٹی ڈی نے 2012 میں پہلی مرتبہ دو خواتین کو اس فہرست میں شامل کیا تھا۔ طیبہ اور ماریہ نامی دونوں خواتین کو دہشت گردوں کی اعانت کے الزام کا سامنا تھا۔

کراچی کے جرائم پیشہ گینگز

کراچی کے علاقے لیاری میں فعال جرائم پیشہ گینگز سے وابستہ 33 افراد کو 'ریڈ بک' کے حالیہ ایڈیشن میں شامل کیا گیا ہے۔ اس فہرست میں ارشد پپو کے بھتیجے بلال راشد عرف بلال پپو، نثار ملا، زاہد لاڈلہ اور شیراز ذکری اہم گینگ رہنما ہیں۔

لیاری کی گینگ تشدد کے مرکزی رہنما اور کالعدم قرار دی جانے والی پیپلز امن کمیٹی کے سربراہ عزیر بلوچ اس وقت زیرِ حراست ہیں جب کہ بابا لاڈلہ، ارشد پپو، غفار ذکری اور دیگر درجنوں کمانڈر پولیس مقابلوں یا گینگز کے آپس کے مقابلوں میں مارے جا چکے ہیں۔

ریڈ بک میں القاعدہ اور داعش کے ارکان بھی شامل

ریڈ بک میں القاعدہ سے وابستہ 18 اور داعش سے وابستہ 12 شدت پسندوں کو شامل گیا ہے۔
دونوں عالمی شدت پسند تنظیموں نے 2014 میں القاعدہ برصغیر یا (AQIS) اورداعش خراساں کے لئے جنوبی ایشیاوافغانستان کے لئے ایک شاخوں کا اعلان کیا تھا جواپنی جانب متعدد پاکستان شدت پسند گروہوں اور افراد کوکھینچنے میں کامیاب رہی۔
خیال رہے کہ 2017 میں مرتب ہونے والی آٹھویں ریڈ بک میں القاعدہ کے 13 اورداعش کے 4 مبینہ شدت پسندوں کے نام درج تھے۔

انصار الشریعہ

ریڈ بک کے حالیہ ایڈیشن میں انصارالشریعہ نامی کم معروف شدت پسند گروہ کے چار افراد کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

سیکیورٹی حکام انصارالشریعہ کے قیام کے بارے میں لاعلم ہیں مگر وہ کہتے ہیں کہ اس کم معروف گروہ کا نام کراچی میں اپریل 2017 میں اس وقت سامنے آیا تھا جب اس تنظیم نے بلوچ کالونی کے علاقے میں ایک ریٹائرڈ فوجی اہلکار طاہر ناگری کے قتل کی ذمہ داری قبول کی۔

بعدازاں یہ گروہ 2017 میں ہی کراچی میں پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنانے اور متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما خواجہ اظہارالحسن پر قاتلانہ حملے میں بھی ملوث رہا۔
البتہ ستمبر 2017 میں کراچی ہی سے گرفتار ہونے والے انصارالشریعہ کے سربراہ ڈاکٹر عبداللہ ہاشمی نے دوران تفتیش بتایا تھا کہ 2015 میں کام شروع کرنے والی یہ شدت پسند تنظیم 10 سے 12 اعلیٰ تعلیم یافتہ لڑکوں پر مشتمل تھی جو یونیورسٹیز سے فارغ التحصیل تھے۔

تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)

ریڈ بک کی فہرست میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے 23 مبینہ شدت پسند شامل ہیں۔ جس میں بلدیہ ٹاؤن کے رہائشی کالعدم ٹی ٹی پی کراچی کے کمانڈر خان زمان محسود کے سر کی قیمت بھی 25 لاکھ روپے رکھی گئی ہے۔
ٹی ٹی پی کے دیگر اہم رہنما شاکراللہ، شاہد اللہ عرف جاوید سواتی اور مکرم خراسانی کو شامل کیا گیا ہے۔

جنداللہ پاکستان

ریڈ بک کی حالیہ فہرست میں جنداللہ پاکستان سے تعلق رکھنے والے دو مبینہ شدت پسندوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ جنداللہ پاکستان ٹی ٹی پی سے ناراض اراکین کا ایک دھڑا تھا جنہوں نے 2014 میں داعش کے ساتھ کام کرنے کی بیعت لی تھی۔

لشکرِ جھنگوی اور سپاہ محمد پاکستان

لشکر جھنگوی نامی کالعدم سنی شدت پسند تنظیم کے 13 اور سپاہ محمد پاکستان نامی کالعدم شیعہ شدت پسند تنظیم سپاہ محمد پاکستان کے 24 شدت پسندوں کے نام بھی ریڈ بک کی حالیہ فہرست میں شامل کیے گئے ہیں۔
فرقے کی بنیاد پر دہشت گردی میں ملوث ہونے کی وجہ سے پاکستان میں سب سے پہلے ان دونوں تنظیموں کو کالعدم قرار دیا گیا تھا۔

ریڈ بک میں آٹھویں ایڈیشن میں لشکرِ جھنگوی کے ساتھ وابستگی ظاہر کیے گئے سندھ کے ضلع شکارپور کے رہائشی عبدالحفیظ پندرانی 2019 میں بلوچستان کے ضلع سبی میں پولیس مقابلے میں مارے گئے۔

پولیس کے مطابق عبدالحفیظ پندرانی داعش سندھ کے نائب امیر تھے اور ان کا گروہ شمالی سندھ میں ہونے والے صوفی مزاروں اور شیعہ اجتماعات پر خودکش حملوں میں ملوث تھا۔

ریڈ بک کی اہمیت

سی ٹی ڈی کے افسران کے مطابق ریڈ بک جاری کرنے کا بنیادی مقصد دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث دہشت گردوں سے متعلق معلومات کے حصول اور پنجاب، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے سی ٹی ڈی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ معلومات کا تبادلہ ہے۔

حکام کے بقول ریڈ بک کے اجرا کا مقصد حکومت کے خلاف کام کرنے والے دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے مشترکہ کوششیں کرنا ہوتا ہے۔

پڑوسی ملک افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد کی ممکنہ صورتِ حال کے پیشِ نظر سی ٹی ڈی حکام اور سیکیورٹی ماہرین ریڈ بک کی حالیہ فہرست کو اہم قرار دے رہے ہیں۔

سی ٹی ڈی سندھ کے سربراہ عمر شاہد حامد کے بقول حکومتِ پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے ادارے افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کے سبب ملکی سلامتی کو لاحق ممکنہ خطرات کو ٹالنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یوں لگتا ہے کہ امریکی انخلا کے بعد افغانستان میں عدم استحکام کا اثر پاکستان پر پڑ سکتا ہے اور اس سے پاکستان میں امن و امان کی صورتِ حال متاثر اور دہشت گردی میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG