رسائی کے لنکس

غنی کے فرار سے اقتدار کی پرامن منتقلی کا منصوبہ دھرا رہ گیا، خلیل زاد


فائل فوٹو

امریکی ایلچی برائے افغان مفاہمت نے کہا ہے کہ اگست کے وسط میں انھوں نے طالبان کے ساتھ آخری لمحات میں ایک معاہدہ طے کیا تھا جس میں مذاکرات کے ذریعے سیاسی عبوری دور کے معاملات طے پائے، تاکہ سرکش عناصر کو کابل سے باہر رکھا جا سکے۔

لیکن، انھوں نے بتایا کہ صدر اشرف غنی کی جانب سے ملک سے بھاگ نکلنے کے فیصلے کے نتیجے میں یہ منصوبہ دھرے کا دھرا رہ گیا۔

افغان نژاد امریکی خصوصی ایلچی، زلمے خلیل زاد نے یہ انکشاف روزنامہ 'فنانسشل ٹائمز' کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کیا۔

انھوں نے کہا کہ 15 اگست کو طالبان کی جانب سے دارلحکومت پر قبضہ کرنے سے چند گھنٹے قبل انھوں نے طالبان دو ہفتے کی مہلت کا معاملہ طئے کیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ غنی کے چلے جانے سے شہر میں سیکیورٹی کا ایک خلا پیدا ہو گیا۔ جس کی وجہ سے اس دن اسلام پسند گروپ نے تیزی سے شہر کے اندر قدم جما لیے۔

زلمے خلیل زاد (فائل فوٹو)
زلمے خلیل زاد (فائل فوٹو)

خلیل زاد نے وضاحت کی کہ اس معاہدے کی رو سے غنی اس وقت تک اقتدار میں رہتے جب تک مستقبل کی حکومت سے متعلق دوحہ میں کوئی سمجھوتا نہ ہو جاتا؛ باوجود اس بات کے کہ اس وقت تک طالبان کابل کے دروازے پر دستک دے رہے تھے۔

طالبان کی تصدیق

طالبان کے ایک اہل کار نے بدھ کے روز قطر کے دارالحکومت دوحہ میں خلیل زاد کے ساتھ ہونے والی مفاہمت کی تفصیل کی تصدیق کی، جہاں ان کا سیاسی دفتر ہوا کرتا تھا۔

طالبان کے ترجمان، سہیل شاہین نے دوحہ سے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ''ہاں، ہماری طرف سے اس بات کا یقین دلایا گیا تھا کہ ہماری فوج کابل شہر کے اندر داخل نہیں ہو گی، اور ہم اقتدار کی پر امن منتقلی کے بارے میں بات کرنے پر تیار تھے''۔

خلیل زاد نے 'فنانشل ٹائمز' کو بتایا کہ انھیں کوئی اندازاہ نہیں تھا کہ غنی متحدہ عرب امارات میں سیاسی پناہ لینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

امریکی ایلچی نے کہا کہ ''غنی کے جانے کے بعد کابل میں امن و امان سے متعلق سوالات اٹھ کھڑے ہوئے۔ پھر طالبان نے کہنا شروع کیا: ''کیا آپ اب کابل کی سیکیورٹی کی ذمہ داری لیں گے''؟ ''پھر جو کچھ ہوا وہ آپ کو پتا ہے، ہم یہ ذمے داری نہیں لے سکتے تھے''۔

زلمے خلیل زاد نے فروری 2020 میں طالبان کے ساتھ ایک معاہدے پر بات چیت کی، جس سے امریکہ کی افغان جنگ میں تقریباً 20 سال کی شمولیت کے بعد افغانستان سے تمام امریکی فوجیوں کی واپسی کی راہ ہموار ہوئی۔

وزیر خارجہ انٹنی بلنکن نے بھی حالیہ دنوں میں متعدد بار یہ کہا ہے کہ جب صدر غنی ملک سے فرار ہو رہے تھے اور ان دنوں انہوں نے یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ واشنگٹن کے منصوبے سے متفق ہیں۔

اس مہینے کے شروع میں افغانستان کے ایک نیوز چینل 'طلوع' سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا، غنی نے ملک سے فرار ہونے سے ایک رات پہلے مجھ سے گفتگو کی تھی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ آخری سانس تک لڑنے کے لیے تیار ہیں۔

غنی نے حالیہ دنوں میں متحدہ عرب امارات سے اپنے بیانات میں کہا ہے کہ وہ افغان باشندوں کو چھوڑ دینے پر ان سے معافی مانگتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے صدارتی محل کی سیکیورٹی کے مشورے پر عمل کیا۔ سابق صدر نے لاکھوں ڈالر چوری کرنے کے الزامات کو بھی مسترد کردیا۔

نگران حکومت

افغان طالبان نے 20 سال قبل امریکی قیادت میں بین الاقوامی افواج کے حملے کے بعد حالیہ دنوں میں اپنی عبوری حکومت کا اعلان کیا ہے۔ امریکہ نے یہ حملہ اس لیے کیا تھا، کیونکہ طالبان نے القاعدہ کے رہنماؤں کو ملک سے نکالنے کا مطالبہ ماننے سے انکار کر دیا تھا۔

طالبان نے اپنے پہلے دور حکومت میں 1996 سے 2001 کے دوران اپنے انداز کے سخت قوانین نافذ کیے تھے، جس میں ظالمانہ نظام انصاف تھا، افغان اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک کیا جاتا تھا، خواتین کو عوامی زندگی سے دور کر دیا گیا تھا اور لڑکیوں پر تعلیم کے دروازے بند کر دیے گئے تھے، جس کے سبب اس وقت افغانستان عالمی تنہائی کا ہدف بن گیا تھا۔

امریکہ اور کئی دوسرے ممالک اب طالبان پر زور دے رہے ہیں کہ اگر وہ چاہتے ہیں کہ ان کا ملک عالمی برادری کا حصہ رہے اور کابل میں ان کی زیر قیادت حکومت سفارتی قبولیت حاصل کرے تو انہیں ماضی کا اپنا سخت گیر نظام واپس لانے سے احتراز کرنا ہو گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG