رسائی کے لنکس

’افغانستان میں تبدیلی کے پاکستان کی معیشت پر اثرات آنا شروع ہو چکے ہیں‘


مبصرین کے مطابق افغانستان پر طالبان کی حکومت سے قبل وہاں کی جانے والی بیرونی سرمایہ کاری کے مثبت اثرات پاکستان کی معیشت پر بھی نظر آئے تھے البتہ اب یہ سلسلہ بند ہونے کے بعد پاکستان سے امریکی ڈالرز افغانستان منتقل ہو رہے ہیں۔ (فائل فوٹو)

افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت کے قیام اور امریکہ کے انخلا کے بعد خطے میں پیدا ہونے والی سیاسی تبدیلیوں کے اثرات ہر شعبے بالخصوص معیشت پر مرتب ہو رہے ہیں۔

اسی تناظر میں افغانستان میں آنے والی تبدیلیوں کے پاکستان پر ممکنہ معاشی اثرات سے متعلق کئی سوالات سامنے آ رہے ہیں۔

’اثرات آنا شروع ہو چکے ہیں‘

واشنگٹن میں قائم ’نیو لائنز انسٹیٹیوٹ‘ سے وابستہ تجزیہ کار کامران بخاری کا کہنا ہے کہ افغانستان میں حکومت کی تبدیلی کے پاکستان کی معیشت پر اثرات آنا شروع ہو چکے ہیں اور آئندہ ایام میں یہ مزید سامنے آئیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی روپے کی قدر میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں تاریخی کمی ان اثرات کی ایک مثال ہے۔ افغانستان پر طالبان کی حکومت سے قبل وہاں کی جانے والی بیرونی سرمایہ کاری کے مثبت اثرات پاکستان کی معیشت پر بھی نظر آئے تھے البتہ اب یہ سلسلہ بند ہونے کے بعد پاکستان سے امریکی ڈالرز افغانستان منتقل ہو رہے ہیں۔

کامران بخاری کا کہنا ہے کہ ایک جانب پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات بڑھے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں ضم کیے گئے قبائلی علاقوں میں تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے دوبارہ زور پکڑا ہے۔ وہ افغانستان میں طالبان کی جیت پر کافی توانا دکھائی دے رہے ہیں۔ دوسری جانب افغانستان میں موجود طالبان سے بھی دنیا یہ کہے گی کہ وہ ان کی شرائط کو مانیں تب ہی انہیں امداد ملے گی یا ان کے ساتھ تجارتی روابط قائم ہوں گے۔ ان دونوں صورتوں کے پاکستان پر بھی اثرات مرتب ہوں گے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر طالبان افغانستان میں امن و امان کے قیام اور وہاں معاشی بہتری پیدا کرنے میں ناکام ہو جاتے ہیں تو پاکستان میں بڑی تعداد میں مہاجرین داخل ہوسکتے ہیں جس سے معیشت پر مزید بوجھ پڑ سکتا ہے۔

یاد رہے کہ اس وقت بھی دنیا میں سب سے بڑی تعداد میں افغان مہاجرین پاکستان میں ہیں۔

کامران بخاری کے خیال میں سرمایہ کار پاکستان کے بارے میں امریکہ کی نئی حکمتِ عملی پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اس بارے میں امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن کا حالیہ بیان بھی بہت اہمیت کا حامل ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکی انتظامیہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کا ازسر نو جائزہ لے رہی ہے۔

’بین الاقوامی معاشی اداروں سے بھی پاکستان پر دباؤ‘

کامران بخاری کے مطابق یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اگر آپ کے تعلقات امریکہ سے ٹھیک نہیں تو بین الاقوامی معاشی اداروں سے خیر کی توقع نہیں رکھی جا سکتی۔ وہاں پاکستان کو عدم تعاون کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسی طرح پاکستان فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی بھی گرے لسٹ میں شامل ہے جس سے نکلنے کے لیے پاکستان بھر پور کوششیں کر رہا ہے اور اس حربے کے ذریعے پاکستان کو دبانے کی بھرپور کوشش کی جا سکتی ہے۔

ان کے نزدیک اس کی وجہ یہ ہے کہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کو سب سے زیادہ فنڈز فراہم کرنے والا ملک امریکہ ہے۔ اس لیے اس کا اثر و رسوخ بھی بہت زیادہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی اداروں کی شرائط اور ان کے قوانین و ضوابط پورا کرنے پر قرض کی فراہمی ممکن ہونا تصویر کا ایک رخ ہے جب کہ دوسرا رخ یہ بھی ہے کہ ہر فیصلہ جغرافیائی اور سیاسی زاویے کا عکاس ہوتا ہے۔

نتائج کیا ہوں گے؟

وزیرِ اعظم پاکستان کی معاشی ٹیم میں شامل ڈاکٹر عابد سلہری کا کہنا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں پاکستان کی معاشی حالت دگرگوں ہے اور ہو سکتا ہے کہ پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں مزید وقت لگ جائے یا آئی ایم ایف سے جو پاکستان کا پروگرام معطل ہے، کچھ عرصے کے لیے مزید معطل ہی رہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ان بین الاقوامی معاشی اداروں جیسے آئی ایم ایف، ورلڈ بینک، ایف اے ٹی ایف وغیرہ تکنیکی ادارے ہیں، کو اگر رکن ممالک پر سیاسی دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے تو اس سے کثیر الجہتی نظام کو دھچکا لگے گا جس سے دنیا میں قطبی نظام کو طاقت ملے گی۔

انہوں نے بتایا کہ آئی ایم ایف میں امریکہ کے 16 فی صد شیئرز اور ووٹنگ پاور ہے جو سب سے زیادہ ہے اور ظاہر ہے امریکہ کی مرضی کے خلاف وہاں سے کوئی فیصلہ آنا ممکن نہیں۔ اسی طرح سے فیٹف میں بھی امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کا اثر و رسوخ بے حد زیادہ ہے۔

لیکن ڈاکٹر عابد سلہری کے خیال میں اس بات کے امکانات نہیں ہیں کہ پاکستان ایف ٹی ایف میں بلیک لسٹ ہو جائے گا یا آئی ایم ایف سے مذاکرات کامیاب نہ ہونے کی صورت میں پاکستان دیوالیہ ہو سکتا ہے۔

البتہ ان کے خیال میں امریکہ اور پاکستان کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اور اگر امریکہ پاکستان کے ساتھ مل کر کام نہیں کرتا تو اس سے خطے کی مشکلات ہی میں اضافہ ہوگا جس کا خمیازہ دنیا کو بھگتنا پڑ سکتا ہے۔

’پاکستان اپنی پوزیشن کو کس طرح سے استعمال کر سکتا ہے؟‘

کامران بخاری کا خیال ہے کہ پاکستان کے پاس کھیلنے کے لیے اب بھی پتے ہیں۔ امریکہ کو اب اس خطے کو مینیج کرنے اور یہاں سے مفادات سمیٹنے کے لیے نئے طریقہ کار پر کام کرنا ہوگا۔ اس طریقہ کار میں پاکستان کی جغرافیائی اور آبادی کے اعتبار سے اہمیت کو کسی صورت بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ چیزیں پاکستان کو بہرحال کسی طور بہتر پوزیشن پر لاکھڑا کرتی ہیں۔ لیکن دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان اپنی اس پوزیشن کو کس طرح سے استعمال کرکے اپنے لیے آئندہ کے لیے بہتر ڈیل بناسکتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ افغانستان کی موجودہ صورتِ حال میں چین بھی خوف زدہ ہے کیوں کہ چین یہ سمجھتا ہے کہ اگر افغانستان میں عدم استحکام ہوتا ہے تو اس کا اثر پاکستان میں موجود چین کی سرمایہ کاری پر پڑ سکتا ہے۔ اور اسی وجہ سے وہ انسانی بنیادوں پر افغانستان کو امداد فراہم کررہا ہے۔

’مستقبل کے امکانات‘

کامران بخاری کا کہنا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے آئندہ کے تعلقات کا انحصار گزشتہ 20 برس کے دوران امریکی تجربات اور پھر طاقت پر ہو گا۔ بہت سے امریکی یہ سمجھتے ہیں کہ دہشت گردی کی جنگ میں القاعدہ کے خلاف تو امریکہ کا ساتھ دیا لیکن دوسری جانب پاکستان نے طالبان کے اہم رہنماؤں کو اپنے ہاں پناہ دے رکھی تھی۔

ان کا کہنا ہے کہ اس کے علاوہ امریکی ادارے اپنے اوپر ہونے والی تنقید کا کچھ الزام قبول کرنے کے ساتھ پاکستان کو بھی مورد الزام ٹھہرائیں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ بھی حقیقت ہے اور امریکہ کے اپنے لوگ کہہ رہے ہیں کہ امریکہ نے افغانستان میں بہت بڑی نالائقی کا ثبوت دیا ہے۔ یہ بات پہلے بھی کی جارہی تھی اور امریکی حکام اس ساری ناکامی کا مکمل الزام اپنے سر لینے کے لیے تیار نہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ اس کا ملبہ پاکستان پر بھی ڈالتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان کو کہنا پڑتا ہے کہ امریکہ اسے قربانی کا بکرا نہ بنائے۔

’پاکستان اور امریکہ اب بھی ایک دوسرے کی ضرورت ہیں‘

ڈاکٹر عابد سلہری کا کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کا معاشی میدان میں اثر تو پڑ سکتا ہے لیکن ان کے خیال میں بات اس قدر دور نہیں جائے گی کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کی مصنوعات پر زیادہ ڈیوٹیز عائد کر دیں۔ جیسے چین اور امریکہ کے درمیان ہوا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ پاکستان شمالی کوریا یا ایران نہیں۔ اگر کئی مواقع پر پاکستان کو امریکی حمایت کی ضرورت ہے تو دوسری جانب بہت سی جگہوں پر امریکہ کو بھی پاکستان کی اشد ضرورت ہے۔

عابد سلہری کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تعلقات بہرحال موجود رہیں گے۔ لیکن پاکستان پر دباؤ بڑھانے کے لیے بین الاقوامی معاشی اداروں کو استعمال کرنے سے مستقبل میں دونوں ممالک کے تعلقات پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

دہشت گردی کی عالمی جنگ کے دوران پاکستان امریکہ کا سب سے بڑا نان نیٹو اتحادی رہا ہے۔ اور اس دوران امریکہ کا کہنا ہے کہ اس نے 32 ارب ڈالرز سے زائد پاکستان کو سویلین اور ملٹری سپورٹ کے تحت فراہم کیے۔

سن 2019 کے اعداد و شمار کے مطابق یہ امداد 33.4 ارب ڈالرز تک جا پہنچی تھی جس میں سے 14.6 ارب ڈالرز کولیشن سپورٹ فنڈ کے تحت جبکہ 18.8 ارب ڈالرز بیرونی امداد کے تحت فراہم کئے گئے۔

جب کہ پاکستان کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کی جنگ میں حصہ بننے اور امریکہ کا اتحادی ہونے کے ناتے اسے 83 ہزار جانوں کے ضیاع کے علاوہ 126 ارب ڈالرز کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑا جو فراہم کی گئی امریکی امداد سے بہت کم ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG