رسائی کے لنکس

جہانگیر ترین کا پریشر گروپ، 'کہیں نہ کہیں سے ڈوریاں ہلائی جا رہی ہیں'


فائل فوٹو

پاکستان میں دو روز سے حکمراں جماعت پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے ناراض رہنما جہانگیر ترین کی جانب سے بنائے جانے والے 'ہم خیال گروپ' اور اس کے حکومت پر ممکنہ اثرات پر تبصروں اور تجزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ ترین گروپ کی زیادہ توجہ پنجاب پر ہے اور وہ جب چاہیں یہاں تبدیلی لا سکتے ہیں۔ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جب تک ملک کے مقتدر حلقے نہیں چاہیں گے اس وقت تک تبدیلی نہیں آ سکتی۔

جہانگیر ترین نے بدھ کو صبح لاہور کی بینکنگ کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو میں کہا تھا کہ پنجاب میں اُن کے ہم خیال پارٹی رہنماؤں کے خلاف، بقول ان کے، انتقامی کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں۔

تاہم، جمعرات کو وفاقی وزیرِ داخلہ شیخ رشید احمد سے ملاقات کے دوران پنجاب کے وزیرِ اعلٰی عثمان بزدار نے کہا کہ پنجاب میں کسی کے خلاف بھی انتقامی کارروائی نہیں ہو رہی۔

وزیر اعلٰی پنجاب نے ترین گروپ کے متحرک ہونے کے بعد اراکینِ پنجاب اسمبلی سے ملاقاتیں بھی شروع کر دی ہیں۔ ترجمان وزیرِ اعلٰی کے مطابق عثمان بزدار نے دو روز میں 50 سے زائد ارکان سے ملاقاتیں کی ہیں۔

کیا اسٹیبلشمنٹ کا رویہ بدل رہا ہے؟

سینئر صحافی افتخار احمد کی رائے میں وفاق یا پنجاب میں کسی بھی تبدیلی کے لیے پاکستان مسلم لیگ (ن) کا اہم کردار ہو گا۔ اُن کے بقول، اگر نواز شریف چاہیں تو یہ کام کل ہو سکتا ہے۔

سینئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ پاکستان کی سیاست میں ایسا ممکن نہیں ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی مدد کے بغیر کوئی بھی اتنا بڑا گروپ بنا لے۔ لہذٰا، بقول ان کے، کہیں نہ کہیں سے ڈوریاں ہلائی جا رہی ہیں۔

سہیل وڑائچ سمجھتے ہیں کہ موجودہ سیاسی صورتِ حال کے مطابق یہ ملک کے حالات پر منحصر ہے کہ وہ کیا کروٹ لیتے ہیں۔

سہیل وڑائچ نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ الیکشن تک انتظار کرنا چاہتی ہے تو پھر یہ ایک فارورڈ بلاک یا ایک پریشر گروپ کی حد تک ہی رہیں گے۔

سینئر صحافی اور تجزیہ کار فہد حسین کہتے ہیں کہ جہانگیر ترین کی پشت پناہی کون کر رہا ہے اِس بارے میں کچھ بھی یقین سے نہیں کہا جا سکتا، لیکن جو پسِ پردہ خبریں سامنے آ رہی ہیں اُس سے یہ اندازہ ضرور ہو رہا ہے کہ جہانگیر ترین گروپ ایسے ہی نہیں بن گیا، بلکہ، ان کے الفاظ میں، درونِ خانہ کچھ نہ کچھ ضرور چل رہا ہے۔

پنجاب کا سیاسی مستقبل کیا ہو گا؟

تجزیہ کار فہد حسین سمجھتے ہیں کہ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ جہانگیر ترین گروپ کے ذریعے کوئی تبدیلی ہونے والی ہے۔

اُن کے بقول، "ترین صاحب اور اُن کے گروپ نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اُن کے پاس یہ اہلیت ہے کہ وہ جب چاہیں پنجاب حکومت کو ختم کر سکتے ہیں۔"

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے فہد حسین نے کہا کہ اُن کی معلومات کے مطابق ترین گروپ فی الحال کوئی انتہائی قدم نہیں اُٹھائے گا، بلکہ ایک پریشر گروپ کے طور پر ہی متحرک رہے گا۔

جہانگیر ترین کو عمران خان کا قریبی ساتھی سمجھا جاتا تھا۔
جہانگیر ترین کو عمران خان کا قریبی ساتھی سمجھا جاتا تھا۔

اُن کے بقول، اس گروپ سے حکومت کو خطرہ تو ضرور ہے، لیکن اس گروپ کی وجہ سے جہانگیر ترین یا اُن کے ساتھی ارکان کو کتنا فائدہ ملتا ہے یہ آنے والے دِنوں میں واضح ہو جائے گا۔

فہد حسین سمجھتے ہیں کہ پنجاب حکومت پر جو دباؤ تھا وہ کافی حد تک کھل کر سامنے آ گیا ہے اور پنجاب حکومت کو بھی یہ معلوم ہو گیا ہے کہ اُن کا مستقبل اِس گروپ کے ہاتھ میں ہے۔

سہیل وڑائچ کے خیال میں موجودہ سیاسی صورتِ حال میں جہانگیر ترین گروپ ایک پریشر گروپ کی شکل تو اختیار کر چکا ہے جس کے بعد پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت کے پاس، بقول ان کے، اب بظاہر اکثریت نہیں رہی۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے سہیل وڑائچ نے کہا کہ "فرض کریں کہ اگر جہانگیر ترین گروپ حکومت سے الگ ہو جاتا ہے تو پنجاب میں پی ٹی آئی کی اکثریت نہیں رہے گی کیوں کہ 33 لوگ یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ وہ جہانگیر ترین کے ساتھ ہیں۔"

خیال رہے کہ پنجاب اسمبلی میں مطلوبہ اکثریت نہ ہونے کے باعث تحریک انصاف نے آزاد اراکین اور مسلم لیگ (ق) کو ساتھ ملا کر اتحادی حکومت بنائی تھی۔ ان آزاد اراکین میں سے بیشتر کو تحریک انصاف میں شامل کرانے کے لیے جہانگیر ترین نے اہم کردار ادا کیا تھا۔

سہیل وڑائچ کی رائے میں اگر جہانگیر ترین گروپ کسی اور سیاسی جماعت کے ساتھ مل جاتا ہے تو، ان کے خیال میں، پی ٹی آئی کی پنجاب میں حکومت ختم بھی کر سکتا ہے۔

کیا ترین گروپ کو کوئی ریلیف مل سکتا ہے؟

سہیل وڑائچ کی رائے میں جہانگیر ترین اور اُن کا گروپ بجٹ تک اپنی موجودگی کا احساس دلاتا رہے گا۔

اُن کے بقول، "ترین صاحب کسی نہ کسی شکل میں بجٹ تک یا بجٹ کے دوران اپنا وزن دکھانے کی کوشش کرتے رہیں گے۔"

فہد حسین کہتے ہیں کہ جہانگیر ترین کے خلاف تمام کیسز جلد ختم نہیں ہو سکتے۔

فہد حسین نے کہا کہ موجودہ صورتِ حال میں تحریکِ انصاف کی وفاق اور پنجاب میں حکومتیں دباؤ میں رہیں گی۔

اُن کے بقول، جہانگیر ترین کو کس حد تک ریلیف مل سکتا ہے اس کا فیصلہ تو بیرسٹر علی ظفر کی رپورٹ کی روشنی میں ہی ہو گا۔

خیال رہے کہ جہانگیر ترین کے خلاف شوگر اسکینڈل میں جاری تحقیقات کے میرٹ کا جائزہ لینے کی ذمے داری سینیٹر علی ظفر کو سونپی گئی ہے۔

فہد حسین کی رائے میں جہانگیر ترین اپنے گروپ کو فارورڈ بلاک نہیں کہتے، لیکن فارورڈ بلاک ایسے ہی ہوتے ہیں کہ جب ایک جماعت پارلیمنٹ کے اندر اپنا ایک گروپ بنا لیتی ہے اور وہ اپنی بات کرتی ہے۔

اُنہوں نے مزید کہا کہ پاکستان تحریکِ انصاف کی سیاست میں یہ پہلی بار ہوا ہے کہ اِس طرح کا ایک گروپ بنا ہے جو اپنے مطالبات کو منوانے کے لیے سامنے آ چکا ہے۔

حکومتی مؤقف

وفاقی وزیرِ داخلہ شیخ رشید کہتے ہیں کہ وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے اُنہیں کہا ہے کہ اگر جہانگیر ترین کے لوگوں کو گلہ ہے تو وہ اُنہیں بتائیں۔ وہ کسی قسم کی انتقامی کارروائی نہ کر رہے ہیں اور نہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

جمعرات کو لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شیخ رشید نے کہا کہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد نہیں آ رہی۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ علی ظفر جہانگیر ترین سے متعلق اپنی رپورٹ جلد عمران خان کو دے دیں گے۔

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے شیح رشید نے کہا کہ گلے شکوے ہوتے رہتے ہیں اِنہیں دور کرنا چاہیے۔ شیخ رشید نے دعویٰ کیا کہ جہانگیر ترین گروپ بجٹ اجلاس اور دوسرے معاملات میں عمران خان کو ہی ووٹ دے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG