رسائی کے لنکس

اسرائیل کی سیاست میں ہلچل، اپوزیشن کا نئی حکومت بنانے کا اعلان


وزیرِ اعظم نیتن یاہو کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے لیے یش عتید پارٹی کے سربراہ یائر لیپڈ نے یامینا پارٹی کے سربراہ نفتالی بینٹ سے سیاسی اتحاد کیا ہے۔

اسرائیل میں حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے رہنماؤں نے صدر کو آگاہ کر دیا ہے کہ وہ نئی حکومت تشکیل دینے کے معاہدے پر متفق ہو گئے ہیں۔ اس نئی پیش رفت کے بعد وزارتِ عظمیٰ کی کرسی پر گزشتہ 12 برس سے براجمان بن یامین نیتن یاہو کا اقتدار خطرے میں ہے۔

اسرائیل میں حکومت سازی گزشتہ دو برسوں سے سیاسی مسئلہ بنی ہوئی ہے جس کے لیے چار مرتبہ انتخابات بھی ہو چکے ہیں۔ کسی بھی جماعت کی انتخابات میں واضح اکثریت نہ ہونے کی وجہ سے چار انتخابات کے بعد ایک مرتبہ پھر اسرائیل کو پانچویں انتخابات کا چیلنج درپیش تھا۔

سیاسی جماعتوں کو 120 رکنی پارلیمنٹ میں اکثریت ظاہر کرنے کے لیے بدھ کی ڈیڈ لائن کا سامنا تھا۔ اس ڈیڈ لائن کے ختم ہونے سے محض 35 منٹ قبل حزبِ اختلاف کی جماعت یش عتید پارٹی کے سربراہ یائر لیپڈ نے صدر ریوین ریولن کو بذریعہ ای میل آگاہ کیا کہ وہ حکومت بنانے کے لیے پارلیمنٹ میں مطلوبہ عددی اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

صدارتی دفتر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق صدر ریولن نے لیپڈ کو فون کر کے مبارک باد بھی دی ہے۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق جس وقت یائر لیپڈ نے صدر کو ای میل کی اس وقت وہ اسرائیل میں جاری فٹ بال ایونٹ کا فائنل میچ دیکھنے کے لیے گراؤنڈ میں موجود تھے۔

یاد رہے کہ نیتن یاہو کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے لیے لیپڈ نے یامینہ پارٹی کے سربراہ نفتالی بینٹ سے سیاسی اتحاد کیا ہے۔ دونوں جماعتوں کے درمیان طے پانے والے فارمولے کے تحت حکومت کے ابتدائی دو سال بینٹ وزیرِ اعظم ہوں گے جس کے بعد دو برس کے لیے لیپڈ وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھالیں گے۔

حکومت بنانے کے لیے تشکیل پانے والے نئے سیاسی اتحاد میں دیگر چھوٹی بڑی جماعتیں شامل ہیں۔ اسرائیل کی تاریخ میں پہلی مرتبہ عرب اسرائیلیوں کی نمائندہ جماعت 'یونائیٹڈ عرب لسٹ' نے اتحاد میں شمولیت اختیار کی ہے۔

اس اتحاد میں سابق وزیرِ دفاع بینی گینتز کی بلیو اینڈ وائٹ پارٹی، میرٹز اور لیبر پارٹی کے علاوہ سابق وزیرِ دفاع اوگدور لبرمین کی جماعت 'یسریال بیتینو پارٹی' اور سابق وزیرِ تعلیم گیدون سار کی جماعت 'نیو ہوپ' شامل ہے۔

نئی ممکنہ اسرائیلی حکومت کو پارلیمنٹ میں معمولی اکثریت حاصل ہو گی جو آئندہ 10 سے 12 روز میں حلف اٹھا سکتی ہے۔

اسرائیل کے سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وزیرِ اعظم نیتن یاہو نئی حکومت کی تشکیل سے قبل ہر ممکنہ سیاسی اقدامات اٹھا سکتے ہیں جن میں یامینہ جماعت کے ارکان کو اپنے ساتھ ملانا بھی شامل ہے۔

واضح رہے کہ یامینہ پارٹی کے بعض ارکان نئے سیاسی اتحاد میں عرب جماعتوں کے علاوہ بائیں بازو کے ارکان کی شمولیت پر ناخوش ہیں۔

اسرائیل کی پارلیمنٹ میں پارٹی پوزیشن

اسرائیل کی 120 رکنی پارلیمنٹ میں نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ پارٹی 30 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی جماعت ہے جب کہ یش عتید پارٹی کی 17 نشستیں ہیں جو دوسرے نمبر پر ہے۔

پارلیمنٹ میں دیگر جماعتیں 10 سے بھی کم نشستیں رکھتیں ہیں۔

حکومت سازی کے لیے نئے اتحاد میں شامل بلیو اینڈ وائٹ پارٹی کے ارکان کی تعداد آٹھ ہے۔ لیبر پارٹی، یامینہ پارٹی، یسریال بینیتو کی سات سات جب کہ میرٹز اور نیو ہوپ پارٹی کے ارکان کی تعداد چھ چھ ہے۔ یونائٹڈ عرب لسٹ کے چار ارکان بھی نئے سیاسی اتحاد کا حصہ ہیں۔

اس طرح نیتن یاہو کے خلاف بننے والے سیاسی اتحاد کے پاس ایوان میں نشستوں کی کل تعداد 62 ہے اور آئین کے تحت حکومت بنانے کے لیے 61 نشستیں درکار ہوتی ہیں۔

یاد رہے کہ اسرائیل کی سیاسی تاریخ میں آج تک کسی بھی جماعت نے واضح اکثریت حاصل کر کے حکومت نہیں بنائی اور کبھی کوئی جماعت 56 نشستوں سے زیادہ حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی۔ حکومت سازی کے لیے اسرائیل میں سیاسی اتحاد ہمیشہ بنتے رہے ہیں اور اس بار بھی ایک کثیر جماعتی اتحاد سامنے آیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG