رسائی کے لنکس

کیا کرونا بحران سے نمٹنے میں ناکامی سے بھارت کی عالمی ساکھ متاثر ہوئی؟


شمشان گھاٹ اور قبرستانوں میں جگہ تنگ پڑ گئی

بھارت میں کرونا بحران کی دوسری لہر سے پیدا ہونے والی صورتحال میں امریکہ نے 100 ملین ڈالر سے زیادہ کی امداد فراہم کی ہے ۔ جہاں اس بحران میں بھارت اور امریکہ کے تعلقات میں مزید تبدیلیوں کی توقع کی جا رہی ہے۔ وہیں یہ تنقید بھی کی جا رہی کہ امریکہ کی جانب سے اس بحران سے نمٹنے میں بھارت کو مدد کی پیشکش تاخیر سے کی گئی۔ ایک سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا کرونا بحران نے عالمی سطح پر بھارت کی ساکھ کو متاثر کیا ہے؟

یہی سوالات امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی کی جارج واشنگٹن یونیورسٹی میں قائم سیگور سینٹر فار ایشئین سٹڈیز کے زیر اہتمام ہونے والی ایک گفتگو میں پوچھے گئے۔ گفتگو میں ادارے کے ان سابق طالبعلموں نے حصہ لیا، جو بھارت میں کام کر رہے ہیں، اور کووڈ نائٹین کی دوسری لہر سے پیدا ہونے والے بحران کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔

اس گفتگو میں بھارت کی پراتھم ایجوکیشن فاؤنڈیشن میں عالمی تعاون سے کی جانے والی کوششوں میں شریک عہدیدار تانوی بینر جی، کارنیگی انڈیا میں سیکیورٹی سٹڈیز پروگرام کے رابطہ کار اور تحقیقی معاون راہول بھاٹیہ، اقوام متحدہ کیلئے بھارتی مشن کی سابق انٹرن اکشے سدراس اور نئی دہلی میں ایک سٹیل کمپنی کے سپلائی مینجر ویبھو جین نے شرکت کی۔ گفتگو کی میزبانی ایلیٹ سکول کی پروفیسر دیپا اولاپالی اور کویتا دایا نے کی۔

چاروں بھارتی نوجوانوں نے کووڈ نائٹین کی دوسری لہر سے پیدا ہونے والے بحران کے دوران انسانی وقار کی نفی، میڈیاکے کردار ، بھارت کی دیہی آبادی کو درپیش مسائل، طبقاتی تفاوت اور عالمی سطح پر بھارت کی ساکھ متاثر ہونے جیسے مسائل پر کھل کر بات کی۔

بھارت: ہندوؤں کا کریا کرم کرنے والے مسلمان رضا کار
please wait

No media source currently available

0:00 0:05:37 0:00

بھارت کی عالمی ساکھ داو پر ہے یا امریکہ بھارت تعلقات کیا نیا دور شروع ہو رہا ہے؟

ساکھ پر بات کرتے ہوئے راہول بھاٹیہ کا کہنا تھا کہ دوسری لہر کے دوران بھارت کمزور نظر آیا ہے، اور 17 برس کے بعد اسے امداد لینا پڑی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ خارجہ نے بھارت کو کووڈ نائٹین سے متعلقہ 100 ملین ڈالر سے زیادہ کی امداد فراہم کی ہے۔ انہوں نے معذرت کے ساتھ اس امید کا بھی اظہار کیا کہ بھارت بے پناہ صلاحیت رکھنے والا ملک رہا ہے اور جلد ہی اس بحران پر قابو پا لے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بحران میں کوئی مثبت پہلو تلاش کرنا ہو، تو امید کرنی چاہئے کہ بھارت اور امریکہ کے سٹریٹیجک تعلقات میں بہتری آسکتی ہے۔

تانوی بینر جی کا کہنا تھا کہ کرونا بحران سے بھارت کی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بھارت کو بھوٹان سے آکسیجن مانگنی پڑی اور ریاست پنجاب نے پاکستان سے آکسیجن منگوانے کیلئے خصوصی کوریڈور بنانے کی درخواست کی۔

اکشے سدراس کا کہنا تھاکہ بھارت کو اس بحران سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ بھارت کی ساکھ طویل مدت کیلئے متاثر نہیں ہوئی اور بھارت جلد ہی بحران سے سنبھلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ویبھو جین کا کہنا تھا کہ پہلے ہمیں اپنے گھر کے مسائل کو نمٹانا ہو گا اور پھر عالمی قوت بننے کی جانب قدم بڑھانا ہو گا۔

بھارتی کشمیر میں کرونا وائرس کی کیا صورتِ حال ہے؟
please wait

No media source currently available

0:00 0:02:49 0:00

"مسئلہ انسانی وقار کی بے وقعتی کا بھی ہے"

تانوی بینر جی کا کہنا تھا کہ آکسجین میں کمی کی وجہ سےتو سب ہی مر جاتے ہیں لیکن مسئلہ انسانی وقار کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آکسیجن اور ہسپتالوں میں بستروں کی کمی کا مسئلہ اپنی جگہ، مگر انسانوں کو آخری رسومات کے لئے بھی سڑک کنارے کسی مہربان کا انتظار کرنا پڑے، یہ انسانی وقار کے منافی ہے۔

انہوں نے کہا کہ چتائیں جلانے کیلئے شمشان گھاٹ میں اور دفنانے کے لئے قبرستانوں میں جگہ نہیں رہی۔ لواحقین مردہ خانوں کا رُخ کرتے ہیں لیکن مردہ خانوں میں بھی جگہ نہیں رہی۔

تانوی کا کہنا تھا کہ حد تو یہ ہے کہ لوگ جب میتوں کو ہسپتالوں سے منسلک میڈیکل کالجوں میں لے کر جارہے ہیں کہ ان کے اعضا طبی تجربات کے کام آئیں، لیکن وہاں بھی جگہ نہیں اور لوگوں کو سمجھ میں نہیں آ رہا کہ اس المیے سے کس طرح نمٹا جائے۔ حال یہ ہےکہ این جی اوز کو چتائیں جلانا پڑ رہی ہیں۔

دیہی علاقوں سے خبر کیوں نہیں آرہی؟

آندھرا پردیش سے اکشے سدراس کا کہنا تھا کہ کووڈ سے ایک سماجی مسئلہ بھی پیدا ہوا ہے۔ دیہی آبادیوں میں کووڈ نائٹین کا مرض بدنامی کا ٹیکہ ہے۔ اگر کوئی وبا کی لپیٹ میں آ بھی جائے تو سماجی مقاطعے کے ڈر سے کسی کو نہیں بتایا جاتا۔ اکشے کہتی ہیں کہ اگر کسی کو کووڈ ہو جائے تو گاؤں کے لوگ، اُس مریض سمیت پورے خاندان کو گاؤں سے باہر نکال دیتے ہیں۔ اس لئے کووڈ سے اموات کی تعداد کا صحیح اندازہ ہی نہیں ہو رہا اور دیہی آبادی کے بارے میں کوئی خبر نہیں آ رہی۔

آکسیجن کی پیداوار اور نقل و حمل

راہول بھاٹیا نے کہا کہ آکسیجن کی کمی سے ریاستیں چیخ رہی ہیں۔ صرف دارالحکومت دلی میں 700 میٹرک ٹن آکسیجن کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت قومی سطح پر لاک ڈاؤن نہیں ہوا لیکن کئی ریاستوں میں لاک ڈاؤن ہے اور دیگر میں سخت پابندیوں کی وجہ سے نقل و حمل میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کئی ریاستوں میں سخت قوانین کی وجہ سے آکسیجن کی پیداوار سے زیادہ ترسیل میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

ویبھو جین کا کہنا تھاکہ جو لوگ گھروں میں علاج کروا رہے ہیں، انہیں بھی آکسیجن کی ضرورت ہے لیکن اُن کی ضرورت سرکاری تخمینوں کا حصہ نہیں بنتی۔

ادویات کی ذخیرہ اندوزی

ویبھو کا کہنا تھا کہ بحران میں مزید بگاڑ کا باعث بلیک مارکیٹ ہے۔ پیراسیٹامول ، سٹیروئیڈز اور ریم ڈیسویئر جیسی ادویات کی سپلائی میں کمی آئی ہے اور بلیک مارکیٹ میں ان کی قیمت 200 سے 300 گنا زیادہ ہے۔ آکسیجن کی ذخیرہ اندوزی ہو رہی ہے۔

"طبی عملہ تھکن سے چور ہے"

ویبھو نے کہا کہ ایک اور مسئلہ ہیلتھ ورکروں کا ہے خاص طور پر ڈاکٹر وں، نرسوں ، ایمولینس ڈرائیوروں اور دیگر طبی عملے کا ہے۔ وہ اس وقت تھکن سے نڈھال ہو چکے ہیں۔ انہوں نے اعداد و شمار دیتے ہوئے کہا کہ اس بحران کے دوران، 1000 بھارتیوں کو 1.3 ڈاکٹر میسر ہے۔ جبکہ بحران کے دوران، طبقاتی فرق بھی کھل کر سامنے آیا ہے۔ اس وقت علاج معالجے اور آکسیجن کے حصول کے لئے ذات، خاندان اور تعلقات بھی ترجیحی قطار میں آگے کھڑے ہونے کا ذریعہ بن رہے ہیں۔

بھارت میں کرونا بحران: ڈاکٹروں کو کیا مشکلات ہیں؟
please wait

No media source currently available

0:00 0:07:02 0:00

کرونا بحران کی میڈیا کوریج کیسے ہو رہی ہے؟

تانوی بینر جی کا کہنا تھا کہ میڈیا جانبدار ہے۔ اس کے اپنے سیاسی نظریات ہیں اور وہ ان کے مطابق ہی کوریج کرتا ہے، جبکہ اس بحران پر اسے صاحب اختیار لوگوں کو جوابدہ ٹھہرانا چاہئیے، جن میں مقامی سطح کے لیڈر بھی شامل ہیں۔ دوسرا، بقول ان کے، غلط خبریں آ رہی ہیں جنہیں فیک نیوز کہتے ہیں۔ اس لئے شفافیت نہیں رہی۔ میڈیا کو چاہئیے کہ وہ تحقیق کر کے صحیح معلومات پہنچائے۔

راہول بھاٹیا کا کہنا تھا کہ بحران کی کوریج میں غیر ملکی میڈیا زیادہ متحرک ہے ۔ ویبھو کا کہنا تھا کہ علاقائی میڈیا اپنا کردار بہتر طور پر ادا کر رہا ہے اور وہ زیادہ متحرک ہے۔

واضح رہے کہ بھارت کے کرونا بحران میں اب تک کئی میڈیا اداروں کے 80 سے زائد صحافی اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ ہر صحافی کے اپنے خاندان میں کوئی نہ کوئی کرونا سے بری طرح متاثر ہوا ہے۔بی بی سی کی ایک حالیہ رپورٹ میں دو خواتین صحافیوں نے بتایا کہ ان کے لئے بحران کی اس درجے طویل کوریج ایک بےحد مشکل مرحلہ ثابت ہوا اور وہ صحافی جو دوسروں کی خبر دیتے ہیں، ان کی اپنی خبر گیری کرنے والا کوئی نہیں ہے۔

بھارت میں کرونا بحران کی رپورٹنگ کتنا بڑا چیلنج؟
please wait

No media source currently available

0:00 0:07:11 0:00

"بچے اور خواجہ سرا، جن کی بات نہیں ہو رہی"

تانوی کا کہنا تھا کہ بحران سے متاثر ہونے والی آبادی کے دو گروہوں کا ذکر بہت کم کیا جا رہا ہے۔ یعنی بچے اور ٹرانس جینڈر افراد۔ انہوں نے یتیم و نادار بچوں کی انسانی اسمگلنگ کا ذکر کیا لیکن کہا کہ اب حکومت نے اس کی روک تھام پر توجہ دینا شروع کر دی ہے۔ تانوی کا کہنا تھا کہ ایسے خواجہ سرا افراد، جن کی روزی روٹی بیاہ شادی وغیرہ جیسی تقریبات سے جڑی ہوتی ہے۔ ان کا روزگار مارا گیا ہے، اور وہ اس بحران سے زیادہ متاثر ہوئی ہے۔تاہم اس طرف بھی لوگوں کا دھیان گیا ہے۔

راہول کا کہنا تھا کہ جنوری اور فروری میں کرونا وائرس کی پہلی لہر پر قابو پانے کے بعد، لوگوں نے احتیاط کا دامن چھوڑ دیا تھا لیکن اب دوسری لہر پر قابو کے بعد بھی محتاط رہنے کی ضرورت ہو گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG