رسائی کے لنکس

کھلاڑیوں اور براڈ کاسٹرز کے ویزہ مسائل، پی ایس ایل کی راہ میں حائل رکاوٹوں کا ذمے دار کون؟


فائل فوٹو

کھلاڑیوں اور براڈ کاسٹرز کے ویزہ مسائل کی وجہ سے ایک بار پھر پاکستان سپر لیگ سکس کے باقی ماندہ میچز غیر یقنی کی صورتِ حال سے دوچار ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ بقیہ میچز کے انعقاد میں پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی جلد بازی کی وجہ سے روز ایک نیا مسئلہ سامنے آ رہا ہے۔

پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے لیے بدھ کو پاکستان سے متحدہ عرب امارات روانہ ہونے والی فلائٹس کی تاخیر سے روانگی کا معاملہ ہو، ابوظہبی میں زیادہ خرچہ کر کے پی ایس ایل کے انعقاد کو یقینی بنانے کا فیصلہ ہو یا پھر اہم دوروں سے قبل کھلاڑیوں کو سخت گرمی میں میچز کھلانے کی تجویز، یہ سب اور بہت کچھ پاکستان کرکٹ بورڈ کے حالیہ فیصلے ہیں جس پر بعض ماہرین کڑی تنقید کر رہے ہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے کئی سینئیر افسران عید الفطر سے متحدہ عرب امارات میں موجود ہیں۔ لیکن ان کی موجودگی کا بظاہر کوئی فائدہ نظر نہیں آ رہا۔

کوئی زخمی ہوا، کچھ بدانتظامی اور بے احتیاطی کا شکار ہوئے!

پہلے تو پی ایس ایل سکس کے لیے ابو ظہبی کے انتخاب پر ماہرین نے خوب سوال اٹھائے۔ کیوں کہ نہ صرف جون جولائی میں وہاں کرکٹ نہیں ہوتی بلکہ ناقابلِ برداشت درجۂ حرارت کی وجہ سے کوئی بھی آؤٹ ڈور کھیل نہیں ہو سکتا۔

دوسرا جن براڈ کاسٹرز کو ایونٹ کے لیے متحدہ عرب امارات بلانے کا فیصلہ کیا گیا۔ ان کا تعلق جنوبی افریقہ اور بھارت سے ہے۔ لیکن شاید یہ کسی نے نہیں سوچا کہ کرونا کی وجہ سے ریڈ لسٹ میں ہونے کے باعث ان دونوں ممالک سے ابوظہبی آنے کی ممانعت ہے۔

ویزوں کے اجرا میں تاخیر کی وجہ سے پاکستان سپر لیگ کے کئی کھلاڑیوں کی آمد میں تاخیر ہوئی ہے اور 25 کھلاڑی جن میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے کپتان سرفراز احمد شامل ہیں۔ ان کی روانگی بعد میں ہو گی بشرطیکہ متحدہ عرب امارات میں چھٹی کے دن ویزوں کے معاملے پر کام ہو۔

اور آخر میں معاملہ نسیم شاہ کا جنہیں مقررہ تاریخ سے پہلے کرونا ٹیسٹ کرانے پر ایونٹ سے باہر کر دیا گیا۔ اسی انتظامیہ نے جس نے ایونٹ کے آغاز سے قبل ایک فرنچائز کے کپتان اور کوچ کو بائیو سیکیور ببل کی خلاف ورزی پر میچ سے باہر کیا۔ لیکن بعد میں فرنچائز مالک کی مداخلت پر گھٹنے ٹیک دیے تھے۔

دوسری جانب شاہد آفریدی کی ایونٹ سے دست برداری کو بھی بعض کرکٹ ماہرین اس ایونٹ کے لیے دھچکہ قرار دے رہے ہیں۔

'ہر چیز کا الزام پاکستان کرکٹ بورڈ پر ڈالنا درست نہیں'

سابق ٹیسٹ کرکٹر، پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کوچ اور پی سی بی سے کئی برس تک جڑے رہنے والے ہارون رشید کا کہنا تھا کہ ہر بات کا موردِ الزام پاکستان کرکٹ بورڈ کو ٹھہرانا درست نہیں۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کرکٹ حکام کے پاس یقیناً اجازت نامہ ہوگا جس کے بعد بھارت اور جنوبی افریقہ سے براڈکاسٹرز کو بلانے کی کوشش کی گئی ہو گی۔

اُن کے بقول "پاکستان کرکٹ بورڈ نے ابوظہبی حکام کی یقین دہانی کے بعد ہی براڈ کاسٹرز کو چارٹرڈ فلائٹ کے ذریعے بھارت اور جنوبی افریقہ سے بلانے کی کوشش کی ہو گی۔ ہو سکتا ہے کہ ابوظہبی حکام نے کرونا کیسز بڑھنے کے بعد پی سی بی کو دی ہوئی اجازت واپس لے لی ہو جس کی وجہ سے ایک نیا مسئلہ کھڑا ہوا۔"

ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کو یہ بھی سوچنا چاہیے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ پی ایس ایل کے باقی میچز کرانے کے لیے اس وقت شدید دباؤ کاشکار ہے اور وہ اپنی طرف سے پوری کوشش کر رہا ہے کہ ایونٹ کا جلد از جلد انعقاد ہو۔ لیکن کرونا کے بڑھتے ہوئے کیسز ان کی کوششوں پر پانی پھیر رہے ہیں۔

کھلاڑیوں کو ویزوں کے اجرا میں تاخیر پر ان کا کہنا تھا کہ بورڈ نے پی ایس ایل جون میں کرانے کا فیصلہ حکام کی یقین دہانی پر ہی کیا ہو گا لیکن حکام اپنا وعدہ پورا کرنے میں ناکام رہے۔

ہارون رشید کہتے ہیں کہ "پاکستان کرکٹ بورڈ کے پاس وقت کی کمی تو تھی ہی، انہیں اندازہ ہونا چاہیے تھا کہ 300سے زائد لوگوں کو ویزا جاری کرنا وہ بھی کرونا کے دنوں میں آسان کام نہیں اور اسی وجہ سے چند کھلاڑی اس وقت پاکستان میں ہی موجود ہیں۔"

پی ایس ایل سکس کے باقی میچز کا انعقاد، مشکل یا ناممکن؟

چارٹرڈ جہاز کی روانگی کو سب بھول جائیں گے، لیکن ان کھلاڑیوں کی روانگی کو کون بھولے گا جنہوں نے قوانین کے مطابق قرنطینہ میں وقت بھی گزارا اور ویزہ نہ ملنے کی وجہ سے تنہائی میں مزید وقت گزاریں گے اور انتظار کریں گے کہ کب ان کا ویز آتا ہے اور وہ ابوظہبی روانہ ہوتے ہیں۔

دوسری جانب یہ بات بھی زور پکڑ رہی ہے کہ جتنا پیسہ پاکستان کرکٹ بورڈ اس وقت پی ایس ایل کے باقی میچز کے انعقاد پر خرچ کر رہی ہا،اس میں ایک پوری پی ایس ایل پاکستان میں ہو سکتی ہے۔

معروف اسپورٹس جرنلسٹ شاہد ہاشمی کا ماننا ہے کہ اگر پاکستان سپر لیگ ملک میں ہی کروالی جاتی تو پاکستان کرکٹ بورڈ اضافی اخراجات سے بچ سکتا تھا۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ابوظہبی ایک مہنگی جگہ ہے جہاں گراؤنڈ کا ایک دن کا خرچہ 40 ہزار ڈالر کے قریب ہے۔

اُن کے بقول "ایونٹ کے تمام اخراجات پاکستان کرکٹ بورڈ فرنچائز سے نہیں لے رہا بلکہ خود برداشت کر رہا ہے، لیکن گراؤنڈ کا یومیہ خرچہ چالیس ہزار ڈالر ہونے سے آپ خود ہی اندازہ لگالیں کہ کتنا اضافی خرچہ بورڈ کو اپنی جیب سے ادا کرنا پڑے گا۔"

انہوں نے اس تمام بدانتظامی کا ذمے دار پاکستان کرکٹ بورڈ کی انتظامیہ کو قرار دیا۔ ان کے خیال میں پی ایس ایل کے چھٹے ایڈیشن کے باقی میچز میں تاخیر سے پی سی بی کے انتظامی امور کی قلعی کھل گئی۔

شاہد ہاشمی کا کہنا تھا کہ "پی ایس ایل کے بقیہ میچز کے انعقاد میں تاخیر کے بعد انتظامی امور میں بڑی کوتاہیاں نظر آئی ہیں۔ عید کے پہلے سے بورڈ کے سات افراد جن میں کئی غیر متعلقہ افراد بھی شامل ہیں وہ انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے ابو ظہبی پہنچ گئے تھے۔ لیکن اب ہونے والی افراتفری اس بات کا ثبوت ہے کہ ان سے وہاں کچھ بھی نہیں ہوا۔"

بقول شاہد ہاشمی، پی ایس ایل ہو گی یا نہیں ہو گی یہ ایک معمہ بن گیا تھا اور پوری دنیا میں پاکستان کے اس اچھے برانڈ کا مذاق اڑایا گیا۔

'اگر پی سی بی میں لیڈر شپ کا فقدان نہ ہوتا، تو سب کچھ ٹھیک ہوتا'

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی تیاریوں کا یہ عالم ہے کہ پاکستان سے کھلاڑیوں کی ایک کھیپ ابوظہبی کے لیے روانہ ہو چکی ہے۔ لیکن ایک ہفتے بعد شروع ہونے والے ایونٹ کے شیڈول کا اعلان ابھی بھی باقی ہے۔

شاہد ہاشمی کا کہنا تھا کہ پی ایس ایل سکس میں ہر چیز دوسری سے مشروط ہے۔ ویزہ نہیں ملے گا تو چارٹرڈ فلائٹ نہیں چلے گی۔ چارٹرڈ فلائٹ نہیں چلے گی تو کھلاڑی ابوظہبی نہیں پہنچیں گے اور اگر براڈکاسٹرز کو ویزہ نہیں ملے گا توشیڈول نہیں بنے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر پی سی بی کے چیئرمین احسان مانی پہلے ہی وزیرِ اعظم عمران خان اور اسد عمر سے ملاقات کرتے تو ایونٹ کو باہر منتقل کرنے سے روکا جا سکتا تھا۔

اُن کے بقول "اگر پی سی بی چیئرمین کوشش کرتے تو کراچی میں ہی یہ سارے میچز ہو جاتے، لیکن جو وفد این سی او سی سے ملنے گیا اس میں اتنے ذمے دار لوگ اور بااثر لوگ نہیں تھے جو انہیں سمجھا سکتے اور یوں این سی او سی نے انہیں ابوظہبی جانے کا مشورہ دیا کیوں کہ کسی نے کوشش ہی نہیں کی انہیں قائل کرنے کی۔"

ویزے کے اجرا میں تاخیر ہو یا کوئی اور انتظامی بے قاعدگی، شاہد ہاشمی کے خیال میں ان سات افراد سے اس بارے میں پوچھنا چاہیے جو کئی ہفتوں سے ابوظہبی میں موجود ہیں اور جن کی کوتاہی اور نااہلی کی وجہ سے یہ سارا معاملہ خراب ہوا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے پاس پی ایس ایل کے بقیہ میچز کرانے کے علاوہ کوئی اور حل نہیں تھا اگر اس میں اور تاخیر ہوتی تو سب کا نقصان ہوتا۔

اُن کے بقول 'پی سی بی کو ایونٹ کے ٹی وی رائٹس سے 12 ملین ڈالرز کی آمدنی ہوتی ہے جب کہ ٹائٹل اسپانسر شپ کے پیسے الگ ہیں لیکن یہ دونوں صرف اسی وقت ملتے جب پی ایس ایل کا سیزن کامیابی کے ساتھ ختم ہوتا۔ پی سی بی نے اسی لیے جو ونڈو ملی اس میں میچز کرانے کا فیصلہ کیا کیوں کہ اس کے بعد کوئی اور ونڈو نہیں ملتی۔"

سابق ٹیسٹ کرکٹر ہارون رشید نے بھی کہا کہ ایونٹ کے باقی میچز کے آغاز سے قبل ہی پاکستان کرکٹ بورڈ کی پوزیشن کمزور ہوگئی تھی۔ ناقدین نے پہلے پی ایس ایل کی منسوخی، اور پھر ابوظہبی میں بقیہ میچز کے انعقاد پر شور مچایا اور اب پی ایس ایل کے بڑھتے ہوئے اخراجات پر تشویس کا اظہار کریں گے۔

XS
SM
MD
LG