رسائی کے لنکس

انگیلا میرکل: یورپ کی سیاست کا محور جنہیں 'سمٹ کوئن' کا خطاب ملا


جرمنی کی چانسلر انگیلا میرکل (فائل فوٹو)

جرمنی کی چانسلر انگیلا میرکل کا تقریباً 16 برس پر محیط دورِاقتدار 26 ستمبر کے انتخابات کے بعد ختم ہو جائے گا۔ اس طرح جرمنی کے ساتھ یورپ کی تاریخ کا بھی ایک عہد اختتام پذیر ہو گا۔

انگیلا میرکل 2005 میں جرمنی کی چانسلر منتخب ہوئی تھیں۔ وہ جرمنی کی تاریخ میں اس عہدے پر سب سے زیادہ عرصہ فائز رہنے والی تیسری اور اب تک کی واحد خاتون چانسلر ہیں۔

جرمنی کے پارلیمانی نظام میں حکومت کے سربراہ کو چانسلر کہا جاتا ہے۔ یہ وزیر اعظم کے عہدے کی طرح ہے۔

ان 16 برسوں میں جرمنی کی سیاست انگیلا میرکل کے گرد گھومتی رہی اور بڑی حد تک وہ یورپی یونین میں بھی سیاست کا محور رہیں۔

انگیلا میرکل کو یورپی یونین کے ان پختہ کار سیاست دانوں میں سب سے زیاہ بااثر تصور کیا جاتا تھا جو کسی بھی تنازع پر مذاکرات کی راہ نکالنے کا فن یا اس پر کسی حتمی فیصلے کو مؤخر کرانے کا گُر جانتے ہیں۔

ان 16 برسوں میں انگیلا میرکل نے جرمنی میں لازمی فوجی تربیت کی شرط ختم کی۔ جوہری توانائی اور تیل سے بجلی کی پیداوار کے بغیر جرمنی میں توانائی کے حصول کی پالیسی کا تعین کیا۔ ان کے دور میں ہم جنس پرستوں کی شادیوں کو قانونی حیثیت دی گئی۔

انگیلا میرکل کے دور میں کم از کم اجرت کا تعین کیا گیا اور ساتھ ہی بچوں کی دیکھ بھال کے لیے حوصلہ افزائی کرنے کی خاطر والدین کے لیے کئی مراعات بھی متعارف کرائیں۔

اس طویل دورِ اقتدار میں انگیلا نے کیا اُتار چڑھاؤ دیکھے اور کن بحرانوں میں اپنی قائدانہ صلاحیتوں کے ساتھ ابھر کر سامنے آئیں۔ اس سے پہلے ان کی زندگی پر ایک نظر!

نازی جرمنی کی شکست کو 75 سال مکمل
please wait

No media source currently available

0:00 0:02:46 0:00

سائنس سے سیاست کا سفر

انگیلا میرکل 1954 میں ہیمبرگ میں پیدا ہوئیں جو اس وقت مغربی جرمنی میں تھا۔ ان کے والد ایک پروٹیسٹنٹ پاسچر تھے۔ انہیں برلن کے شمال میں برینڈنبرگ کی ریاست کی جانب سے ملازمت کی پیش کش کی گئی جس کے بعد وہ اپنے خاندان کے ساتھ مشرقی جرمنی منتقل ہو گئیں۔

دوسری عالمی جنگ میں شکست کے بعد جرمنی چار ملٹری حصوں میں تقسیم ہوگیا تھا اور ہر ایک زون جنگ جیتنے والے اتحادی ممالک امریکہ، فرانس، برطانیہ اورسوویت یونین کے پاس تھا۔

امریکہ، فرانس اور برطانیہ کے زونز کو مغربی جرمنی کا نام دیا گیا جب کہ سوویت یونین کے حصے میں آنے والے علاقے میں مشرقی جرمنی قائم کیا گیا۔ یہ تقسیم 1989 میں دیوارِ برلن گرنے کے بعد ختم ہوئی۔

انگیلا میرکل نے یونیورسٹی آف لائپزگ سے فزکس کی تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے فزیکل کیمسٹری میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ ’ہارورڈ گزٹ‘ کے مطابق وہ 1989میں دیوار برلن گرنے تک مشرقی جرمنی کے ایک سرکاری ریسرچ سینٹر سے منسلک رہیں۔ جرمنی کے دوبارہ متحد ہونے کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی حالات انہیں سیاست کی جانب لے گئے۔

وہ 1990 میں جرمنی کی روایت پسند کرسچن ڈیموکریٹس(سی ڈی یو) میں شامل ہوئیں اور عملی سیاست کا باقاعدہ آغاز کر دیا۔

ایک سال بعد ہی وہ اس وقت کے جرمن چانسلر ہیلموٹ کول کی کابینہ میں خواتین اور نوجوانوں کے امور کی وزیر بن گئیں۔ 1994 میں وہ جرمنی کی وزیرِ ماحولیات بنیں۔

سن 2000 میں جب کرسچن ڈیمو کریٹس (سی ڈی یو) کے سربراہ کو غیر قانونی فنڈنگ کیس کے ایک اسکینڈل کا سامنا کرنا پڑا تو انگیلا پارٹی کی سربراہ منتخب ہو گئیں۔

انگیلا 2005 میں پہلی مرتبہ جرمنی کی چانسلر منتخب ہوئیں۔ وہ جرمنی کی تاریخ کی پہلی اور اب تک کی واحد خاتون چانسلر ہیں۔

اس کے علاوہ وہ سابق کمیونسٹ مشرقی جرمنی میں پروان چڑھنے والی پہلی لیڈر ہیں جو متحدہ جرمنی کے سیاسی میدان میں نمایاں ترین مقام حاصل کرنے میں کام یاب رہیں۔

’سمٹ کوئن‘

انگیلا کو جرمنی میں ایک معتدل مزاج رہنما سمجھا جاتا ہے جب عالمی سطح پر ان کی شہرت ایک باصلاحیت مصالحت کار کی رہی۔

انہوں نے اقتدار میں آنے کے بعد 2007 میں یورپی یونین اور جی آٹھ ممالک کے درمیان ماحولیاتی تبدیلیوں اور دیگر اصلاحات پر مصالحت میں اہم کردار ادا کیا۔ جس کی وجہ سے انہیں ’سمٹ کوئن‘ کہا جانے لگا۔

انگیلا جب 2005 میں چانسلر منتخب ہوئیں تو ان کا موازنہ برطانیہ کی پہلی وزیر اعظم مارگریٹ تھیچر سے کیا جاتا تھا۔ لیکن انگیلا نے اپنے محتاط انداز کی وجہ سے اپنی علیحدہ شناخت بنائی۔

انگیلا کے نام سے منسلک مرکل کون ہے؟

انگیلا میرکل نے 1977 میں اپنے یونیورسٹی کے ساتھی اور فزکس کے طالب علم الرچ میرکل سے شادی کی۔ 1982 میں یہ شادی ختم ہو گئی لیکن انہوں ںے اپنے نام کے ساتھ اپنے سابقہ شوہر کا نام برقرار رکھا۔

اس کے بعد انگیلا میرکل نے 1998 میں کیمسٹری کے پروفیسر یوآخم ساور سے شادی کی۔ ان کے شوہر میڈیا سے ہمیشہ دور رہتے ہیں۔ اس لیے ایک ایک جرمن اخبار نے انہیں ’نظر نہ آنے والے مالیکیول‘ کا نام دیا تھا۔

خبر رساں ادارہ 'رائٹرز' کے مطابق انگیلا میرکل کلاسیکی موسیقی شوق سے سنتی ہیں اور اس کے علاوہ وہ فارغ وقت میں ہائیکنگ کرنا پسند کرتی ہیں۔

یورو بحران

اقتدار میں آنے کے بعد انگیلا میرکل کو کئی بحرانوں کا سامنا تھا۔ 2008 میں یورپ کے معاشی بحران کے باعث یورپی یونین کی کرنسی ’یورو‘ کو شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑا تو انگیلا میرکل نے اس صورتِ حال کو سنبھالنے میں اہم کردار ادا کیا۔

انہوں ںے واضح طور پر کہا تھا کہ اگر یورو گر گیا تو یورپ بھی گر جائے گا۔ وہ قرضوں میں ڈوبے ہوئے جنوبی یورپی ممالک کو اخراجات میں کمی کے لیے سخت اقدامات کا پابند کرنے میں پیش پیش رہیں۔ اس کے ساتھ ہی یورپ میں معاشی مشکلات کا شکار ریاستوں کو قرضوں کی فراہمی کی بھی حمایت کی۔

کارنیگی یورپ نامی تھنک ٹینک سے وابستہ جوڈی ڈیمپسی کا کہنا ہے کہ بحرانوں سے نمٹنا انگیلا کی سب سے نمایاں خصوصیت ہے۔ چاہے وہ 2009 میں یورپ کا معاشی بحران ہو، پناہ گزینوں کے بحران میں یورپ کو متحد رکھنے کا معاملہ ہو یا عالمی وبا سے مقابلہ۔

پناہ گزینوں کا مسئلہ

جب 2015-16 میں شام، افریقہ اور وسطی ایشیا سے یورپ آنے والے پناہ گزینوں کا بحران پیدا ہوا تو میرکل نے ملک میں ان کی آمد کا خیر مقدم کیا۔

انہوں نے لاکھوں پناہ گزینوں کو جرمنی آنے کی اجازت دی لیکن انہیں ملک کے اندر اور اپنے یورپی اتحادیوں کی جانب سے بھی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

نیو یارک کی سراکیوز یونیورسٹی میں جدید جرمنی پر گہری نظر رکھنے والے اسکالر رابرٹ ٹیریل کا کہنا ہے کہ میرکل نے 2015 میں لاکھوں پناہ گزینوں کے خیر مقدم کی جو پالیسی اختیار کی اس نے جرمنی میں تقسیم پیدا کی۔ پناہ گزینوں کے لیے مختلف مراعات کے اعلان نے مقامی سطح پر شدید جذبات پیدا کیے۔

میرکل کی اس پالیسی کی وجہ سے یورپی یونین کے دیگر ممالک خاص طور پر پولینڈ، آسٹریا اور ہنگری کے جرمنی سے شدید اختلافات پیدا ہوئے۔ دوسری جانب پناہ گزینوں کے متعلق انگیلا کی پالیسیوں کا خیر مقدم بھی کیا گیا۔

چین اور روس پر ابہام

کارنیگی یورپ سے منسلک تجزیہ کار جوڈی ڈیمپسی کا کہنا ہے کہ میرکل چین اور روس سے متعلق کوئی واضح پالیسی اختیار نہیں کر پائیں۔

ان کے ناقدین کا کہنا ہے کہ وہ روس کے معاملے میں سخت مؤقف اختیار نہیں کر سکیں اور چین کے ساتھ تعلقات میں بھی انہوں نے معاشی مفادات کو دخل انداز نہیں ہونے دیا۔

یورو بحران کے دوران انگیلا کا مؤقف فیصلہ کن تھا۔ لیکن دیگر امور میں ان کے محتاط انداز کو ان کے ساتھی ’تزویراتی تحمل‘ یعنی علاقائی معاملات پر تحمل کی پالیسی قرار دیتے رہے ہیں۔

لغت میں نام

سن 2015 میں ایک جرمن لغت کے ناشر ’لینگن شائت‘ نے نئے الفاظ کے ایک مقابلے کے لیے ’میرکلن‘ کا لفظ تجویز کیا تھا۔

انگیلا میرکل کے نام سے ماخوذ اس لفظ کو فعل قرار دیا گیا تھا۔ میرکل کے محتاط اندازِ سیاست کی وجہ سے اس کا معنی یہ تجویز کیا گیا تھا کہ ہر کام پوری احتیاط اور بہت زیادہ سوچ بچار سے کرنے کو میرکلن کہا جانا چاہیے۔

رابرٹ ٹیرل کا کہنا ہے کہ یہ میرکل کا اندازِ سیاست ہے یا ان کی سوچی سمجھی کوشش تھی کیوں کہ صنفی اعبتار سے ہونے والی تنقید میں وہ اپنے فیصلوں پر جذباتیت لیبل لگنے نہیں دینا چاہتی تھیں۔ وجہ جو بھی رہی ہو میرکل نے اپنے فیصلہ سازی میں محتاط انداز کو اپنی شناخت بنایا۔

جرمنی میں کیا بدلا؟

جرمنی کے اندر تبدیلیوں کے اعتبار سے انگیلا میرکل کی پالیسیاں واضح رہیں۔ جوڈی ڈیمپسی کے مطابق انہوں نے جرمنی کی قدامت پسند سی ڈی یو پارٹی جس میں مردوں کو فیصلہ سازی میں برتری حاصل تھی اس کے مزاج میں کئی تبدیلیاں کیں۔

جرمنی کی تاریخی عمارتوں میں حادثات سے بچنے کی احتیاطی تدابیر
please wait

No media source currently available

0:00 0:01:36 0:00

جوڈی ڈیمپسی انگیلا میرکل کے دور میں جرمنی میں کم از کم اجرت کے تعین، بچے کی پیدائش پر والدین کے لیے چھٹیوں کی پالیسی میں لچک، فوجی تربیت کی لازمی شرط کے خاتمے جیسے دیگر اقدامات کو بڑی تبدیلیوں میں شمار کرتی ہیں۔

انگیلا میرکل کے حامی دس برس قبل جاپان میں فوکوشیما کے جوہری بحران کے بعد جرمنی میں 17 نیوکلیئر اسٹیشنز کی بندش کو بھی میرکل کا بڑا اقدام قرار دیتے ہیں۔

وہیں ’گرینز‘ کہلانے والے ماحولیاتی تحفظ کی حامی قانون سازوں نے جوہری توانائی سے بجلی کی پیداوار کم ہونے کے بعد کوئلے کا استعمال بڑھنے پر انگیلا میرکل کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

البتہ جرمن حکومت یقین دہانی کرا چکی ہے کہ 2038 تک بجلی کی پیداوار کے لیے کوئلے کا استعمال ترک کر دیا جائے گا۔

اسی طرح بین الاقوامی امور سے متعلق اینگلا میرکل کی کارکردگی سے متعلق بعض مبصرین کا خیال ہے کہ انہوں نے بڑے مقاصد کا تعین کرنے کے بجائے علاقائی محاذ کو ترجیح دی۔

واشنگٹن میں قائم ایک تھنک ٹینک امریکن انٹرپرائز انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ تجزیہ کار ڈالیبور روہاک کے مطابق 16 برس کے دورِ اقتدار میں ان کی سب سے بڑی کامیابی تنازعات سے گریز ہے۔ جرمنی کے لوگوں کے لیے یہی بہت بڑا تحفہ تھا۔

اس تحریر میں شامل بعض معلومات خبر رساں اداروں ’رائٹرز‘ اور ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ سے لی گئی ہیں۔

XS
SM
MD
LG