رسائی کے لنکس

میانمار: بودھ اقلیتی رہنما خود کو  راکھین صوبے میں ایک متبادل حکومت کے طور پر پیش کررہے ہیں


راکھین نسل کے دیہاتیوں کا ایک گروہ عارضی طور پر ایک بودھ مت کی خانقاہ میں رہائش اختیار کر رہا ہے (فائل فوٹو)

میانمار کی حکمراں فوج کی دیگر مصروفیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مغربی راکھین ریاست میں بودھ نسلی اقلیتی رہنما خود کو ایک موثر سیکورٹی فورس اور موثر حکومت کے طور پر مستحکم کررہے ہیں اور مسلمانوں کو یہ باور کرا نے کی کوشش کررہے ہیں کہ وہ موجودہ فوجی حکمرانوں کا بہتر متبادل ہیں۔

لیکن ریاست کی یہ صورتحال دیگر مسلمانوں کے لیے پریشان کن ہے، کیونکہ انھیں دو ہزار سترہ میں ملیشیا کے قاتلانہ حملے کا منظر یاد ہے ، جس میں ہزاروں افراد ہلاک اور سات لاکھ سے زیادہ روہنگیا مسلمانوں کو پڑوسی ملک بنگلہ دیش میں پناہ لینا پڑی تھی۔

ایک مقامی اہلکار کے قتل سمیت نسلی بنیادوں پر ان پر مختلف الزامات کا حالیہ سلسلسہ انھیں دو ہزار بارہ کی دونوں کمیونٹیز کے درمیان اس تنازعہ کی یاد دلاتا ہے جب لا تعداد لوگ مارے گئے، گھروں اور مذہبی عمارتوں کو آگ لگا دی گئی اور تیس ہزار سے زیادہ لوگوں کو اپنے گھروں سے نکال باہر کیاگیا۔

حالیہ مہینوں کے دوران ،جہاں یکم فروری دو ہزار اکیس میں ایک مقبول عوامی حکومت کے خلاف بغاوت کے بعد اقتدار پر قبضہ کرلیا گیاتھا، فوجی حکمرانوں کو مزاحمت کاسامنا ہے دیگر مقامات پر بڑھتے ہوئے تشدد کے باوجود راکھین کی ریاست میں نسبتًا امن رہا۔

اس صورتحال نے بودھ مت کے نسلی گروپ کے لیے راکھین یا اراکان کے نام سے موسوم مسلح ملیشیا کی قیادت سنھبالنے کی راہ ہموار کردی ہے جو دو ہزار نو سے ریاست راکھین کی خودمختاری کے لیے لڑ رہی ہے۔گزشتہ سال کے وسط سے یہ اراکان آرمی خود کو راکھین میں ایک متبادل حکومت کے طور پر پیش کررہی ہے اور عوام کو روزہ مرہ کے معاملات جیسے چوری، ڈکیتی اور زمین کے تنازعات سمت دیگرقانونی مسائل کو حل کرنے کے لیے اپنے پاس آنے کی دعوت دے رہی ہے۔

ارکان آرمی کے سربراہ جنرل ٹوان مرات نانگ نے انیس دسمبر کو بنگلہ دیشی خبررساں ادارے پرتھومالوالو میں شائع ہونے والے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ ہم راکھین میں ایک طرح کی انتظامیہ چلارہے ہیں، ہمارا عدالتی نظام بھی بناہوا ہے ، ہم نےٹیکس کانظام بھی قائم کیا ہے۔

یہ برما میں کوئی نئی بات نہیں ہے،" انہوں نے میانمار کے لیے متبادل نام استعمال کرتے ہوئے مزید کہا کہ مسلح جدوجہد میں شامل تقریباً تمام نسلی گروہ اپنے اپنے علاقوں میں اپنی انتظامیہ چلاتے ہیں۔"

وان لارک فاؤنڈیشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر، کھائینگ کاؤنگ سان، جو راکھین میں مختلف گروپوں کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے کام کرتی ہے، نے کہا ہےکہ اراکان آرمی صوبے میں موجودہ حکمرانوں کی غیر موثر حکمرانی کا فائدہ اٹھارہی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ مختلف برادریوں میں سے کوئی بھی موجودہ فوجی حکمرانوں پر اعتبار نہیں کرتا ۔ جب کچھ غلط ہوتا ہے تو زیادہ تر لوگ اراکان آرمی کے پاس جاتے ہیں تاکہ ان کا مسئلہ مزید خراب ہونےسے روکا جاسکے۔اراکان آرمی مقامی لوگوں میں اپنی ساکھ بنارہی ہے۔پروتھولالوالو کو دئے گئے انٹرویومیں توان مرات نانگ نے کہا کہ روہنگیا اور بدھ راکھین دونوں برمیوں کے خلاف متحد ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ اراکان میں سب ایک ساتھ رہیں۔

راکھین ریاست میں زیادہ تر راکھین، ارکان آرمی کی کارگردی سے مطمئن ہیں لیکن بعض مسلمانوں کا کہنا ہے کہ وہ ارکان آرمی کی کارکردگی پر مکمل اعتماد نہیں کرتےکیونکہ یہ ارکان اورموجودہ فوجی حکمرانوں کے درمیان اقتدار کی کشمکش ہے۔

دیہات کے منتظمین اور مسلمان دیہاتوں کے بزرگوں کو فوجی حکمرانوں نے خبردارکیا ہےکہ وہ اراکان آرمی سے دور رہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ملٹری کونسل اکثر مقامی لوگوں کو باغی قوتوں سے تعلق کے شبہ میں گرفتار کرلیتی ہے اور ان کے خلاف انسداد دہشت گردی کے قوانین کے تحت مقدمہ چلاتی ہے۔

بہت سے مسلمان واقعات کی حالیہ لہر سے بھی پریشان ہیں جن میں ایک مقامی سرکاری اہلکار کا قتل بھی شامل ہے جس پر 14 سالہ مسلمان لڑکے کو حراست میں لیا گیا۔ دیگر واقعات میں راکھین خاتون کی عصمت دری کی سازش اور راکھین اور مسلمانوں دونوں کی املاک کو تباہ کرنے کے الزامات شامل ہیں۔

راکھین ریاست بظاہرمستحکم نظر آرہی ہے، لیکن حقیقت میں یہ ایک بم کی طرح ہے جو کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے۔اسٹیوے ٹاون شپ میں رہنے والے ارکان اسٹوڈنٹس یونین کے سربراہ فون پائی فائو نے کہا کہ بہت سے پوشیدہ مسائل موجود ہیں۔

تشدد کے حالیہ واقعات نے دو ہزار بارہ میں دونوں کمیوٹیز کے درمیان ان جھڑپوں کی یاد تازہ کردی ہے جو ایک برمی خاتون پر تین مسلمانوں کی زیادتی کے الزام کے بعد پھوٹ پڑے تھے۔

اراکان آرمی اور اس کے سیاسی ونگ یونائیٹڈ لیگ آف اراکان کے رہنماؤں نے حالیہ تشدد کو "لوگوں میں خوف اور اضطراب پیدا کرنے کی کوشش" قرار دیا ہے۔ ایک باضابطہ بیان میں، گروپ نے ان واقعات کا ذمہ دار کسی کو نہیں ٹھہرایا، لیکن اس نے تحقیقات کرنے اور مقامی لوگوں کو تحفظ فراہم کرنے کا وعدہ کیا۔جبکہ ایک اور گروپ ،ارکان نیشنل پارٹی کی سنٹرل ایگزیکیٹو کمیٹی کے یو ٹن انگ کاو نے بھی اسی طرح کا پیغام دیا اور وائس آف امریکہ کو بتایا کہ دونوں طرف کے لوگ ہائی الرٹ ہیں کہ دو ہزار بارہ جیسا فرقہ ورانہ تشدد دوبارہ نہ پھوٹ پڑے۔ ان کا کہنا تھا کہ بے ایمان لوگ ان واقعات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دوبارہ ایک مصبیت کھڑی کرنا چاہتے ہیں لیکن خوش قسمتی سے دونوں کمیونٹی کے قائدین استحکام برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

فوج نے ٹاؤن شپ کے داخلی اور خارجی راستوں پر چوکیاں قائم کر دی ہیں اور راکیھن کو اپنی بستیوں سے باہر سفر کرنے کے لیے متعدد منظوریوں کے ساتھ حکومتی اجازت کی پرچیاں درکار ہوتی ہیں۔ مسلمانوں کا کہنا ہے کہ انہیں دوسری ریاستوں اور علاقوں میں سفر کرنے سے روک دیا گیا ہے۔

بوتھیڈوانگ ٹاون شپ میں رہنے والے ایک اور مسلمان عادل الملین نے بتایا کہ مسلمانوں کے حالات زندگی سال بہ سال بدتر ہوتے جارہے ہیں۔ بہت سے لوگوں کو کام نہیں ملتا اور وہ ریڈ کراس کی امداد پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں۔انھوں نے بتایا کہ اراکان آرمی کے لوگ ہمارے گاوں آئے تھے اور ہم سے تعاون طلب کررہےتھے اور کہہ رہے تھے کہ اگر ہم کامیاب ہوگئے اور ریاست پرمکمل طور پر کنڑول حاصل کرلیا تو مسلمانوں کے لیے مواقع پیدا ہوں گے اور انھیں مساوی حقوق مل جائیں گے۔انھوں نے کہاکہ گرچہ ہمیں اراکان آرمی پر اعتماد نہیں ہے لیکن حالات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ وہ اس فریق کے ساتھ کھڑے ہوں گے جو ان کے لیے بہتر صورتحال پیدا کرےگا۔ہم اس وقت اراکان آرمی اور فوجی حکمراں دونوں سے ڈرتے ہیں اور دونوں کے احکامات کی پابندی کررہے ہیں کیونکہ ان کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔

XS
SM
MD
LG