رسائی کے لنکس

خلا میں میلے کپڑوں کی دھلائی 'ناسا' کے لیے اہم مسئلہ کیوں؟


خلا میں جانے والے خلا نورد کپڑے کیسے دھوتے ہوں گے؟ دلچسپ لگنے والے اس سوال کا جواب ہے کہ وہ کپڑے دھوتے ہی نہیں بلکہ کپڑے، زیر جامے اور موزے وغیرہ اس وقت تک پہنتے رہتے ہیں جب تک ان کی بو قابلِ برداشت ہوتی ہے۔

جب یہ میلے اور گندے کپڑے ان کے استعمال کے قابل نہیں رہتے تو خلا نورد انہیں کچرے میں ڈال دیتے ہیں۔

لیکن خلائی تحقیق کا امریکی ادارہ 'ناسا' اس مسئلے کا حل نکالنا چاہتا ہے۔ کیوں کہ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو خدشہ ہے کہ ہر سال بین الاقوامی خلائی اسٹیشن اور آنے والے برسوں میں چاند اور مریخ پر ٹنوں کے حساب سے میلے اور گندے کپڑوں کا ڈھیر لگ جائے گا کیوں کہ اب تک انہیں ٹھکانے لگانے کے لیے خلا میں پہلے سے موجود متروک کارگو شپس میں بھرا جاتا رہا ہے۔ جو بعد ازاں زمین کے مدار میں بھیجے جانے کے دوران جل جاتے ہیں۔

اس مسئلے کے حل کے لیے 'ناسا' نے مشہور کمپنی 'پراکٹر اینڈ گیمبل' کے ساتھ مل کر ایک ایسے منصوبے پر کام شروع کیا ہے۔ جس کی کامیابی کی صورت میں خلانورد نہ صرف خلا میں اپنے کپڑے صاف رکھ سکیں گے بلکہ زمین کی طرح ان کے کپڑے مہینوں بلکہ برسوں تک پہننے کے قابل بھی رہیں گے۔

پراکٹر اینڈ گیمبل نے رواں ہفتے اعلان کیا ہے کہ وہ رواں سال کے اختتام تک خلا میں کپڑوں کی دھلائی کے تجربات کے لیے 'ٹائڈ' ڈٹرجنٹ خلا میں بھیجے گی۔

میلے کپڑے چھوٹا مسئلہ نہیں!

امریکہ اور دیگر ممالک جہاں چاند اور مریخ پر اپنے اڈے بنانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں، وہیں میلے کپڑوں کی دھلائی کو کائنات کی تسخیر کے اس سفر میں اہم مسئلہ قرار دیا جا رہا ہے۔

ناسا کے مطابق خلا میں ساز و سامان لے جانے والے راکٹ بہت تنگ ہوتے ہیں اور ان کے ذریعے سامان کی ترسیل مہنگی بھی پڑتی ہے۔ اس لیے خلا نوردوں کے لیے نئے کپڑے راکٹس کے ذریعے بھجوانے سے بہتر ہے کہ ان کے کپڑوں کو وہیں صاف اور خوشبودار رکھنے کا کوئی انتظام کیا جائے۔

ناسا کے خلاباز، نجی کمپنی کا راکٹ
ناسا کے خلاباز، نجی کمپنی کا راکٹ

'پی اینڈ جی' میں کپڑے کے ریشوں اور گھریلو دیکھ بھال کی ٹیکنالوجی کے ماہر مارک سوک کا کہنا ہے کہ جب حساب کتاب سے یہ معلوم ہو کہ خلا میں رہنے والے ایک خلانورد کو سالانہ 68 کلو کپڑے درکار ہوتے ہیں تو ایسے میں تین سال کے مریخ مشن میں ان کپڑوں کی تعداد بھی کئی گنا بڑھ جائے گی۔

سوال صحت کا بھی ہے!

خلائی اسٹیشن پر کششِ ثقل نہیں ہوتی اور وہاں رہنے والے خلانورد 'بے وزنی' کی کیفیت میں رہتے ہیں۔ یعنی وہ بے وزن اجسام کی طرح فضا میں تیرتے رہتے ہیں۔ جس کے باعث انہیں ہڈیوں اور پٹھوں کے کئی مسائل کا بھی سامنا ہوسکتا ہے۔

ناسا کے سابق خلا نورد لیلینڈ میلون کے مطابق ان مسائل سے بچنے کے لیے خلا نوردوں کو روزانہ دو گھنٹے ورزش کرنا پڑتی ہے جس کی وجہ سے ان کے ورزش کے کپڑے پسینے سے تر ہو جاتے ہیں، ان میں بو بھی پیدا ہوجاتی ہے اور پسینہ سوکھنے پر یہ کپڑے اکڑ جاتے ہیں۔

ایک ہفتے کے اندر ان کی ٹی شرٹس، شارٹس اور موزے اس قدر میلے اور بدبودار ہوجاتے ہیں کہ انہیں تبدیل کرنا ہی پڑتا ہے۔

میلون خلا میں کپڑوں کی صفائی کے ناسا کے اس منصوبے کے ترجمان بھی ہیں۔ ان کے مطابق یہ میلے کپڑے زہریلے ہوجاتے ہیں۔

ناسا اور بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے دیگر شراکت دار خلا میں زیادہ عرصے تک قابلِ استعمال رہنے والے اینٹی مائیکروبیل کپڑے تیار کرنے پر بھی کام کر رہے ہیں۔ لیکن یہ بھی اس مسئلے کا دیرپا حل نہیں ہے۔

'پی اینڈ جی' اپنے ابتدائی تجربے کے لیے رواں سال دسمبر تک خلا میں استعمال کے لیے خصوصی طور پر تیار کیا گیا ڈٹرجنٹ بھجوائے گی۔ جس کے بعد سائنس دان چھ ماہ کے دوران بے وزنی کی حالت میں انزائمز اور ڈٹرجنٹ میں شامل دیگر اجزا کے ردِّعمل کا جائزہ لے سکیں گے۔

اگلے مرحلے میں داغ دھبے مٹانے والے ریموول پین اور وائپس تجربے کے لیے خلا نوردوں کو فراہم کیے جائیں گے۔

کپڑے دھونے کی ’خلائی مشین‘

اس کے ساتھ ساتھ 'پی اینڈ جی' کپڑے دھونے اور سکھانے کی مشین پر بھی کام کر رہی ہے جو چاند اور مریخ پر بھی قابلِ استعمال ہوگی۔ اس مشین میں پانی اور ڈٹرجنٹ کی برائے نام مقدار استعمال ہوگی۔ یہ مشین زمین پر ایسے خطوں کے لیے بھی کارآمد ہوگی جہاں پانی آسانی کے ساتھ دستیاب نہیں ہوتا۔

اس مشین کے ڈیزائن میں کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔ خلا میں کپڑوں کی دھلائی کے بعد اس پانی کو پینے اور کھانا پکانے کے لیے بھی قابلِ استعمال بنانا ہو گا، بالکل اسی طرح جیسے خلا میں خلا نوردوں کے پیشاب اور پسینے کو ری سائیکل کرکے انہیں قابلِ استعمال بنایا جاتا ہے۔

میلون کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کے بہترین حل کے لیے ایک متنوع ٹیم کی ضرورت ہے اور اس سے زیادہ تنوع کیا ہوسکتا ہے کہ جب 'ٹائڈ' اور 'ناسا' ایک ساتھ کام کر رہے ہیں۔

اس خبر میں شامل معلومات ایسوسی ایٹڈ پریس سے لی گئی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG