رسائی کے لنکس

تائیوان کو ورلڈ ہیلتھ اسمبلی میں مبصرکا درجہ دیا جائے، جی سیون کا مطالبہ


عالمی ادارہ صحے کے صدر دفتر میں ورلڈ ہیلتھ اسمبلی کے اجلاس کے موقعے پر آویزاں ایک بینر فائل فوٹو

سرکردہ ترقی یافتہ ملکوں نے عالمی ادارہ صحت کے ارکان پر مشتمل اسمبلی میں تائیوان کو مبصر کا درجہ دینے کی حمایت کی ہے۔ اسمبلی عالمی ادارہ صحت کی فیصلہ ساز کمیٹی کا درجہ رکھتی ہے، جس کا سالانہ اجلاس 24 مئی سے یکم جون تک منعقد ہوگا۔

پہلی بار گروپ آف سیون ممالک نے یک زبان ہو کر ورلڈ ہیلتھ اسمبلی میں تائیوان کی شمولیت کی تائید کی ہے۔

بدھ کے روز جی سیون کی جانب سے جاری کردہ مشترکہ بیان میں کہا گیاہے کہ ''ہم عالمی ادارہ صحت کے فورمز اور ورلڈ ہیلتھ اسمبلی میں تائیوان کی شرکت کی پرزور حمایت کرتے ہیں''۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ عالمی برادری کے لیے لازم ہے کہ وہ تمام شراکت داروں کے تجربے سے مستفید ہو، جس میں تائیوان کی جانب سے کووڈ 19 سے نبردآزما ہونے کے کامیاب تجربے کی مثال شامل ہے۔

اس ہفتے جی سیون ممالک کے وزرائے خارجہ کا لندن میں اجلاس منعقد ہوا ہے۔

تائیوان نے کہا ہے کہ کھل کر حمایت کرنے پر وہ جی سیون کا مشکور ہے۔ امریکہ میں تائیوان کے دفتر کے نمائندہ خصوصی نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ''تائیوان جی 7 کے تمام وزرائے خارجہ اور یورپی یونین کی جانب سے دیے گئے اس مشترکہ بیان میں ٹھوس حمایت کرنے پر ان کا شکریہ ادا کرتا ہے، جس کا مقصد عالمی ادارہ صحت اور ورلڈ ہیلتھ اسمبلی میں مفید شرکت کا مطالبہ ہے۔ ہم اس بات کے حامی ہیں کہ تائیوان کو عالمی صحت کے نظام میں اپنا حصہ ادا کرنے میں مدد دینے کی اجازت دی جائے۔''

آسٹریلیا، بھارت، جنوبی افریقہ، جنوبی کوریا اور برونائی کے اہلکار بھی مہمان کی حیثیت سے لندن کے جی سیون اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں، جس میں جی 7 کے وزرائے خارجہ اور وزرائے ترقی شریک ہیں۔

اجلاس کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ''ہم آبنائے تائیوان میں امن اور استحکام کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے وہاں کے معاملات کے پرامن تصفیے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اجلاس کسی یکطرفہ اقدام کی سخت مخالفت کا اعادہ کرتا ہے، جس سے تناؤ میں اضافہ ہو، علاقائی استحکام کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہو یا بین الاقوامی ضابطوں کی خلاف ورزی ہوتی ہو؛ اور ہم عسکریت پسندی، جبر اوردہشت گردی کے حربے استعمال کرنے کے بارے میں ملنے والی اطلاعات پر شدئد تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔

یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب چین اپنی عسکری کارروائیاں تیز کرتے ہوئے، تائیوان کی فضائی حدود میں اپنے طیارے روانہ کرتا آرہا ہے۔

XS
SM
MD
LG