رسائی کے لنکس

ہانگ کانگ: صحافیوں سے متعلق معلومات کی فراہمی، مزید سخت اقدامات کا خدشہ


ہانگ کانگ کے ایک جمہوریت نواز کارکن 15 ستمبر کو عدالت سے باہر آتے ہوئے

ہانگ کانگ کے سیکیورٹی چیف نے شہر کی پریس ایسوسی ایشن پر الزام لگایا ہے کہ وہ اسکولوں میں دراندازی کر رہی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ ایسوسی ایشن اپنے ارکان کے متعلق بتائے کہ وہ کن اداروں کے لیے کام کر رہے ہیں اور اس کےمیمبران میں طالب علموں کی تعداد کتنی ہے۔

سیکرٹری فار سیکیورٹی کرس ٹینگ کے اس بیان سے خدشات پیدا ہوئے ہیں کہ حکومت ہانک کانگ کی سول سوسائٹی کے خلاف مزید اقدامات کر سکتی ہے۔

یاد رہے کہ چین نے ہانگ کانگ پر، جو پہلے برطانوی کالونی تھی اور اب ایشیا کا اہم مالیاتی مرکز ہے، ایک متنازعہ قومی قانون برائے سلامتی کا گزشتہ سال سے نفاذ کر رکھا ہے۔

بیجنگ کی حامی اخبار 'تا کنگ پاو' کے ساتھ انٹرویو کے دوران سیکیورٹی چیف نے کہا کہ ہانگ کانگ جرنلسٹ ایسوسی ایشن صحافیوں کی آڑ میں سکولوں کے اندر رسائی حاصل کرنا چاہتی ہے۔

ہانگ کانگ میں جمہوریت کے حق میں مظاہرے
please wait

No media source currently available

0:00 0:02:19 0:00

سیکیورٹی چیف کے بیان کے ردعمل میں جرنلسٹ ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ اس کے 486 ممبران ہیں جس میں 56 طالب علم ہیں۔ ایسو سی ایشن نے یہ نہیں بتایا کہ اس کے اراکین کس کس ادارے کے لیے کام کرتے ہیں، نہ ہی اس نے اسکولوں میں دراندازی کے الزامات کا کوئی ذکر کیا۔

خیال رہے کہ ہانگ کانگ کی میڈیا صنعت میں قومی سلامتی کے قانون کے نفاذ کے بعد بہت سی اہم تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔

چین کے نقاد اور ایک اہم میڈیا کمپنی کے مالک جمی لائے اس وقت جیل میں ہیں جہاں وہ قومی سلامتی کے حوالے سے اپنے خلاف لگائے گئےالزامات کے مقدمے کی کاروائی کا انتظار کر رہے ہیں۔ ان کو جمہوریت نواز اخبار 'ایپل ڈیلی' کو بند کر دیا گیا ہے اور اس کے چیف ایڈیٹر سمیت کمپنی کے اعلیٰ اہلکار بھی زیر حراست ہیں۔

میڈیا کمپنیوں کے علاوہ بہت سے سول گروپ اور حزب اختلاف کی پارٹیوں نے اپنے کام یا تو بند کر دیا ہے یا انہیں بہت محدود کر دیا ہے۔ ان کے بہت سے اراکین بھی جیلوں میں بند پڑے ہیں۔

اس ماہ ہانگ کانگ کے اساتذہ کی سب سے بڑی تنظیم 'دی پرورفیشنل ٹیچرز یونین' کو چین کے ریاستی میڈیا کی طرف سے تنقید کا نشانہ بنائے جانے کے بعد ختم کر دیا گیا ہے۔ یونین پر الزام لگایا گیا تھا کہ اس نے تعلیم کو سیاسی رنگ دیا ہے۔

ہانگ کانگ کو 1997 میں برطانیہ نے چین کو واپس کردیا تھا اور چین نے وعدہ کیا تھا کہ وہ اپنے بقیہ حصوں پر عدم دستیاب آزادی کی ہانگ کانگ شہر میں جاری رکھے گا۔

ہانگ کانگ کا فعال میڈیا اور متحرک سول سوسائٹی ایک عرصے سے شہر کی پہچان رہے ہیں۔

لیکن سلامتی کے قانون کے بعد شہر میں جمہوریت کے حق میں بہت سے پر امن اور پر تشدد احتجاجی مظاہرےکیے گئے۔

اب نافذ العمل قانون کے تحت تخریب کاری، علیحدگی پسندی، بیرونی قوتوں کے ساتھ ملی بھگت اور دہشت گردی کی سزا عمر قید تک دی جاسکتی ہے۔

دوسری جانب ہانگ کانگ کی حکومت کا کہنا ہے کہ مذکورہ قانون کا اطلاق امن و امان کی صورت حال بگاڑنے والے ایک چھوٹے سے گروپ پر ہوتا ہے اور یہ کہ اس کے قانون نافذ کرنے کے اقدامات کا تعلق افراد یا گروپوں کی سیاسی سوچ یا ان کے پس منظر سے ہر گز نہیں ہے۔

XS
SM
MD
LG