رسائی کے لنکس

'گولڈن گلوبز' کا غیر ملکی زبان کی فلموں کے لیے اپنے اصولوں میں تبدیلی کا اعلان


فائل فوٹو

انٹرٹینمنٹ کی دنیا کے دوسرے سب سے بڑے ایوارڈ 'گلولڈن گلوب' نے غیر ملکی زبان اور اینی میٹڈ فلموں کے لیے اپنے اصولوں میں تبدیلی کا اعلان کیا ہے۔

گولڈن گلوبز نے بدھ کو اعلان کیا ہے کہ اب اینی میٹڈ اور غیر ملکی زبان کی فلموں کو بھی ایوارڈز شو کے ٹاپ پرائز کے لیے مقابلہ کرنے کا موقع ملے گا۔

منتظمین کی جانب سے یہ تبدیلی اس وقت سامنے آئی ہے جب رواں برس مئی میں نسلی امتیاز کے تنازع پر گولڈن گلوب ایوارڈز کے نشریاتی پارٹنر 'این بی سی' نے 2022 کی تقریب نشر کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

واضح رہے کہ گولڈن گلوبز ایوارڈز دیکھنے والوں کی جانب سے امریکی کورین فیملی کے گرد گھومنے والی فلم 'مناری' کو صرف غیر ملکی زبان کی فلم کی کیٹیگری تک محدود رکھنے پر غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا تھا۔

کورین زبان کی فلم 'مناری' کو 'بہترین کامیڈی' اور 'بہترین ڈرامہ' کی کیٹیگری میں مقابلہ کرنے کی اجازت نہیں تھی جو کہ قابلِ تعریف فلم سمجھی جا رہی تھی۔

اسی طرح گزشتہ برس آسکرز ایوارڈ میں بہترین فلم کا ایوارڈ اپنے نام کرنے والی کورین فلم 'پیرا سائٹ' کو بھی گولڈن گلوبز کی ٹاپ کیٹیگری میں نہیں رکھا گیا تھا۔

ایوارڈ کے حق دار کا انتخاب کرنے والی ہالی وڈ فارن پریس ایسوسی ایشن (ایچ ایف پی اے) کے صدر علی سر نے خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اب زبان بہترین فلموں کی پہچان کے لیے رکاوٹ نہیں بنے گی۔

انہوں نے کہا کہ "رواں برس ہم نے اپنے رہنما اصولوں کا جائزہ لیا اور انڈسٹری کو سنا جس کے بعد ہم نے مستقبل میں اپنے شوز کے لیے نئی حکمتِ عملی اپنانے کا فیصلہ کیا ہے، تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ غیر ملکی زبان کی فلموں کو بھی وہی توجہ حاصل ہو جس کی وہ حق دار ہیں۔"

غیر ملکی فلموں کے لیے اپنے رہنما اصولوں میں تبدیلی سے قبل ایچ ایف پی اے نے مئی میں نسلی امتیاز کے تنازع کے حل کے لیے نئی اصلاحات لانے اور سیاہ فام افراد کے ارکان کی بھرتیوں کا اعلان کیا تھا۔

ایوارڈ کے حق دار کا انتخاب کرنے والی 90 رکنی کمیٹی میں ایک بھی سیاہ فام رکن نہ ہونے پر ایسوسی ایشن کو تنقید کا سامنا تھا۔

اس ضمن میں امریکی اداکارہ اسکارلٹ جانسن اور ٹام کروز کے علاوہ نیٹ فلکس اور وارنر برادرز جیسی کمپنیوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا تھا کہ اگر ایچ ایف پی اے نئی اصلاحات نہیں کرتی تو وہ ان کے ساتھ کام نہیں کریں گے۔

اس تمام تر صورتِ حال کے دوران ایچ ایف پی اے کے دو ارکان نے ایسوسی ایشن کو 'زہریلا' قرار دیتے ہوئے اپنی رکنیت سے استعفیٰ بھی دیا۔

ایچ ایف پی اے نے بدھ کو کہا ہے کہ تنظیم کے بیشتر ارکان نے مساوات، تنوع اور دیگر تربیتی سیشنز مکمل کر لیے ہیں اور تنظیمِ نو میں پہلے ہی پیش رفت ہو چکی ہے۔

ایچ ایف پی اے میں ان تبدیلیوں میں ارکان کے تحائف قبول کرنے پر پابندی، ڈائیورسٹی ایڈوائسزر (نسل پرستانہ، صنفی امتیاز، اور مساوات سے متعلق رہنمائی فراہم کرنے والوں) کی بھرتی اور شکایات کے لیے ایک ایسی ہاٹ لائن قائم کرنا شامل ہے جس میں شکایت درج کرنے والے کا نام ظاہر نہیں کیا جائے گا۔

ایچ ایف پی اے کے صدر کا مزید کہنا تھا کہ یہ تبدیلیاں فوری عمل میں لائی جائیں گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG