رسائی کے لنکس

'طالبان اگر جامع حکومت قائم کرنے میں ناکام رہے تو افغانستان میں خانہ جنگی ہو سکتی ہے'


فائل فوٹو

پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے متنبہ کیا ہے کہ اگر طالبان افغانستان میں ایک جامع حکومت قائم کرنے میں ناکام رہے تو ملک خانہ جنگی کا شکار ہو سکتا ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے 'بی بی سی' سے ایک انٹرویو کے دوران پاکستان کے وزیر اعظم نے کہا کہ اگر طالبان دیگر افغان دھڑوں کو حکومت میں شامل نہیں کریں گے تو جلد یا بدیر انہیں خانہ جنگی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس سے افغانستان عدم استحکام اور افراتفری کا شکار ہو جائے گا۔ جو ان کے بقول دہشت گردوں کے لیے ایک مثالی جگہ ہو گی۔

عمران خان نے یہ بات ایک ایسے وقت کہی ہے جب بین الاقوامی برداری طالبان سے ایک ایسی جامع حکومت کا مطالبہ کرتی آ رہی ہے جس میں خواتین سمیت تمام شہریوں کے حقوق کو تحفظ حاصل ہو۔ اس سے قبل عمران خان بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ پاکستان نے افغانستان میں دیگر نسلی گروہوں کو ایک جامع حکومت میں شامل کرنے کے لیے طالبان سے بات چیت شروع کر دی ہے۔

وزیر اعظم خان نے کہا کہ سب کو ساتھ لے کر چلنے سے ہی افغانستان میں پائیدار امن قائم ہو سکتا ہے۔ ان کے بقول، ابھی تک افغانستان میں جامع حکومت قائم نہیں ہوئی ہے۔ لیکن انہیں توقع ہے کہ جلد اس میں پیش رفت ہو گی۔

پاکستان کے سابق سفیر محمد شاہد امین کہتے ہیں کہ اگرچہ 1990 کی دہائی میں طالبان کے پہلے دورِ اقتدار مین دیگر غیر پشتون نمائندگی نہ ہونے کے برابر تھی۔ لیکن طالبان کے لیے اس وقت افغانستان کی دیگر برادریوں ازبک و ہزارہ کو نظر انداز کرنا آسان نہیں ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں شاہد امین کا کہنا تھا کہ اگر طالبان یکطرفہ طور پر حکومت چلانے کی کوشش کریں گے تو دیگر برادریوں کی طرف سے مزاحمت کا امکان موجود ہے۔

شاہد امین کے بقول، اگر طالبان نے اندرونی طور پر ایک قابلِ قبول جامع حکومت تشکیل دینے کے طرف پیش رفت نہ کی تو یہ امر تاجک، ازبک اور ہزارہ برادریوں کی ناراضی کا سبب بنے گا جو کسی مرحلے میں خانہ جنگی کا باعث بن سکتی ہے اور اس سے نا صرف افغانستان بلکہ پاکستان کے لیے بھی خطرناک ہو سکتا ہے۔

اگرچہ پاکستان کے ساتھ بین الاقوامی برادری بھی طالبان پر غیر پختون افراد کو حکومت میں شامل کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے۔ لیکن شاہد امین کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اس معاملے میں انتہائی احتیاط کرنا ہو گی۔

شاہد امین کے خیال میں طالبان کو جامع حکومت پر قائل کرنا پاکستان کے لیے آسان نہیں ہے اور اس معاملے میں کسی مرحلے پر شاید طالبان پاکستان کی مداخلت کو پسند نا کریں۔

ان کے بقول، افغانستان کے امن و استحکام کے لیے طالبان کو دیگر برداریوں کو حکومت میں بھی نمائندگی دینا ضروری ہو گا اور طالبان کو یکطرفہ طور پر حکومت کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ اس سے افغانستان میں امن کی کوششوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور ایک بڑی تعداد میں مہاجرین پاکستان کا رخ کر سکتے ہیں۔

البتہ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی برداری کی توقع ہے کہ پاکستان طالبان کو آمادہ کرنے کی کوشش کرے تو یہ مناسب ہے کیونکہ ان کے بقول اگر کوئی ملک طالبان پر اثر اندا ہوسکتا ہے تو وہ پاکستان ہی ہے۔

تجزیہ کار سید نذیر کے مطابق طالبان کا کہنا ہے کہ انہوں نے ابھی عبوری کابینہ تشکیل دی ہے، لہٰذا سید نذیر کے بقول اس بات کا امکان ہے کہ آگے چل کر وہ تاجک، ازبک اور ہزارہ رہنماؤں کو بھی حکومت میں نمائندگی دے سکتے ہیں لیکن طالبان سے کسی ایسی حکومت کی توقع کرنا جو بین الاقوامی برداری کو قبول ہو شاید ممکن نا ہو۔

سید نذیر کا کہنا تھا کہ طالبان نے ابھی اپنی عبوری حکومت کا اعلان کیا ہے اور اس میں بعض ازبک، تاجک اور ہزارہ طالبان بھی شامل ہیں لیکن شاید آگے چل کر طالبان غیر پشتون برداریوں کی زیادہ نمائندگی دیں۔

ان کا کہنا ہے کہ پاکستان بین الاقوامی برداری پر زور دیتا آ رہا ہے کہ طالبان سے روابط قائم رکھنے چاہئیں بصورتِ دیگر افغانستان میں اقتصادی مشکلات پیدا ہوسکتی ہے جو انسانی بحران کو جنم دی سکتی ہے۔

ان کے بقول، عمران خان بھی متعدد بار اس خدشے کا اظہار کرچکے ہیں کہ اگر افغانستان میں خانہ جنگی ہوتی ہے تو اس کی وجہ سے افغانستان میں ایسے شدت پسند گروپ دوبارہ منظم ہوسکتے ہیں جو دنیا کے لیے خطرہ ہیں۔

سید نذیر کا کہنا تھا کہ اسی وجہ سے پاکستان بین الاقوامی برداریر پر زور دیتا آرہا ہے کہ طالبان کے ساتھ رابطے برقرار رکھے جائیں اور ان کی اقتصادی امداد بحال کی جائے۔ سید نذیر کا کہنا ہے کہ اگر ایسا کیا جاتا ہے طالبان کو اپنے وعدے پورے کرنے میں حوصلہ افزائی ہو سکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان افغانستان میں ایک اہم کردار ادا کرسکتا ہے، ایک طرف اس کے طالبان کے ساتھ روابط ہیں تو دوسری جانب بین الاقوامی برداری کے تحفظات طالبان تک پہنچانے میں بھی پاکستان ایک پل کا کام کر رہا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG