رسائی کے لنکس

فرانس: اب خواتین پولیس اسٹیشن جائے بغیر تشدد کی شکایت درج کرا سکیں گی


فرانس میں شہریت کی جونئیر منسٹر مارلین سکیاپا پیرس میں ایک پولیس سٹیشن کا دورہ کر رہی ہیں۔ تئیس نومبر دو ہزار اکیس ۔ فوٹو اے پی

فرانس میں اب خواتین تشدد اور ہراسانی کی شکایتیں تھانے جائے بغیر ہی درج کروا سکیں گی۔ فرانسیسی حکومت کا یہ فیصلہ ایسی ہزاروں خواتین کے آن لائن بیانات کے بعد سامنے آیا ہے جنہوں نے پولیس اسٹیشنز میں عملے کے رویے کی شکایتیں کی تھیں۔

فرانس میں شہری امور کی جونئیر وزیر کے مطابق خواتین خود پر تشدد کی شکایات اپنے دوستوں کے گھر یا کسی بھی ایسے مقام پر جہاں یہ خود کو محفوظ سمجھتی ہوں، درج کروا سکتی ہیں۔

مارلین سکیاپا نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس سے بات چیت میں کہا کہ خواتین نے انہیں بتایا ہے کہ وہ پولیس کے رویے کی وجہ سے پولیس اسٹیشن جانے سے خوفزدہ ہیں اور وردی میں ملبوس اجنبی سے معاشرتی طور پر ممنوع مسئلے پر بات کرنا ویسے بھی مشکل کام ہے'.

فرانس میں اپنے حقوق کی جنگ خود خواتین ہی لڑ رہی ہیں۔ گزشتہ دنوں فرانس میں ہزاروں خواتین نے آن لائن یاد داشتوں میں بتایا کہ کس طرح گھریلو تشدد اور جنسی ہراسانی کی شکایات پر پولیس نے انہیں ہی ذمہ دار ٹھہرایا اور ان کی شکایات پر کارروائی نہیں کی۔

فرانسیسی سوشل میڈیا پر "دوہری سزا" کے نام سے وائرل ہونے والے 'ہیش ٹیگ' میں تقریباً تیس ہزار خواتین نے اپنی آپ بیتیاں شیئر کیں۔

پولیس کو پابند کیا جائے گا کہ وہ شکایت درج کروانے والی خاتون کو محفوظ مقام پر شکایت درج کروانے کا موقعہ فراہم کرے۔ فوٹو اے پی
پولیس کو پابند کیا جائے گا کہ وہ شکایت درج کروانے والی خاتون کو محفوظ مقام پر شکایت درج کروانے کا موقعہ فراہم کرے۔ فوٹو اے پی

فرانس میں شماریات کے ایک سروے میں یہ سامنے آیا ہے کہ جنسی ہراسانی اور تشدد کا شکار خواتین کی محض دس فیصد تعداد ہی پولیس میں شکایت درج کراتی ہے۔

قومی شماریات کے ادارے کے مطابق ہر سال فرانس میں تقریباً دو لاکھ خواتین اپنے سابقہ یا موجودہ ساتھی کے ہاتھوں جسمانی تشدد یا جنسی ہراسانی کا شکار ہوتی ہیں۔

شکایت درج کرانے کے اس نئے طریقہ کار کے مطابق پولیس خواتین کی خواہش پر جہاں وہ خود کو محفوظ سمجھیں اس جگہ پہنچ کر شکایت درج کرنے کی پابند ہوگی۔ یہ جگہ کسی دوست کا گھر، وکیل کا دفتر یا گھر، ہسپتال، ڈاکٹر کا گھر یا کوئی شیلٹر ہوم ہو سکتا ہے۔

فرانس کے امور داخلہ کی وزیر مملکت نے بتایا کہ موجودہ سالوں میں تشدد کے کیسز سے نمٹنے کے لئے کئی پولیس ٹریننگز کا اہتمام بھی کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی شکایت کرنے والی خاتون کی جان کے خطرے کو جانچنے کے لئے سوالوں کی ایک فہرست بھی مرتب کی گئی ہے۔ ان خواتین کو فون پر ٹیکسٹ میسج کے ذریعے یا آن لائن جا کر پولیس کو الرٹ کرنے کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔

فرانس کی جونئیر وزیر پیرس کے ایک پولیس اسٹیشن کے دورے کے دوران۔ فوٹو اے پی
فرانس کی جونئیر وزیر پیرس کے ایک پولیس اسٹیشن کے دورے کے دوران۔ فوٹو اے پی

اقوام متحدہ کی جانب سے پچیس نومبر کو خواتین پر تشدد کے خاتمے کے لئے منائے جانے والے دن پر ملک میں ایک ماڈل پولیس اسٹیشن بھی تیار کیا گیا ہے جہاں شکایت درج کرانے والی خاتون کو تنہائی میں شکایت درج کرانے کے لئے علیحدہ کمرہ دیا گیا ہے۔ ساتھ ہی میں بچوں کے لئے بھی کمرہ بنایا گیا ہے جہاں کتابیں اور کھلونے رکھے گئے ہیں۔

یورپین قانون سازوں نے بھی پچیس نومبر کے حوالے سے اس حقیقت کو اجاگر کرتے ہوئے کہ ستائیس ممالک پر مبنی اس اتحاد میں "ہر تین میں سے ایک عورت اپنی زندگی میں جنسی یا جسمانی تشدد کا شکار ہوتی ہے" بہتر قوانین بنانے اور ان کے نفاذ پر زور دیا ہے.

خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کا کہنا ہے کہ خواتین کو دنیا کے ہر کونے میں جنسی ہراسانی و تشدد کا سامنا ہے۔ دنیا بھر میں حکومتوں کو خواتین کے لئے محفوظ پناہ گاہیں بنانے کے لئے ہر سال بجٹ مختص کرنا چاہئے۔

دنیا کے تقریباً تمام ہی ملکوں میں خواتین کے تحفظ کے حوالے سے قوانین موجود ہیں مگر قانون نافذ کرنے والوں کے متعصبانہ رویوں اور جنسی حساسیت پر مبنی تربیت کی کمی کی وجہ سے خواتین کی اکثریت شکایت درج کرانے آگے نہیں بڑھتی۔

(خبر کا مواد اے پی سے لیا گیا)

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG