رسائی کے لنکس

کیا تحریکِ لبیک کے معاملے پر ریاست کنفیوژن کا شکار ہے؟


پاکستان کے وزیرِ داخلہ شیخ رشید کا تحریکِ لبیک سے متعلق حالیہ بیان ان دنوں موضوع بحث بنا ہوا ہے جس میں اُن کا کہنا تھا کہ حکومت نے تحریک لبیک پر پابندی یقینی بنانے کے لیے سپریم کورٹ سے رُجوع نہیں کیا اور وہ اب بھی الیکشن میں حصہ لے رہی ہے۔

شیخ رشید احمد کا یہ بیان اتوار کو ایسے وقت میں سامنے آیا تھا جب پیغمبرِ اسلام کی خاکوں کے اشاعت کے معاملے پر فرانسیسی سفیر کی بے دخلی اور ٹی ایل پی کے امیر سعد رضوی کی رہائی کے لیے تحریک کے کارکنوں نے مریدکے میں دھرنا دے رکھا ہے اور وہ اسلام آباد کی جانب مارچ کرنا چاہتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ٹی ایل پی کے معاملے پر پاکستانی ریاست اب بھی کنفیوژن کا شکار ہے اور یہی وجہ ہے کہ رواں برس اپریل میں کابینہ کی منظوری کے باوجود ٹی ایل پی پر تاحال پابندی عائد نہیں کی جا سکی۔

پاکستان کی حکومت ٹی ایل پی کے بارے میں مختلف اوقات میں مختلف رویے کیوں اختیار کرتی ہے؟ اس بارے میں تجزیہ کار سلمان عابد نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ٹی ایل پی کے حوالے سے ریاست کی کوئی مؤثر پالیسی نہیں ہے۔

اُن کے بقول ایک طرف کہا جاتا ہے کہ ریاست کے خلاف اٹھنے والی آوازوں سے سختی سے نمٹا جائے گا اور انہیں کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔ لیکن دوسری طرف جب وہ اپنی طاقت دکھاتے ہیں تو ان سے مذاکرات شروع ہو جاتے ہیں۔

سلمان عابد کہتے ہیں کہ اسی جماعت کے خلاف پہلے حکومت نے ہی دہشت گردی کے مقدمے درج کروائے، انہیں کالعدم قرار دیا اور جب وہ اپنی طاقت دکھاتے ہوئے سڑکوں پر موجود ہیں تو ان سے بات چیت کر کے انہیں رعایتیں دی جا رہی ہیں اور مقدمات واپس ہو رہے ہیں۔

تحریک لبیک کے کارکن جمعے کو لاہور سے اسلام آباد کی جانب روانہ ہوئے تھے۔
تحریک لبیک کے کارکن جمعے کو لاہور سے اسلام آباد کی جانب روانہ ہوئے تھے۔

سلمان عابد نے کہا کہ فرانس کے سفیر کو ملک سے نکالنے کا معاملہ ایک ٹول کے طور پر استعمال ہو رہا ہے۔ اس وقت ٹی ایل پی کے تین مطالبات ہیں کہ سعد رضوی کو رہا کیا جائے اور مقدمات ختم ہوں۔ اُن کے بقول پاکستان میں حکومت اس وقت مہنگائی کی صورتِ حال، ڈی جی آئی ایس آئی کے نوٹی فکیشن والے معاملے کی وجہ سے پہلے ہی دباؤ میں ہے.

سلمان عابد کہتے ہیں کہ پاکستان ایف اے ٹی ایف میں پہلے ہی مشکلات کا شکار ہے اور ایسے اقدامات سے پاکستان کو مزید مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔

تحریکِ لبیک کے منجمد اکاؤنٹس بحال کرنے کا فیصلہ

پیر کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شیخ رشید کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم عمران خان کی ہدایت پر ٹی ایل پی کے زیرِ انتظام مدارس کے منجمد اکاؤنٹس کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ سعد رضوی کی رہائی کا معاملہ کابینہ میں لے کر جا رہے ہیں جب کہ وفاقی کابینہ میں فرانسیسی سفیر کی بے دخلی سے متعلق معاملہ بھی زیرِ بحث آئے گا۔

اسلام آباد میں نیوز کانفرنس میں وزیرِ داخلہ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ سعد رضوی کے اصرار پر مذاکراتی کمیٹی کی سربراہی کر رہا ہوں۔ کالعدم جماعت کے ساتھ مذاکرات اچھے ہوئے ہیں۔

اُن کے بقول ان مذاکرات میں فورتھ شیڈول، کیسز اور کالعدم کیے جانے کا معاملہ موضوع بحث ہے۔

انہوں نے کہا کہ ابھی بھی مذاکراتی کمیٹی سے بات چیت ہوئی ہے اور مذاکرات آج بھی جاری ہیں۔

سلمان عابد کہتے ہیں کہ اس پر ریاست کو اپنی پالیسی کو بہتر بنانا ہو گا، حکومت کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ کس بات پر ہم نے سمجھوتہ کرنا ہے اور کس بات پر نہیں کرنا۔ دوسرا ریاست کو یرغمال بنانے کی کسی صورت اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

ٹی ایل پی کے مارچ کی کیا صورتِ حال ہے؟

لاہور میں وائس آف امریکہ کے نمائندے ضیا الرحمن کے مطابق حکومت سے مذاکرات کے بعد کالعدم تنظیم تحریک لبیک پاکستان نے جی ٹی روڈ کو آمد و رفت کے لیے کھول دیا ہے۔

ٹی ایل پی کی جانب سے حکومت کے لیے بنائی گئی مذاکراتی ٹیم کے رکن مفتی محمد وزیر علی کہتے ہیں کہ ٹی ایل پی کے کارکنوں نے مریدکے قریب جی ٹی روڈ کو دونوں طرف سے ٹریفک کے لیے کھول دیا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ تحریک کے کارکن سٹرک کے اطراف میں موجود رہیں گے اور مطالبات پورے ہونے تک احتجاج جاری رکھیں گے۔

خیال رہے کہ ٹی ایل پی کا مارچ جمعے کو لاہور سے روانہ ہوا تھا، تاہم لاہور میں چوبرجی کے مقام پر مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے باعث تین پولیس اہل کاروں کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی تھی۔

ٹی ایل پی نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ جھڑپوں میں اُن کے بھی متعدد کارکن ہلاک ہوئے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG