رسائی کے لنکس

ناسا کا 12 سال تک چاند پر انسان اتارنے کا منصوبہ


ناسا کے ایڈمنسٹریٹر بل نیلسن واشنگٹن میں ناسا کے ہیڈکوارٹرز میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کر رہے ہیں۔ 2 جون 2021

امریکہ کے خلائی تحقیق کے ادارے ناسا نے کہا ہے کہ اسے خلا میں چین کا مقابلہ کرنے کے لیے اگلے 12 برس تک ہر سال انسانوں کو چاند پر اتارنے کے لیے فنڈز مہیا کیے جائیں۔

ناسا کے ایڈمنسٹریٹر بل نیلسن نے یہ درخواست کانگریس کی کمیٹی کے سامنے 2022 کے لیے ناسا کے بجٹ پر سماعت کے دوران کی۔

نیلسن نے سائنس، خلا اور ٹیکنالوجی سے متعلق ہاؤس کمیٹی کو بتایا کہ ان کے سائنسی ادارے کے 2021 کے بجٹ میں چاند کی مہمات کے لیے 850 ملین ڈالر شامل ہیں، جو انسانی خلائی مہمات کے تقریباً تین ارب ڈالر کا حصہ ہیں۔

چین کے صوبے ژوہائی میں ایک سائنسی نمائئش میں رکھا گیا چین کے خلائی اسٹیشن تنان ہے کا ماڈل۔
چین کے صوبے ژوہائی میں ایک سائنسی نمائئش میں رکھا گیا چین کے خلائی اسٹیشن تنان ہے کا ماڈل۔

ان کا کہنا تھا کہ اگلے 12 برسوں تک ہر سال چاند پر انسان کو بھیجنا امریکہ کے مفاد میں ہے جس کے لیے مناسب فنڈز درکار ہوں گے۔

بائیڈن انتظامیہ نے ناسا کے 2022 کے بجٹ میں 6 اعشاریہ 6 فی صد اضافہ کرتے ہوئے کانگریس سے 24 ارب 80 کروڑ ڈالر منظور کرنے کی درخواست کی ہے۔یہ فنڈز مریخ پر روبوٹک گاڑیاں بھیجنے، بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کی سرگرمیاں جاری رکھنے ، سیارے زہرہ کی تحقیق اور 2024 میں چاند کی جانب انسانی پروازوں پر صرف کیے جائیں گے۔

بل نیلسن صدر بائیڈن کی جانب سے ناسا کے 14 ویں انڈمنسٹریٹر مقرر کیے جانے سے قبل 18 سال تک امریکہ کے سینیٹر رہ چکے ہیں۔

کراچی کے طلبہ کے خلا بازوں سے دلچسپ سوالات
please wait

No media source currently available

0:00 0:02:55 0:00

ہاؤس کمیٹی نے نیلسن سے دریافت کیا کہ دنیا کا صف اول کا خلائی ادارہ ناسا اس فنڈنگ کو خلائی تحقیق اور خلائی ٹیکنالوجی کے لیے کس طرح استعمال کرے گا۔کمیٹی کے ارکان کے کئی سوالات کا تعلق خلائی مہمات اور ٹیکنالوجی میں چین کی پیش رفت سے تھا۔

نیلسن نے اپنے جواب میں ناسا کے مجوزہ بجٹ کی منظوری کے لیے زور دیتے ہوئے کہا کہ پہلے انسانوں کو چاند پراتارنے اور اس کے بعد اپنے خلاباز مریخ پر بھیج کر امریکہ اس میدان میں چین کا بہتر طور پر مقابلہ کر سکتا ہے۔

چین 2018اور 2019 میں زمین کے مدار کی خلائی مہمات میں پیش قدمی کر رہاتھا جب کہ 2020 میں امریکہ نے پرائیویٹ سیکٹر کی اسپس ایکس جیسی خلائی کمپنیوں کی شراکت سے اپنی خلائی سبقت دوبارہ حاصل کر لی۔ چین امریکہ کے بعد دوسرا ملک ہے جس نے سائنسی تجربات کے لیے مریخ میں کامیابی سے اپنی روبوٹک گاڑی اتاری ہے۔

اسپس ایکس کا انسان بردار راکٹ فالکن 9 کینیڈی سینٹر سے خلائی سفر کے لیے روانہ ہو رہا ہے۔ 23 اپریل 2021
اسپس ایکس کا انسان بردار راکٹ فالکن 9 کینیڈی سینٹر سے خلائی سفر کے لیے روانہ ہو رہا ہے۔ 23 اپریل 2021

چین سے متعلق ایک سوال کے جواب میں نیلسن نے کہا کہ انہوں نے وولف ترمیم کو مستقل حیثیت دینے کی حمایت کی ہے۔ سن 2011 کا ایک قانون ناسا کو کانگریس کی منظوری کے بغیر سرکاری فنڈ سے چلنے والی کسی بھی سرگرمی میں چینی حکومت اور چینی کمپنیوں کے ساتھ براہ راست تعاون سے روکتا ہے۔

کانگریس کمیٹی کے کئی ارکان نے نیلسن پر زور دیا کہ وہ چاند پر واپس جانے کے لیے ٹھوس پروگرام ترتیب دیں، جس پر انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ حکومت کی اجازت ملنے کے بعد اس پر کام کریں گے۔

سماعت کے دوران نیلسن نے بتایا کہ بین الاقوامی خلائی سفر کے پروگرام 'پراجیکٹ ارٹمس' کے تحت ایک راکٹ کا تجربہ کیا جائے گا جس میں کوئی انسان سوار نہیں ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ سب سے طاقت ور راکٹ کا تجربہ ہو گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG