رسائی کے لنکس

کیا ایران ایٹمی معاہدے پر مذاکرات دوبارہ شروع کرنے میں سنجیدہ ہے؟


صدر ریئسی ایرانی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے (فوٹو اے ایف پی)

اپنا اعلیٰ ایٹمی سفارت کار برسلز بھیجنے کے لیے ایران کی آمادگی کے باوجود اس بارے میں شکوک و شبہات بڑھتے جا رہے ہیں کہ آیا ایران ان مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے میں سنجیدہ ہے یا نہیں۔ یورپی یونین کے حکام ایران کی نئی سخت گیر انتظامیہ کو دوبارہ مذاکرات کے لیے کوئی تاریخ طے کرنے کے سلسلے میں اب تک کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔

2015 میں صدر اوباما نے ایران کے ایٹمی پروگرام کو محدود کرنے کے بارے میں ایک معاہدہ کیا تھا، جس سے بعد میں صدر ٹرمپ نے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔ اب دوبارہ اس کی تجدید کے لیے ویانا میں مذاکرات ہونے ہیں۔

اُدھر چار ماہ پہلے ایران میں ہونے والے انتخابات کے نتیجے میں ایک نئی قدامت پسند حکومت قائم ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں مذہبی رہنماء ابراہیم ریئسی ملک کے صدر بن گئے ہیں۔ تہران نے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے کہا ہے، مگر حتمی تاریخ طے کرنے سے گریزاں ہے۔ دوسری طرف ایران کی بڑھتی ہوئی ایٹمی سرگرمیوں نے مغربی حکام کو چوکنا کر دیا ہے۔

سیکیورٹی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کی اہلیت چند ماہ میں حاصل کر سکتا ہے۔ وقت تیزی سے گزر رہا ہے اور خاص طور پر اسرائیل، بائیڈن انتظامیہ پر زور دے رہا ہے کہ وہ ایران کو ایٹمی ملک بننے سے باز رکھنے کے لیے کسی متبادل طریقہ کار پر غور کرے۔

اس ہفتے کے شروع میں ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے یہ اعلان کیا کہ ملک کے اہم نیوکلیئر مذاکرات کار اور نائب وزیر خارجہ علی بغیری قانی جمعرات کو ایٹمی معاملے پر ٹھوس مذاکرات کے لیے برسلز جا رہے ہیں۔ اس اعلان نے مغربی حکام کو بہت حد تک ششدر کردیا ہے، ایک یورپی عہدے دار نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ وہ محض وقت کو طول دے رہے ہیں۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزف بوریل نے پیر کے روز کہا کہ برسلز میں ہونے والی بات چیت کا مقصد ویانا مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے کی تیاری ہے۔ بوریل اپنے دوسرے ساتھیوں کے برعکس خاصے پر امید دکھائی دیے۔ انہوں نے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میں کل کے مقابلے میں آج زیادہ پر امید ہوں۔ ابھی تک کچھ بھی حتمی نہیں ہے، مگر حالات بہتری کی طرف مائل ہیں۔ میں توقع کرتا ہوں کہ آنے والے دنوں میں برسلز میں تیاری کے لیے مذاکرات ہوں گے۔

صدر بائیڈن کے اقتدار میں آنے کے بعد اپریل سے ویانا میں ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں چھ دور ہو چکے ہیں۔ نئے صدر ابراہیم ریئسی کے اقتدار سنبھانے کے بعد ایران نے امریکی حکام سے بالمشافہ ملنے سے انکار کر دیا اور یورپی یونین، روس اور چین کے مذاکرات کاروں کے ساتھ براہ راست بات چیت کی۔

پچھلے ہفتے یورپی سفارت کار اینریکے مورا نے ایران کا دورہ کیا اور ریئسی کی حکومت آنے کے بعد یہ کسی مغربی سفارت کار کا پہلا ایرانی دورہ تھا۔ دوسری طرف امریکہ کے وزیر خارجہ بلنکن نے پچھلے ہفتے کہا کہ ایران مذاکرات کی راہ میں رکاوٹیں ڈال رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس مقام پر پہنچ رہے ہیں جہاں ایٹمی معاہدے JCPOA پر دوبارہ عمل درآمد ممکن نہ ہو سکے گا۔ ایران مختلف طریقوں سے اپنے ایٹمی پروگرام کو آگے بڑھانے کے لیے وقت کا استعمال کر رہا ہے۔

واشنگٹن میں اسرائیلی وزیر خارجہ سے ملاقات کے بعد بلنکن نے انتباہ کیا تھا کہ "رن وے مختصر تر ہوتا جا رہا ہے۔" انہوں نے یہ بھی کہا کہ دوسرے آپشنز کو دیکھنا ہو گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG