رسائی کے لنکس

دوپٹہ ثقافتی علامت، شادی کے بجائے پارٹنرشپ، ملالہ کا برٹش ووگ کو انٹرویو


ملالہ یوسف زئی اسلام آباد میں رائٹرز کے ساتھ انٹرویو کے دوران اپنا دوپٹہ درست کر رہی ہیں۔ 30 مارچ 2018

برطانوی فیشن میگزین برٹش ووگ کو انٹرویو دیتے ہوئے نوبل انعام یافتہ پاکستانی خاتون ملالہ یوسف زئی نے کہا ہے کہ نظریہ اور مقصد رکھنے والی نوجوان لڑکی اپنے دل میں جو طاقت رکھتی ہے، انہیں اس کا علم ہے۔

برٹش ووگ کی صحافی سیرین کیل نے لکھا کہ انٹرویو کے دوران ملالہ کا دوپٹہ ان کے کندھوں پر پڑا تھا اور ان کے بال کھلے تھے۔ اس بارے میں بات کرتے ہوئے ملالہ نے کہا کہ وہ سر پر دوپٹہ عموماً گھر سے باہر ہی اوڑھتی ہیں۔ گھر پر، یا دوستوں کے درمیان بقول ان کے ’’ایسے ہی ٹھیک ہے۔‘‘

سر پر دوپٹہ لینے یا اسکارف کے بارے میں بات کرتے ہوئے ملالہ نے کہا کہ یہ ان کے لیے مذہبی سے زیادہ ثقافتی استعارہ ہے۔ ان کے مطابق ’’یہ ہم پشتونوں کے لیے ثقافتی علامت ہے۔ اس سے یہ پتا چلتا ہے کہ ہم کہاں سے آئے ہیں۔"

انہوں نے کہا کہ "جب مسلمان خواتین، پشتون یا پاکستانی خواتین اپنا ثقافتی لباس پہنتی ہیں تو ہمیں مظلوم، بے آواز اور پدرشاہی نظام میں پھنسا ہوا سمجھا جاتا ہے۔ میں یہ سب کو بتانا چاہتی ہوں کہ اپنی ثقافت میں رہ کر بھی آواز اٹھائی جا سکتی ہے اور اپنی ثقافت میں بھی مساوت اور برابری حاصل کی جا سکتی ہے۔"

ملالہ یوسف زئی ٹوکیو میں منعقد ہونے والی ورلڈ اسمبلی فار وومن میں شریک ہیں۔ 23 مارچ 2019
ملالہ یوسف زئی ٹوکیو میں منعقد ہونے والی ورلڈ اسمبلی فار وومن میں شریک ہیں۔ 23 مارچ 2019

اس انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ عالمی وبا کے بعد وہ بھی باقی دنیا کے نوجوانوں کی طرح، بوریت کا شکار، مقصد کے بغیر اور بقول ان کے ملازمت سے محروم ہو گئی تھیں۔

انہوں نے یہاں پر خود سوال اٹھایا کہ اگرچہ ملالہ فنڈ میں ان کا کام جاری ہے، مگر آکسفورڈ سے گریجویشن کے بعد زندگی کے اس موڑ پر وہ آگے کیا کرنا چاہتی ہیں۔

انٹرویو میں انہوں نے ایپل ٹی وی پلس کے لیے اپنی پروڈکشن کمپنی بنانے کے بارے میں بتایا۔ اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ وہ چاہتی ہیں کہ خواتین کی تعلیم پر مبنی دستاویزی فلمیں بنانے کے ساتھ وہ ایسے ٹی وی شو بنائیں جنہیں دیکھ کر لوگ ہنسیں اور قہقہے لگائیں۔ بقول ان کے اگر یہ شو دیکھنے کے بعد مجھے مزہ نہ آیا اور میں نہ ہنسی تو انہیں اسکرین پر نہیں جانے دوں گی۔

ملالہ یوسف زئی منگورہ کے اپنے آبائی گھر میں اپنے خاندان کے افراد کے ہمراہ۔ 31 مارچ 2018
ملالہ یوسف زئی منگورہ کے اپنے آبائی گھر میں اپنے خاندان کے افراد کے ہمراہ۔ 31 مارچ 2018

ملالہ نے کہا کہ ہم نے انسانی حقوق کے کام کو ٹوئٹر سے جوڑ دیا ہے۔ ہمیں اسے بدلنے کی ضرورت ہے کیونکہ ٹوئٹر ایک بالکل مختلف دنیا ہے۔

برٹش ووگ کے مضمون میں بتایا گیا ہے کہ ملالہ نئی نسل کے ایکٹوسٹس میں رہنما کی صورت اختیار کر رہی ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے آواز اٹھانے والی 18 برس کی گریٹا تھنس برگ ہوں یا گن کنٹرول کی مہم چلانے والی 21 برس کی ایما گونزالز، دونوں ان سے مشورے کے لیے پیغام بھیجتی ہیں۔ بقول ملالہ ’’وژن اور مشن رکھنے والی نوجوان لڑکی اپنے دل میں جو طاقت رکھتی ہے، مجھے اس کا علم ہے۔‘‘

ملالہ نے بتایا کہ یونیورسٹی میں جا کر پہلی بار انہیں اپنی عمر کے لوگوں کے ساتھ وقت گزارنے کا موقع ملا۔ انہوں نے بتایاکہ وہ اس سب کے لیے بہت پرجوش تھیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ چاہتی تھیں کہ دوسرے طلبا انہیں بالکل طالب علم کی طرح ہی دیکھیں اور ٹی وی پر آنے والی ملالہ کی طرح ان سے سلوک نہ کریں۔

ملالہ یوسف زئی کے بارے میں پاکستانی تارکین وطن کی رائے
please wait

No media source currently available

0:00 0:01:24 0:00


انہوں نے برطانیہ منتقل ہونے کے بعد اپنی تنہائی کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ یونیورسٹی میں جا کر ان کے دوست بنے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے پہل جب آکسفورڈ میں پڑھنا شروع کیا تو انہیں لگا کہ وہ اب دنیا کے بہترین دماغوں کے ساتھ مقابلے میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے پڑھائی کے ساتھ ساتھ لوگوں سے ملنا جلنا شروع کیا۔

ان کی زندگی پر ایک سوال میں ملالہ نے کہا کہ وہ چاہتی ہیں کہ ان کا پارٹنر ان کو چاہنے والا، ان کو سمجھنے والا اور ان کا خیال رکھنے والا ہو۔ انہوں نے کہا کہ وہ رومانی تعلقات کے بارے میں نروس ہیں۔ بقول ان کے اس بارے میں کوئی کیسے یقین رکھے کہ کسی پر اعتماد کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔

انہوں نے کہا کہ انہیں سمجھ نہیں آتی کہ آپ کی زندگی میں کوئی فرد آئے تو اس سے شادی کرنا کیوں ضروری ہے، صرف پارٹنرشپ کیوں نہیں کی جا سکتی۔انہوں نے بتایا کہ ان کی والدہ اس بات سے بالکل اتفاق نہیں کرتیں۔ ملالہ کے بقول، "میری ماں کہتی ہیں، ایسی بات کہنے کی جرات بھی مت کرنا، تمہیں شادی کرنی ہوگی، شادی خوبصورت رشتہ ہے"۔

انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کے دوسرے برس تک ان کا خیال تھا کہ وہ کبھی شادی نہیں کریں گی۔ بقول ان کے کبھی بچے نہیں ہوں گے اور وہ بس کام کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ لیکن وقت کے ساتھ انسان بدل جاتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ جب وہ پاکستان سے برطانیہ منتقل ہوئیں تو وہ دن میں خواب دیکھتی تھیں کہ ان کا طیارہ پاکستان میں اتر رہا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG