رسائی کے لنکس

خیبر پختونخوا: کیلاش قبیلے کی ثقافت محفوظ بنانے کے لیے 20 کنال اراضی کی خریداری


فائل فوٹو

خیبر پختونخوا حکومت نے چترال کے پہاڑی علاقوں اور وادیوں کے درمیان آباد کیلاش قبیلے کی مذہبی ثقافتی اقدار کو محفوظ بنانے اور یہاں کے مسائل کے حل کے لیے منصوبے کا آغاز کیا ہے۔

خیبر پختونخوا کے محکمۂ ثقافت کے ایک بیان کے مطابق کیلاش کی تین وادیوں میں موجود کیلاش قبیلے کے لوگوں کو قبرستان، روایتی مذہبی رقص اور تہوار منانے کے لیے 20 کنال اراضی تقریباََ دو کروڑ 80 لاکھ روپے کی لاگت سے خریدی گئی ہے۔

محکمۂ آثار قدیمہ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عبدالصمد نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ یہ مجموعی طور پر 60 کروڑ روپے کا منصوبہ ہے۔ ابھی زمین خریدی گئی ہے۔ اب 20 کنال زمین، جو تین وادیوں کے مختلف دیہاتوں میں ہے، پر تعمیراتی کام شروع کیا جائے گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس کے علاوہ اس علاقے میں دو گھر بھی خریدے گئے ہیں، تاکہ ان کو اپنی اصلی حالت میں برقرار رکھا جائے اور دنیا بھر سے آنے والے سیاح کیلاش قبیلے کی ثقافتی اور مذہبی تاریخ سے آشنا ہو سکیں۔

کیلاش قبیلے کی الگ ثقافت

کیلاش قبیلے کے لوگ پاکستان کے شمالی ضلع چترال اور افغانستان کے صوبوں نورستان اور کنڑ کی سرحد پر تین چھوٹی چھوٹی وادیوں میں آباد ہیں۔ اس قبیلے کا اپنا الگ مذہب اور رہن سہن کا روایتی انداز ہے۔

ماضیٴ قریب میں اس قبیلے کی آبادی بہت زیادہ تھی۔ البتہ اب ان تین مختلف وادیوں بمبوریت، بریر اور ریمبور میں ان کی مجموعی آبادی تین سے ساڑھے تین ہزار کے درمیان بتائی جاتی ہے۔

کیلاش کون ہیں؟

چترال سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی گل حماد فاروقی نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ کیلاش لوگ خود کو سکندرِ اعظم کی اولاد قرار دیتے ہیں جو پانچ ہزار سال قبل ان وادیوں میں آباد ہوئے۔

کیلاش کی خواتین کو سیاحوں سے کیا شکایت ہے؟
please wait

No media source currently available

0:00 0:03:18 0:00

ان کے مطابق کیلاش قبیلے کے افراد کہتے ہیں کہ جب سکندرِ اعظم افغانستان پر حملہ کرکے واپس آ رہے تھے تو ان کا گزر اس علاقے سے ہوا تھا۔ اسے پیٹ کی بیماری لاحق ہوئی تھی۔ اس کے ساتھ اس کے چند فوجی بھی اس کی حفاظت اور خدمت کے لیے موجود تھے۔ بعد میں ان کی موت واقع ہوئی، جب کہ کیلاش لوگ اسی کے نسل سے یہاں آباد ہوئے۔ انہوں نے اپنی مخصوص ثقافت کئی ہزار برس سے محفوظ رکھی ہوئی ہے جو پاکستان کے انڈیجنیس پیپلز میں شامل ہیں۔ انہوں نے ابھی تک اپنی ثقافت، لباس اور رسم و رواج تبدیل نہیں کیے۔

گل حماد فاروقی کے بقول یہ لوگ اب تین وادیوں میں رہتے ہیں۔ تینوں وادیوں میں اب کیلاش مذہب سے وابستہ لوگوں کی تعداد کافی کم ہے، کیوں کہ زیادہ تر لوگوں نے مذہب تبدیل کر لیا ہے اور وہ مسلمان ہو چکے ہیں۔ اس کی وجہ سے ان لوگوں کو مختلف حوالوں سے کافی مشکلات کا سامنا ہے۔

محکمۂ ثقافت کی فراہم کردہ معلومات

محکمۂ ثقافت کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق جو زمین خریدی گئی ہے اس کا رقبہ 20 کنال ہے جس میں سے لگ بھگ 12 کنال پانچ مختلف دیہات میں مقبروں جب کہ پانچ کنال مذہبی روایتی رقص اور تین کنال تہوار منانے کے لیے مخصوص مقامات کی تعمیر کے لیے مختص کی گئی ہے۔

ڈاکٹر عبدالصمد کہتے ہیں کہ زمین خریدنے کے بعد اب اسے پہلے سے موجود قبرستانوں میں شامل یا نئے قبرستان کے لیے مختص کیا گیا ہے اور اس کے اردگرد خار دار تاریں بھی لگائی جا رہی ہے، تاکہ ان قبرستانوں کی حفاظت کو بھی یقینی بنایا جا سکے۔

اسی طرح ان کا کہنا تھا کہ مذہبی روایتی رقص اور مختلف تہوار منانے کے مقامات کی تعمیر پر کام بہت جلد شروع کر دیا جائے گا۔

کیلاش قبیلے کے لوگوں کا مؤقف

اسی کیلاش برادری سے تعلق رکھنے والی خاتون سعید گل کو اپنی برادری میں زیادہ تعلیم یافتہ خاتون کے طور پر جانا جاتا ہے۔ انہوں نے ہزارہ یونیورسٹی سے آثارِ قدیمہ میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی ہے۔

سعید گل نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں خیبر پختونخوا حکومت کے اقدام کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پہلی بار کسی بھی حکومت نے وادیٴ کیلاش کے مذہبی مقامات اور ثقافتی ورثے کو محفوظ بنانے کے لیے عملی قدم اُٹھایا ہے۔

سعید گل کا کہنا تھا کہ حکومت کے اس اقدام سے نہ صرف کیلاش مذہب سے وابستہ لوگوں میں بڑھتی ہوئی احساس محرومی پر قابو پانے میں مدد ملے گی، بلکہ اس سے کیلاش لوگوں کے مذہبی اور ثقافتی ورثے کو بھی محفوظ بنایا جا سکے گا۔

وادی کیلاش میں بہار اور محبت کا تہوار
please wait

No media source currently available

0:00 0:03:03 0:00

اُنہوں نے کہا کہ دنیا بھر سے سیاح برف پوش پہاڑوں کے وسط میں واقع کیلاش قبیلے کے مذہبی اور ثقافتی ورثے کو دیکھنے کے لیے آتے ہیں۔ خیبر پختونخوا حکومت کے اقدام سے وادیٴ کیلاش میں سیاحت کو مزید فروغ ملے گا۔

بے ہنگم تعمیرات سے ثقافتی ورثے کو خطرہ

سعید گل کا کہنا ہے کہ کیلاش کی وادی میں بے ہنگم تعمیرات، غیر مقامی لوگوں کی جائیدادیں خریدنے اور آباد ہونے اور دیگر تجاوزات کے باعث مذہبی ثقافتی ورثہ نہ صرف غیر محفوظ ہو چکا ہے، بلکہ ختم ہوتا جا رہا ہے۔ اسی لیے ثقافتی اور مذہبی ورثے کو محفوظ بنانے کے لیے اس علاقے کو قومی ثقافتی ورثہ قرار دینا چاہیے اور اسے اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے ثقافت کی فہرست میں شامل کرنا چاہیے۔

ڈاکٹر عبدالصمد کہتے ہیں کہ 18ویں ترمیم کے بعد چوں کہ تمام ثقافتی ورثے اب صوبائی حکومت کی تحویل میں آ گئے ہیں، اس کے تحفظ اور ترقی کے لیے قانون سازی اور اقدامات صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اقوامِ متحدہ کا ادارہ برائے ثقافتی ورثہ وفاقی حکومت کے ساتھ معاہدے کرنے کو ترجیح دیتا ہے، جو ان کے بقول اس سلسلے میں ایک اہم رکاوٹ ہے۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے اب کیلاش کے مذہبی اور ثقافتی ورثے کو محفوظ بنانے کے لیے باقاعدہ طور پر قانون سازی کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں تعمیرات بالخصوص گھروں، ہوٹلوں، شاہراہوں، گلیوں اور دیگر عمارات کی تعمیر کے لیے قواعد اور ضوابط بنائے جا رہے ہیں۔

دوسری جانب سعید گل کا کہنا ہے کہ پہلی بار خیبر پختونخوا حکومت نے ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت مقامی لوگوں کی خواہش کے مطابق ایک منصوبے پر کام شروع کیا ہے جس سے کیلاش مستقبل قریب میں ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کے لیے ایک پسندیدہ مرکز بن سکتا ہے۔

مبصرین کے مطابق کیلاش قبیلے کے لوگوں کو حالیہ برسوں میں کافی اہمیت دی گئی ہے۔ 2018 کے عام انتخابات کے بعد کیلاش برادری کے وزیر زادہ کو نہ صرف غیر مسلم اقلیتوں کے لیے مخصوص نشست سے رکن خیبر پختونخوا اسمبلی بنایا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کو صوبائی کابینہ میں مشیر کی حیثیت بھی دی گئی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG