رسائی کے لنکس

نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ، افتخار احمد کی شاندار کارکردگی سے خیبر پختونخوا ایک بار پھر چیمپئن


خیبر پختونخوا کی ٹیم صرف تین وکٹوں پر بآسانی ہدف عبور کرتے ہوئے ٹائٹل کا دفاع کرنے میں کامیاب رہی

کپتان افتخار احمد کی آل راؤنڈ کارکردگی کی بدولت خیبر پختونخوا نے مسلسل دوسرے سال نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ اپنے نام کر لیا ہے۔ افتخار احمد نے نہ صرف بالنگ کرتے ہوئے دو اوورز میں تین وکٹیں حاصل کیں بلکہ ان کے ناقابل شکست 45 رنز کی بدولت خیبر پختونخوا نے ٹائٹل کا کامیابی سے دفاع کیا۔

افتخار احمد کو شاندار کارکردگی پر فائنل کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔ انہوں نے اپنے ناقدین کو بھی تعریف کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے فائنل میں خیبر پختونخوا کی ٹیم نے ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ کیا۔

کپتان افتخار احمد اور نوجوان لیفٹ آرم پیسر محمد عمران کی شاندار بالنگ کے آگے سینٹرل پنجاب کی ٹیم بے بس نظر آئی۔ پوری ٹیم آؤٹ ہو کر آخری اوور میں پویلین لوٹ گئی تھی۔ البتہ اوپنر احمد شہزاد کے 44 رنز اور کامران اکمل کے 42 رنز کی وجہ سے سینٹرل پنجاب کی ٹیم 148 رنز بنا سکی۔

خیبر پختونوا کی جانب سے محمد عمران نے 26 رنز دے کر تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ جب کہ افتخار احمد نے صرف دو اوورز پھینک کر پانچ رنز کے عوض تین وکٹیں حاصل کیں۔

جواب میں خیبر پختونخوا کی ٹیم نے مطلوبہ ہدف تین اوورز قبل ہی تین وکٹوں کے نقصان پر حاصل کر کے ٹائٹل کا کامیابی سے دفاع کیا۔

کپتان افتخار احمد نے صرف 19 گیندوں پر دو چھکوں اور چھ چوکوں کی مدد سے ناقابلِ شکست 45 رنز اسکور کرکے ٹیم کو فتح سے ہم کنار کیا۔

ٹورنامنٹ کے دوران سنچری اسکور کرنے والے کامران غلام 37 اور ایونٹ کے ٹاپ اسکورر صاحب زادہ فرحان 26 رنز کے ساتھ نمایاں رہے۔

سینٹرل پنجاب کی ٹیم نے فائنل میں کپتان بابر اعظم سمیت ان تمام کھلاڑیوں کی کمی کو شدت سے محسوس کیا جو ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں شرکت کے لیے قومی ٹیم کے ساتھ تیاریوں میں مصروف ہیں۔

صاحب زادہ فرحان، افتخار احمد 400 رنز

نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ کے دوران ویسے تو کئی بلے بازوں نے اچھی اننگز کھیلیں۔ البتہ 400 سے زائد رنز بنانے کا اعزاز صرف دو بلے بازوں کو حاصل ہوا۔

چار سو سے زائد رنز بنانے والے دونوں کھلاڑیوں صاحبزادہ فرحان اور افتخار احمد کا تعلق فاتح ٹیم خیبر پختوانخوا سے ہے۔

صاحبزادہ فرحان نے 12 میچز میں تین نصف سنچریوں کی بدولت 132.24 کے اسٹرائیک ریٹ سے 447 رنزاسکور کیے۔ جب کہ افتخار احمد 409 رنز کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔

محمد رضوان کی غیر موجودگی میں ٹیم کی قیادت کرنے والے افتخار احمد نے یہ رنز 170.41 کے اسٹرائیک ریٹ سے تین نصف سنچریوں کی مدد سے بنائے۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کی نمائندگی کرنے والے شرجیل خان اور احمد شہزاد 371 اور 344 رنز کے ساتھ بدستور تیسرے اور چوتھے نمبر پر رہے۔

عمران خان کی سب سے زیادہ وکٹیں

ٹیسٹ کرکٹر عمران خان نے خیبر پختوانخوا کی نمائندگی کرتے ہوئے ایونٹ میں سب سے زیادہ کھلاڑیوں کو واپس پویلین بھیجا۔ انہوں نے صرف 12 میچز میں 16 وکٹیں حاصل کر کے سلیکٹرز کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔

حال ہی میں پاکستان کے لیے انٹرنیشنل میچ کھیلنے والے ارشد اقبال 12 میچز میں 14 وکٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔ جب کہ قومی ٹیم کے اٹیک بالر شاہین شاہ آفریدی 6 میچز میں 12 وکٹوں کے ساتھ تیسرے نمایاں بالر رہے۔

سندھ کی جانب سے 10 میچز میں 12 وکٹیں حاصل کرنے والے رومان رئیس نے خود کو مکمل فٹ ثابت کیا۔ تو سینٹرل پنجاب کے وہاب ریاض اور خیبر پختونخوا کے آصف آفریدی نے 12 میچز میں 12، 12 کھلاڑیوں کو آؤٹ کرکے ٹیم کو فائنل میں پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔

قومی ٹیم میں شامل حسن علی آٹھ میچز میں 11، ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے متبادل کھلاڑیوں میں جگہ بنانے والے شاہنواز داہانی سات میچز میں نو اور نوجوان فاسٹ بالر حارث رؤف چھ میچز میں نو وکٹیں لینے میں کامیاب ہوئے۔

فائنل میں مین آف دی میچ کا ایوارڈ جیتنے والے افتخار احمد نے ایونٹ میں آٹھ وکٹیں حاصل کیں اور ساتھی اسپنر محمد نواز کی طرح بطور آل راؤنڈر خود کو منوایا۔

ایونٹ میں تین سنچریاں

نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ میں جہاں چوکوں اور چھکوں کی بارش ہوئی وہیں ایونٹ میں مجموعی طور پر صرف تین سنچریاں ہی بنیں۔

ایونٹ کی سب سے بڑی اننگز خیبر پختونخوا کے کامران غلام نے ناردرن کے خلاف کھیلی۔ انہوں نے صرف 64 گیندوں پر 110 رنز اسکور کرکے اپنی ٹیم کی پوائنٹس ٹیبل پر پوزیشن مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

قومی ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے سینٹرل پنجاب کی قیادت کرتے ہوئے ناردرن کے خلاف 63 گیندوں پر 105 ناٹ آؤٹ اسکور کیے تھے اس کے باوجود ان کی ٹیم یہ میچ جیتنے میں کامیاب نہیں ہو سکی تھی۔

ایونٹ کی تیسری سنچری شرجیل خان نے اسکور کی۔ ان کے 101 رنز نے سدرن پنجاب کے خلاف سندھ کو فتح دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔

ایک اننگز میں چار وکٹیں

اسی ایونٹ کے دوران صرف چھ بالرز ایک اننگز میں چار کھلاڑیوں کو آؤٹ کرنے میں کامیاب ہوئے۔

ان میں سندھ کے شاہنواز داہانی کا نام سرفہرست ہے۔ انہوں نے بلوچستان کے خلاف میچ میں شاندار بالنگ کرتے ہوئے صرف 12 رنز دے کر چار کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا تھا۔

سینٹرل پنجاب کے حسن علی نے سدرن پنجاب کے خلاف 24 رنز دے کر چار اور عثمان قادر نے بلوچستان کے خلاف 25 رنز کے عوض چار کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

خیبر پختونخوا کے عمران خان نے سدرن پنجاب کی چار وکٹیں صرف 28 رنز دے کر اپنے نام کی تھیں۔

انجری سے واپس آنے والے رومان رئیس نے بھی سندھ کی نمائندگی کرتے ہوئے سینٹرل پنجاب کے چار بلے بازوں کو 33 رنز کے عوض واپس پویلین بھیجا۔ سدرن پنجاب کے ضیاالحق نے سینٹرل پنجاب کی 4 وکٹیں 40 رنز دے کر اپنے نام کیں۔

روحیل نذیر بہترین وکٹ کیپر

نیشنل ٹی ٹوئٹی کپ کے پہلے مرحلے کے اختتام تک سندھ کے کپتان سرفراز احمد سب سے کامیاب وکٹ کیپر کے طور پر سامنے آئے تھے۔ البتہ قومی ٹیم میں شمولیت کے بعد انہیں ایونٹ کے آخری میچز سے دستبردار ہونا پڑا اور ناردرن کے نوجوان وکٹ کیپر روحیل نذیر نے ان کی جگہ لے لی۔

پاکستان کی انڈر 19 ٹیم کے سابق کپتان روحیل نذیر نے 11 میچز میں مجموعی طور پر 12 کھلاڑی آؤٹ کرنے میں معاونت کی جس میں تین اسٹمپ شامل ہیں۔

سرفراز احمد آٹھ میچز میں 10 شکار اور سابق ٹیسٹ کرکٹر کامران اکمل سات میچز میں سات شکار کے ساتھ نمایاں رہے۔

فیلڈنگ سے شائقین مایوس

نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ کے دوران اگر کسی ڈپارٹمنٹ سے شائقین کو مایوس کیا تو وہ فیلڈنگ کا تھا۔ نوجوان کھلاڑیوں نے نہ صرف آؤٹ فیلڈ میں کیچز چھوڑے بلکہ ان کی مس فیلڈنگ بھی ٹیم کو مہنگی پڑی ۔

ایسے میں خیبرپختونخوا کے صاحبزادہ فرحان نے بہتر فیلڈنگ سے کا مظاہرہ کیا۔

ایونٹ کے سب سے کامیاب بلے باز ہونے کے ساتھ ساتھ 12 میچز میں 12 کیچز کے ساتھ وہ سب سے کامیاب فیلڈر بھی رہے۔ انہی کی ٹیم کے کپتان افتخار احمد نے ایونٹ میں 10 کیچز تھام کر 'تھری ڈی' کھلاڑی ہونے کا ثبوت دیا۔

بعض مبصرین کے مطابق نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ کی وجہ سے جہاں چند بہترین پرفارمنس دکھانے والے کھلاڑیوں کو قومی ٹیم میں جگہ ملی تو وہیں اچھی کارکردگی کے باوجود کئی کھلاڑی منتخب نہ ہوسکے۔ ایک طرف حیدر علی آٹھ میچز میں 317 رنز، شعیب ملک سات میچز میں 225 رنز، فخر زمان چار میچز میں 88 رنز اور سرفراز احمد آٹھ میچز میں 198 رنز قومی ٹیم میں شامل ہوئے تو دوسری جانب افتخار احمد، صاحب زادہ فرحان، کامران غلام اور عمران خان بہتر کارکردگی کے باوجود ٹیم سے باہر ہیں۔

پاکستانی ٹیم کے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی سے قبل دو وارم اپ میچ

ویسے تو ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کا میلہ باقاعدہ طور پر 23 اکتوبر سے شروع ہو رہا ہے۔

اس سے قبل ایک طرف کوالیفائر ٹیمیں کوالیفائنگ مرحلہ کھیلیں گی تو ایونٹ کے مین راؤنڈ میں جگہ بنانے والی ٹیمیں وارم اپ میچز کھیلیں گی۔

پاکستان کرکٹ ٹیم اپنا پہلا وارم اپ میچ 18 اکتوبر کو ویسٹ انڈیز کے خلاف دبئی میں اور دوسرا 20 اکتوبر کو جنوبی افریقہ کے خلاف ابو ظہبی میں کھیل کر ٹیم کمبی نیشن بنانے کی کوشش کرے گی۔

گرین شرٹس ایونٹ کا پہلا میچ 24 اکتوبر کو روایتی حریف بھارت کے خلاف کھیلیں گے جب کہ 26 اکتوبر کو قومی ٹیم نیوزی لینڈ اور 29 اکتوبر کو افغانستان کے مد مقابل ہو گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG