رسائی کے لنکس

بھارت کا ماحول دوست گاڑیوں کی صنعت کو فروغ دینے کے لئے مراعات کا اعلان


ممبئی۔ 13 اگست 2019ء کی تصویر

بھارتی کابینہ نے ملک میں بجلی اور ہائڈروجن ایندھن سے چلنے والی گاڑیوں کی پیداوار بڑھانے اور ان کے فروغ کے لئے آٹوموبائل کی صنعت کو مراعات دینے کی منظوری دی ہے۔

صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بھارت کے وزیر اطلاعات و نشریات انوراگ ٹھاکر نے کہا کہ بھارتی حکومت گاڑیوں کی صنعت اور ڈرونز بنانے والی کمپنیوں کو اگلے پانچ سالوں میں ساڑھے تین ارب ڈالرز کی مراعات دے گی۔

ٹھاکر کے مطابق، ''یہ مراعاتی اسکیم بھارت کو آٹوموبائل سیکٹر میں عالمی طاقت اور مسابقت کے حوالے سے مدد فراہم کرے گی اور اس سے مقامی پیداوار میں بھی اضافہ ہوگا''.

یہ تجویز ایک ایسے وقت سامنے آئی ہے جب سال 2019ء کی اقتصادی سست روی کے بعد کرونا وبا کی آمد کے بعد سے ملک میں گاڑیوں کی سالانہ فروخت نچلی ترین سطح پر ہے۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کی فروخت کا حصہ ملک میں عام گاڑیوں کی مجموعی فروخت کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق کئی سال پہلے ایسے اشارے مل رہے تھے کہ سالانہ پچاس لاکھ گاڑیوں کی فروخت کیساتھ سال 2020ء تک بھارت چین اور امریکہ کے بعد دنیا کی تیسری بڑی گاڑیوں کی مارکیٹ بن جائے گا۔ مگر کرونا وبا سے پہلے ہی ملک میں گاڑیوں کی فروخت تیس لاکھ کی سطح سے آگے نہیں بڑھ پا رہی تھی۔

جنرل موٹرز اور ہارلی ڈیوڈسن کے بعد گزشتہ ہفتے فورڈ موٹرز نے بھی بھارت میں دو ارب ڈالرز کا نقصان اٹھانے کے بعد ملک سے اپنا کاروبار لپیٹنے کا اعلان کیا۔ بھارت میں پلانٹ بند کرنے سے فورڈ موٹرز کو مزید دو ارب ڈالرز کا نقصان برداشت کرنا پڑے گا۔

رائٹرز کے مطابق بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ نئی مراعاتی اسکیم سے آٹو سیکٹر میں پانچ اعشاریہ آٹھ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری آنے کی توقع ہے۔

ابتدا میں حکومت کا ارادہ پیٹرول سے چلنے والی گاڑیاں اور ان کے پارٹس بنانے والی کمپنیوں کو آٹھ ارب ڈالرز کی ترغیبات دینے کا تھا جو ملک میں اندرونی کھپت کے ساتھ ساتھ برآمدات بڑھانے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔

تاہم، دنیا میں ماحول دوست گاڑیوں کی بڑھتی مانگ اور الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی کمپنی ٹیسلا کے بھارت میں گاڑیاں فروخت کرنے کے اعلان کے بعد اس اسکیم کا محور اب تبدیل کر دیا گیا ہے۔

اس اسکیم کے تحت آٹو پارٹس بنانے والی کمپنیاں ماحول دوست گاڑیوں کے پرزے بنانے کے علاوہ گاڑیوں کے سینسرز، ریڈارز، کروز کنٹرول اور الیکٹرانک ترسیل کے نظام پر سرمایہ کاری کرنے پر مراعات کی حقدار ہونگی۔

ملک کے بڑے شہروں میں ماحولیاتی آلودگی کی بدترین صورتحال سے نمٹنے اور آلودگی کے اخراج کو قابو کرنے کے پیرس ماحولیاتی معاہدے کا رکن ہوتے ہوئے ماحول دوست آٹو ٹیکنالوجی بھارت کی حکمت عملی کا مرکزی حصہ ہے۔

اس وقت بھارت میں ٹاٹا موٹرز الیکٹرک گاڑیاں فروخت کرنے والی سب سے بڑی کمپنی ہے۔

XS
SM
MD
LG