رسائی کے لنکس

گزشتہ سال دو لاکھ سے زیادہ پاکستانی روزگار کے لیے ملک سے باہر گئے


پاکستان نے سال 2020 میں کرونا وائرس کی بندشوں کے باوجود 2 لاکھ سے زائد افراد کو روزگار کے سلسلے میں بیرون ممالک بجھوایا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال میں یہ تعداد خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں زیادہ ہے۔

وزیراعظم عمران خان کے سابق معاون خصوصی برائے سمندر پار پاکستانی ذوالفقارعباس بخاری (زلفی بخاری) کہتے ہیں کہ پاکستان میں کرونا وائرس کی صورت حال خطے کے دیگر ممالک کی نسبت بہتر رہی جس کے سبب حکومت بڑی تعداد میں پاکستانی ورکرز بیرون ممالک بجھوانے میں کامیاب رہی۔

بیرون ممالک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے مالی سال 2020/21 میں پاکستان بھیجی جانے والی ترسیلات زر میں بھی ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا ہے جو کہ 29 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔

پاکستان کے معاشی سروے کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال کرونا وائرس کی خطرناک صورت حال اور عالمی پابندیوں کے باوجود 2 لاکھ 24 ہزار پاکستانیوں کو بیرون ملک روزگار ملا۔

پاکستان سال 2020 میں افرادی قوت بیرون ملک بھیجنے میں بھارت اور بنگلہ دیش سے آگے رہا ہے۔ وزارت سمندر پار پاکستانیوں کی جانب سے جاری کئے گئے بیان کے مطابق 2020 میں بنگلہ دیش نے 2 لاکھ 17 ہزار 699 شہریوں کو روزگار کے لیے بیرون ملک بھیجا اور بھارت سے اسی دوران 94 ہزار 145 افراد روزگار کی غرض دیگر ممالک گئے۔

زلفی بخاری کا کہنا ہے کہ حکومت 20 لاکھ پاکستانی کارکنوں کو بیرون ملک روزگار دلانے کا ارادہ رکھتی ہے۔
زلفی بخاری کا کہنا ہے کہ حکومت 20 لاکھ پاکستانی کارکنوں کو بیرون ملک روزگار دلانے کا ارادہ رکھتی ہے۔

وزیر اعظم کے سابق معاون خصوصی برائے سمند پار پاکستانی زلفی بخاری کہتے ہیں کہ کرونا وائرس سے بہتر انداز میں نمٹنے اور وزیر اعظم کے خلیجی ممالک سے اچھے تعلقات بیرونی ملکوں میں پاکستانی ورکرز کو روزگار دلانے میں معاون ثابت ہوئے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے ایک کروڑ نوکریوں کا وعدہ کیا تھا اور کرونا سے پہلے حکومت نے 18 ماہ میں نو لاکھ سے زائد افراد کو بیرون ممالک بجھوایا اور اگر وبا نہ آتی تو اب تک 20 لاکھ سے زائد افراد بجھوا چکے ہوتے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان روزگار کے لیے بیرون ممالک ورکرز کی تعداد کو بڑھانے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے اور اگر کرونا وائرس کی صورت حال نے اجازت دی تو حکومت کے چوتھے سال میں بیرون ممالک افرادی قوت میں 20 لاکھ سے زائد کا اضافہ کیا جائے گا۔

زلفی بخاری کا کہنا تھا کہ ہنر مند اور پڑھے لکھے افراد کو بیرون ممالک روزگار کے اچھے مواقع دلا کر بے روزگاری میں کمی کے علاوہ ترسیلات زر میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترسیلات زر کا ملکی معیشت میں بہت بنیادی کردار ہے جسے حکومت بڑھا کر 35 ارب ڈالر تک لے جانے کا ارادہ رکھتی ہے۔

پاکستان کے معاشی سروے کے مطابق دنیا کے 50 مختلف ممالک میں ایک کروڑ 14 لاکھ سے زائد پاکستانی روزگار کی غرض سے مقیم ہیں۔

اس سے قبل کرونا وائرس کے آغاز پر مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک سعودی عرب، امارات، بحرین، قطر، عمان اور کویت سے ہزاروں پاکستانیوں کو نوکریوں سے نکال دیا گیا تھا۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ڈھائی سال کے دوران 12 لاکھ 32 ہزار پاکستانیوں کو روزگار کے لیے بیرون ملک بھیجا گیا جن میں سے زیادہ تر خلیجی ممالک میں گئے۔

اگرچہ سال 2019 کے مقابلے میں گزشتہ سال بیرون ممالک بجھوائی گئی افرادی قوت کی تعداد بہت کم ہے، تاہم کرونا وائرس کی پابندیوں میں حکومتی رہنما سے بڑی کامیابی قرار دیتے ہیں۔

کووڈ-19 وبا کی وجہ سے 2020 میں روزگار کے لیے باہر جانے کی شرح میں واضح کمی دیکھی گئی تاہم یہ تعداد ایشیائی ممالک میں سب سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔ سال 2019 میں 6 لاکھ 25 ہزار پاکستانیوں کو روزگار کی غرض سے بیرون ممالک بجھوایا گیا تھا۔

ترسیلات زر میں مسلسل اضافہ

بیرون ممالک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے مالی سال 2020/21 میں پاکستان بھیجی جانے والی ترسیلات زر میں ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا ہے۔ رواں سال ترسیلات زر میں مسلسل اضافہ ہوا اور صرف مئی 2021 میں اس مد میں 2 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا۔

’’اچھی ملازمتیں معیشت بہتر ہونے سے پیدا ہوتی ہیں‘‘
’’اچھی ملازمتیں معیشت بہتر ہونے سے پیدا ہوتی ہیں‘‘

اسٹیٹ بینک کے مطابق مئی 2021 میں ڈھائی ارب ڈالر کے ترسیلات زر موصول ہوئے جو گزشتہ برس اسی مہینے کے مقابلے میں 33 فیصد زیادہ ہیں۔

وزیر خزانہ شوکت ترین نے گزشتہ ہفتے اقتصادی سروے جاری کرتے ہوئے کہا کہ عالمی وبا کے زمانے میں ترسیلات زر پاکستان کی معیشت کے لیے بڑا سہارا ثابت ہوئے جو کہ ریکارڈ 26 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہیں اور رواں مالی سال کے اختتام پر 29 ارب ڈالر تک پہنچنے کا اندازہ ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2021 میں ترسیلات زر کا بڑا حصہ سعودی عرب سے 7 ارب ڈالر، متحدہ عرب امارات سے 5 اعشاریہ 6 ارب ڈالر، برطانیہ سے 3 اعشاریہ 7 ارب ڈالر اور امریکہ سے ڈھائی ارب ڈالر شامل ہے۔

معاشی تجزیہ نگار علی خضر کہتے ہیں کہ ترسیلات زر پاکستان کی معیشت کی ترقی کے لئے بنیادی اہمیت رکھتی ہیں کیونکہ معاشی ترقی کے لئے پاکستان برآمدات پر زیادہ انحصار نہیں کر سکتا ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ معیشت کو جلد ترقی کی راہ پر ڈالنے کے لئے ترسیلات زر، آئی ٹی اور خدمات کے شعبے کو بڑھانا ہو گا اور پاکستانیوں کو بیرون ممالک روزگار کے لئے بھجوانے پر حکومت کو توجہ دینی چاہئے۔

علی خضر کا کہنا تھا کہ ترسیلات زر میں اضافہ کی ایک وجہ حکومت کا بینکنگ نظام کے ذریعے رقوم بجھوانے پر لوگوں کو راغب کرنا ہے اور حکومت کو چاہئے کہ یہ سلسلہ اسی طرح برقرار رہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG