رسائی کے لنکس

پاسپورٹ تنازع: کیا واقعی اسرائیل سے متعلق بنگلہ دیش کی پالیسی تبدیل ہوئی؟


فائل فوٹو

بنگلہ دیش کی وزارتِ خارجہ نے واضح کیا ہے کہ ای-پاسپورٹ سے اسرائیل کا نام ہٹانے سے بنگلہ دیش کی اسرائیل کے حوالے سے خارجہ پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل کی وزارتِ خارجہ کے عہدیدار نے بنگلہ دیش کے ای-پاسپورٹ سے اسرائیل کے سفر پر پابندی کے حوالے سے نام ہٹانے کو خوش آئند قرار دیا تھا۔ البتہ یہ ابہام اس وقت پیدا ہوا جب بنگلہ دیش کے ای-پاسپورٹ پر یہ جملہ درج نہیں تھا کہ اس پاسپورٹ کے ذریعے اسرائیل کے علاوہ تمام ممالک کا سفر کیا جا سکتا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ جملہ اس لیے حذف کیا گیا ہے کہ ای-پاسپورٹ کے حوالے سے بین الاقوامی معیار کو برقرار رکھا جا سکے۔ اور اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس سے بنگلہ دیش کی مشرقِ وسطیٰ کے حوالے سے خارجہ پالیسی تبدیل ہو گئی ہے۔

وزارتِ خارجہ نے واضح کیا کہ بنگلہ دیش کے پاسپورٹ کے ذریعے اسرائیل کے سفر پر پابندی اب بھی برقرار ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ بنگلہ دیش کی حکومت ملک کے طویل عرصے سے موجود مؤقف سے منحرف نہیں ہوئی۔ اور بنگلہ دیش کا اس معاملے پر سابقہ مؤقف بدستور برقرار ہے۔

وزارتِ خارجہ کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش کی حکومت مسجدِ اقصیٰ کے احاطے اور غزہ میں اسرائیل کے حالیہ مظالم میں عام شہریوں کے متاثر ہونے کی مذمت کرتی ہے۔

بیان میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ بنگلہ دیش اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق دو ریاستوں کے قیام کو اسرائیل فلسطین تنازع کا حل سمجھتا ہے، جس میں ریاستوں کی سرحدیں 1967 سے قبل تک کی ہوں اور اس میں مشرقی یروشلم فلسطینی ریاست کا دارالحکومت ہو۔

بنگلہ دیش کے 1971 میں پاکستان سے الگ ہونے کے بعد اسرائیل سے سفارتی تعلقات نہیں ہیں جب کہ اس کے پاسپورٹ پر بنگلہ اور انگریزی زبانوں میں یہ تحریر ہوتا تھا کہ ’یہ پاسپورٹ اسرائیل کے سوا تمام ممالک کے لیے سفری دستاویز کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔‘ البتہ، حالیہ دنوں میں ای پاسپورٹ پر اس جملے کو تبدیل کیا گیا ہے اور اس پر لکھا ہوا ہے کہ یہ پاسپورٹ دنیا کے تمام ممالک کے سفر کے لیے قابلِ استعمال سفری دستاویز ہے۔

نئے ای-پاسپورٹ کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر ہونے کے بعد یہ معاملہ میڈیا میں چھایا رہا۔ ان میں سے ایک خبر اسرائیل کے وزارتِ خارجہ کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل گیلاڈ کوہن نے شیئر کرتے ہوئے ایک ٹوئٹ میں لکھا کہ بڑی خبر یہ ہے کہ بنگلہ دیش نے اسرائیل سفر پر عائد پابندی ختم کر دی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ اقدام خوش آئند ہے۔ انہوں نے بنگلہ دیش کی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ مزید آگے آئے اسرائیل سے سفارتی تعلقات بھی بحال کرے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات قائم ہونے کے ثمرات عوام کو ملیں گے۔

اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے ٹوئٹ میں ’اسرائیل مشرق کی طرف دیکھ رہا ہے‘ (#IsraelLooksEast) کا ہیش ٹیگ بھی استعمال کیا۔

بنگلہ دیش کے اخبار ’ڈھاکہ ٹریبون‘ کی رپورٹ کے مطابق وزیرِ خارجہ ڈاکٹر عبد الکلام میمن کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش اسرائیل کو تسلیم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔

بنگلہ دیش کے نشریاتی ادارے ’بی ڈی ٹوئنٹی فور‘ کے مطابق اس حوالے سے بنگلہ دیش کے وزیرِ داخلہ اسد الزمان خان کا کہنا تھا کہ خارجہ پالیسی میں کسی بھی قسم کی تبدیلی نہیں آئی۔

ای-پاسپورٹ کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اس تبدیلی کا مقصد اس بات کو ممکن بنانا تھا کہ بنگلہ دیش کا ای-پاسپورٹ بین الاقوامی معیار کے مطابق ہو۔

وزیرِ داخلہ نے مزید کہا کہ کوئی بھی ملک اب یہ الفاظ استعمال نہیں کر رہا۔ حتیٰ کے عرب ممالک کے پاسپورٹ پر بھی یہ درج نہیں ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان کے پاسپورٹ پر اب بھی یہ جملہ تحریر ہے کہ یہ پاسپورٹ سوائے اسرائیل کے دنیا کے تمام ممالک کے لیے کار آمد ہے۔

اسد الزمان خان نے کہا کہ یہ تبدیلی صرف ای-پاسپورٹ میں کی گئی ہے۔ البتہ، مشین ریڈایبل پاسپورٹ (ایم آر پی) میں کسی بھی قسم کی تبدیلی نہیں کی گئی۔

بنگلہ دیش کے محکمہ امیگریشن اینڈ پاسپورٹ کے ڈائریکٹر جنرل ایوب چوہدری کا کہنا تھا کہ ای-پاسپورٹ پر تبدیلی حکومت کی منظوری سے کی گئی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG