رسائی کے لنکس

بھارت میں کسانوں کی پہیہ جام ہڑتال، اہم شاہراہیں کئی گھنٹوں تک بند


کسانوں نے رواں ہفتے اعلان کیا تھا کہ وہ 6 فروری کو پورے ملک میں 'چکا جام' کریں گے۔ 

بھارت میں متنازع زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کرنے والے کسانوں نے ہفتے کو دن بارہ بجے سے تین بجے تک ملک بھر میں اہم شاہراہیں بند کر دیں۔

کسانوں نے رواں ہفتے پیر کو ہی اعلان کیا تھا کہ وہ 6 فروری کو پورے ملک میں ‘چکا جام’ کریں گے۔

کسانوں نے پہیہ جام ہڑتال کو 'چکا جام' کا نام دیا تھا۔

کسانوں نے دارالحکومت دہلی، ریاست اتر پردیش اور اتراکھنڈ کو ہڑتال سے مستثنیٰ رکھا تھا۔ اس کے علاوہ ایمبولینسز اور ضروری خدمات فراہم کرنے والی گاڑیوں کو بھی اس اقدام سے مبرا قرار دیا گیا تھا۔

اس موقع پر پورے ملک میں پولیس نے سخت حفاظتی انتظامات کیے تھے۔

گزشتہ ماہ 26 جنوری کو دہلی میں نکلنے والی کسانوں کی ٹریکٹر ریلی کے دوران ہونے والے تشدد اور تاریخی لال قلعے پر سکھ مذہب کا جھنڈا لہرانے کے واقعات کے پیشِ نظر دہلی پولیس نے غیر معمولی حفاظتی انتظامات کیے تھے۔

دہلی اور اس کے اطراف میں پولیس اور نیم مسلح دستوں کے 50 ہزار اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا۔

اس کے علاوہ متعدد مقامات پر واٹر کینن کا انتظام کیا گیا تھا اور ایک درجن سے زائد میٹرو اسٹیشن بند کر دیے گئے تھے۔ جب کہ ڈرونز کے ذریعے بھی مظاہروں کی نگرانی کی جاتی رہی۔

بھارتی کسانوں کا زرعی اصلاحات کے خلاف احتجاج
please wait

No media source currently available

0:00 0:02:57 0:00

زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کرنے والے کسانوں نے دہلی کے گرد ایکسپریس وے اور دہلی ہریانہ سرحد کو بند کیا گیا۔

رپورٹس کے مطابق وسطی دہلی میں دہلی گیٹ کے قریب انکم ٹیکس آفس (آئی ٹی او) پر واقع شہیدی پارک میں جمع ہونے والے ‘کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا’ کے 50 سے زائد کارکنوں کو حراست میں لیا گیا جن میں خواتین بھی شامل ہیں۔

یہ لوگ وہاں زرعی قوانین اور حکومت کے خلاف نعرہ بازی کرتے ہوئے شہیدی پارک پہنچے تھے۔

پولیس نے بتایا کہ وہاں مظاہرہ کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ اس کے باوجود جب وہ لوگ نہیں مانے تو انہیں حراست میں لے لیا گیا۔

ریاست پنجاب اور ہریانہ میں ہڑتال کا زیادہ اثر رہا۔ کسانوں کے ایک رہنما سکھدیو سنگھ کے مطابق ریاست پنجاب میں 15 اضلاع کے 33 مقامات پر سڑکیں بند کی گئیں۔

ہریانہ، پنجاب اور دیگر ریاستوں میں بھی متعدد مظاہرین کو حراست میں لیا گیا۔

کسانوں نے امرتسر، دہلی نیشنل ہائی وے کو بھی بند کیا۔ پٹھان کوٹ جموں ہائی وے بھی بند رہی۔

کسانوں نے پٹیالہ میں بالی ووڈ اداکار بوبی دیول کی فلم ‘لو ہاسٹل’ کی شوٹنگ بھی رکوا دی۔ اس سے قبل کسان جانوی کپور کی فلم ‘گڈ لک’ کی بھی شوٹنگ رکوا چکے ہیں۔

بنگلور میں صبح سے ہی کسانوں نے جگہ جگہ سڑکیں بند کرنی شروع کر دی تھیں۔ ہڑتال کے دوران متعدد افراد کو حراست میں لیا گیا۔

'یہ چولہا جلتا رہے گا'، دہلی میں کسانوں کا دھرنا جاری
please wait

No media source currently available

0:00 0:02:42 0:00

دریں اثنا ‘بھارتیہ کسان یونین’ کے ترجمان راکیش ٹکیت نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب تک متنازع زرعی قوانین واپس نہیں لیے جاتے احتجاج جاری رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کے پاس قوانین واپس لینے کے لیے دو اکتوبر تک کا وقت ہے۔ ان کے بقول انہوں نے دو اکتوبر تک دھرنا دینے کی تیاری کی ہے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے منصوبہ بنایا ہے کہ ہر گاؤں سے کم از کم ایک ٹریکٹر اور 15 افراد دھرنے میں شریک ہوں گے۔

اس موقع پر تینوں مقامات سنگھو، ٹیکری اور غازی پور سرحدوں پر حالات پُر امن رہے۔

غازی پور اور سنگھو بارڈر سے کسی نے دہلی کی طرف مارچ کرنے کی کوشش نہیں کی۔ ان مقامات پر پولیس نے زبردست حفاظتی انتظامات کیے تھے۔

تینوں مقامات پر پولیس نے لوہے کی کیلیں سڑکوں پر گاڑی تھیں اور بین الاقوامی سرحدوں پر لگائی جانے والی خاردار تاروں کی باڑ لگائی گئی ہے۔

غازی پور بارڈر پر جہاں پولیس نے لوہے کی نوکیلی کیلیں سڑکوں پر نصب کی ہیں، وہیں قریب میں کسانوں نے ٹرکوں سے لا کر مٹی ڈال دی اور پھول اگانے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔

یاد رہے کہ 26 نومبر سے کسان متنازع زرعی قوانین کی واپسی کے مطالبے کے ساتھ سنگھو، ٹیکری اور غازی پور بارڈر پر ہزاروں کی تعداد میں دھرنا دیے ہوئے ہیں۔ جن میں خواتین، بزرگ اور بچے بھی شامل ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ جب تک زرعی قوانین واپس نہیں ہوں گے وہ اپنے گھروں کو واپس نہیں جائیں گے۔

اسی دوران وزیرِ زراعت نریندر سنگھ تومر نے جمعے کو پارلیمنٹ میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ حکومت قوانین میں ترمیم کرنے کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے کسانوں سے کہا کہ ان کو قوانین میں جو دفعہ غلط لگے وہ بتائیں، ان کے بقول اس میں ترمیم کی جائے گی۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ قوانین میں کوئی خامی نہیں ہے۔

وزیرِ زراعت کا مزید کہنا تھا کہ کھیتی، پانی سے کی جاتی ہے لیکن کانگریس خون کی کھیتی کرنا جانتی ہے۔

اس پر کانگریس نے اعتراض کیا۔ تاہم بعد ازاں یہ جملہ پارلیمانی کارروائی سے حذف کر دیا گیا۔

حزبِ اختلاف کے ارکان نے قوانین کو کسان مخالف قرار دیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ انہیں واپس لے۔

علاوہ ازیں اترپردیش، پنجاب، ہریانہ اور راجستھان وغیرہ میں جگہ جگہ کسانوں کے جلسے ہو رہے ہیں۔ جنہیں ‘کسان پنچایت’ کہا جا رہا ہے۔

ان جلسوں میں بڑی تعداد میں لوگ شریک ہو رہے ہیں اور وہ مذکورہ قوانین واپس لینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

کانگریس سمیت دیگر اپوزیشن جماعتیں کسانوں کے احتجاج کی حمایت کر رہی ہیں۔

فیس بک فورم

یہ بھی پڑھیے

XS
SM
MD
LG