رسائی کے لنکس

عراق کے پارلیمانی انتخابات، مقتدی الصدر کی جماعت نے سب سے زیادہ نشستیں جیت لیں


مقتدی الصدر کے حامی فتح کا جشن مناتے ہوئے۔

ابتدائی نتائج کے مطابق، عراقی پارلیمانی انتخابات میں مذہبی راہنما مقتدا الصدر کی سیاسی جماعت نے سب سے زیادہ نشستیں جیت لی ہیں۔

غیرحتمی نتائج کے مطابق،329 نشستوں والے پارلیمان میں شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے الصدر کی جماعت کو اب تک 70 نشستیں مل چکی ہیں۔

الصدر کی پارٹی کا کہنا ہے کہ اس نے اب تک 73 نشستوں پر کامیابی حاصل کرلی ہے، جس کے بعد وہ حکومت سازی کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ گزشتہ پارلیمان میں ان کی جماعت کو 54 سیٹیں حاصل تھیں۔

خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ نے خبر دی ہے کہ ابتدائی نتائج کے مطابق،بظاہر سابق وزیر اعظم نوری المالکی کے شیعہ اتحادنشستیں جیتنے کے اعتبار سے دوسری بڑی جماعت ہوگی۔ اس ضمن میں مزید تفصیل کا انتظار ہے۔

عراق میں ہونے والے انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی شرح 41 فیصد رہی، جو کہ ماہرین کے مطابق، ملک کی قیادت اور پارلیمان میں عوامی اعتماد کے فقدان کو ظاہر کرتی ہے۔

خبر رساں ادارے ’ایسو سی ایٹڈ پریس‘ کے مطابق گزشتہ ہفتے کے اختتام پر ہونے والے انتخابات میں صدام حسین کے دور کے بعد کسی بھی الیکشن میں ووٹ ڈالنے کی کم ترین شرح رہی۔

بدعنوانی اور بدانتظامی کے خلاف اٹھ کھڑی ہونے والی نوجوانوں کی قیادت کے لیے رعایت کے طور پر انتخابات کو مقررہ وقت سے کئی ماہ پہلے منعقد کرایا گیا ہے۔

لیکن 2019 کے آخر میں اصلاحات اور تازہ الیکشن کے مطالبات کے ساتھ ہونے والے مظاہروں میں شریک نوجوانوں نے اس الیکشن کا بائیکاٹ کیا اور انتخابات سے لاتعلقی کا ماحول دیکھا گیا۔

عراق کے آزاد اعلیٰ الیکٹورل کمیشن نے پیر کے روز کہا کہ اتوار کو ہونے والے انتخابات میں 41 فیصد لوگوں نے ووٹ کا حق استعمال کیا۔ مگر اس بار ووٹنگ کی شرح سال 2018 میں ریکارڈ کی گئی تاریخ کی کم ترین 44 فیصد سطح سے بھی گر گئی۔

یاد رہے کہ 2019 کے آخر اور 2020 کے آغاز میں دسیوں ہزاروں لوگوں نے احتجاجی مظاہروں میں شرکت کی تھی جن کے خلاف حکام نے اسلحہ اور آنسو گیس کا استعمال کیا تھا۔ کچھ ہی ماہ کے دوران عراق میں ہونے والے ان مظاہروں میں چھ سے زائد لوگ ہلاک ہوئے، جبکہ ہزاروں لوگ زخمی بھی ہوئے تھے۔

اگرچہ حکام نے نئے انتخابات کا مطابلہ منظور کر لیا تھا، لکین مظاہروں کے خلاف سخت کریک ڈاون، جانی نقصان اور ٹارگٹڈ ہلاکتوں کے کئی واقعات نے بہت سے مظاہرین کو الیکشن کا بائیکاٹ کرنے پر مجبور کر دیا۔

با اثرشیعہ مذہبی رہنما مقتدی الصدر جنہوں نے 2018 میں سب سے زیادہ کامیابی حاصل کی تھی اس بار بھی متوقع طور پر پہلے سے زیادہ سیٹوں پر کامیاب رہیں گے۔

لیکن مبصرین کا کہنا ہے کہ ان انتخابات میں کوئی بھی گروپ یا پارٹی واضح اکثریت حاصل نہ کر پائے گی۔ اور عین ممکن ہے کہ نئے وزیر اعظم کے انتخاب کے لیے ہونے والے مذاکرات کئی ہفتوں اور مہینوں تک جاری رہیں گے۔

توقع ہے کہ پارلیمانی رہنما ھادی العمری کی قیادت میں کام کرنے والا فتح اتحاد ان انتخابات میں دوسری پوزیشن حاصل کرے گا۔ اس اتحاد میں مختلف جماعتیں ہیں جن کا تعلق 'پاپولر موبلائزیشن فورسز' سے ہے جو کہ ایران نواز شیعہ جنگجو گروپوں پر مشتمل ہے۔

یہ گروپ سنی انتہاپسند گروپ داعش کے خلاف جنگ کے دوران ابھرے تھے۔ ان گروپوں میں انتہائی کٹرنظریات رکھنے والا عصائب اھل الحق عسکری گروپ بھی شامل ہیں، جسے مبینہ طور پر ایران کی حمایت حاصل ہے۔

مقتدی الصدر جو کہ سیاہ رنگ کی پگڑی پہنتے ہیں، وہ بھی ایران کے قریب بتائے جاتے ہیں ہر چند کہ عوامی سطح پر وہ ایران کے سیاسی اثر و رسوخ کو رد کرتے ہیں۔

سن 2003 میں امریکہ کے عراق پر قبضہ کرنے اور سابق ٓصدر صدام حسین کے دور کے بعد ہونے والے انتخابات کے بعد کا یہ چھٹا الیکشن تھا۔ لیکن الیکشن سے پہلے ہی بہت سے لوگوں کا کہنا تھا کہ مظاہروں کی تحریک سے تعلق رکھنے والے آزاد امیدواروں کے لیے مضبوط سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں کی موجودگی میں جیتنے کے امکانات کم ہیں۔

اقتدار پر جمے بہت سے سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں کو اسلحہ سے لیس عسکری گروپوں کی حمایت حاصل ہے۔

خیال رہے کہ ان انتخابات کے نتیجے میں بننے والی پارلیمنٹ عراق کے صدر کا انتخاب بھی کرے گی۔

XS
SM
MD
LG