رسائی کے لنکس

اسرائیل کی حکومت کو عرب شہریوں سے متعلق متنازع قانون کی تجدید میں ناکامی


فائل فوٹو

اسرائیل کی پارلیمان میں حکومت کو وہ قانون دوبارہ منظور کرنے میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے جس کے تحت اسرائیل کے عرب شہریوں پر پابندی عائد کی جانا تھی کہ وہ مغربی کنارے یا غزہ سے تعلق رکھنے والے شریکِ حیات کو ساتھ نہ رکھ سکیں اور نہ ہی ان کو شہریت حاصل ہو۔

اسرائیل کی پارلیمان جسے کنیسٹ کہا جاتا ہے، میں منگل کو قانون سازی کے لیے رائے شماری کی گئی تھی۔ 120 رکنی پارلیمان میں قانون کے حق اور مخالفت دونوں میں 59، 59 ووٹ ڈالے گئے۔

قانون منظور نہ ہونے کو مبصرین اسرائیل کے وزیرِ اعظم نفتالی بینیٹ کی ناکامی کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ قدامت پسند نظریات کے حامل نفتالی بینیٹ گزشتہ ماہ ہی اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنے ہیں۔ ان کی وزارتِ عظمیٰ سنبھالتے ہی بن یامین نیتن یاہو کا 12 برس سے جاری دورِ اقتدار ختم ہوا تھا۔

نفتالی بینیٹ نے امید ظاہر کی تھی کہ وہ اپنی جماعت سمیت دیگر اتحادیوں کو اس قانون کی منظوری پر قائل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے جب کہ مبینہ طور پر انہوں نے اس قانون سازی کو حکومت کے لیے ریفرنڈم بھی قرار دیا تھا۔ حالیہ قانون سازی کی ناکام کوشش کے بعد اس قانون کا اطلاق منگل کی شب ختم ہو جائے گا۔

اسرائیل کی شہریت اور ملک میں داخلے کا قانون 2003 میں عارضی طور پر لاگو کیا گیا تھا۔ اس وقت فلسطینیوں کی اسرائیل کے خلاف مزاحمتی تحریک عروج پر تھی۔ اس وقت اسرائیل میں کئی ہلاکت خیز حملے بھی ہوئے تھے۔

اس قانون کے حامیوں کا کہنا تھا کہ مغربی کنارے اور غزہ سے تعلق رکھنے والے عرب شہری عسکری گروہوں سے متاثر ہو جاتے ہیں جب کہ ان سیکیورٹی کلیئرنس بھی ناکافی ہوتی ہے۔

اسرائیل کے عرب شہری ملک کی آبادی کے پانچویں حصے کے برابر ہیں۔ اس قانون کے ناقدین، جن میں بائیں بازو کے حامی اور عرب قانون ساز شامل ہیں، کہتے ہیں کہ یہ نسلی تعصب پر مبنی اقدامات ہیں جس کا مقصد اسرائیل کی عرب اقلیت میں اضافے کو روکنا ہے۔ دوسری جانب اس قانون کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس قانون کی ضرورت سیکیورٹی کے حوالے سے ہے۔

فلسطینی تباہ شدہ گھروں کی تعمیر اور روزگار کے لیے پریشان
please wait

No media source currently available

0:00 0:02:36 0:00

اس قانون کی ہر سال تجدید ہوتی تھی جب کہ اس کو پارلیمان کی سخت گیر قوم پرست جماعتوں کی بھاری اکثریت کی حمایت بھی حاصل رہتی تھی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق سابق وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ پارٹی اور ان کے اتحادیوں نے اس قانون کی تجدید کی راہ میں رکاوٹ ڈال کر ایک طرح سے نفتالی حکومت کو چیلنج کیا ہے۔

سابق وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو نے پیر کو کہا تھا کہ وہ اس قانون کا احترام کرتے ہیں، البتہ اس سے زیادہ اہم حکومت کو گرانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ صرف ایک قانون کی منظوری نہیں ہے یہ اس حکومت میں موجود دراڑوں کو واضح کرتی ہے جس کا مقصد صیہونیت کے خلاف ایجنڈے کو تقویت دینا ہے۔

فلسطینیوں کی مزاحمت 2005 میں کم ہونا شروع ہو گئی تھی۔ اس کے باوجود اسرائیل میں اس قانون کی ہر برس تجدید ہوتی رہی ہے۔ مغربی کنارے میں آباد ایک لاکھ سے زائد فلسطینیوں کو اس قانون کے تحت اسرائیل میں کام کے لیے اجازت درکار ہوتی ہے۔

ایسے شریکِ حیات جن میں مردوں کی عمر 35 برس جب کہ خواتین کی 25 برس سے زائد ہو، ان کو انسانی بنیادیوں پر سیاحتی اجازت نامے کے لیے درخواست دینے کا حق دیا گیا ہے اس اجازت نامے کی بھی بار بار تجدید کرانا ہوتی ہے۔ یہ اجازت نامہ رکھنے والے اسرائیل کا ڈرائیونگ لائسنس حاصل نہیں کر سکتے۔ جب کہ ملازمت کے کئی مواقع بھی ان کے لیے بند ہوتے ہیں۔

دوسری جانب غزہ سے تعلق رکھنے والے افراد جن کے شریک حیات اسرائیل میں ہوں، ان پر 2007 سے مکمل پابندی عائد ہے۔ واضح رہے کہ 2007 میں حماس نے غزہ کے انتظامی امور سنبھالے تھے۔

یہ قانون مغربی کنارے میں ان یہودی آباد کاروں پر لاگو نہیں ہوتا تھا جن کے پاس اسرائیل کی شہریت ہے۔ ان آباد کاروں کی تعداد پانچ کے قریب ہے۔

اسرائیل کے قانون کے مطابق دنیا بھر میں کئی بھی مقیم یہودی اسرائیل آئیں تو وہ شہریت کا حق رکھتے ہیں۔

اس خبر میں معلومات خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ سے لی گئی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG