رسائی کے لنکس

'ابو کی تجربہ گاہ' میں بنا پاستہ وِد وائٹ سوس


اپنی ماں کے ہاتھ کا کھانا کسے پسند نہیں ہوتا؟ لیکن میری امی کے ہاتھ کا کھانا تو پورے خاندان میں مشہور ہے۔ مچھلی کا پلاؤ، مٹن قورمہ، چکن کڑاہی، پالک گوشت اور مکس سبزی، یہ چیزیں مہمان ان سے کہہ کر بنواتے ہیں۔

میری بھانجی اور بھانجے کو امی کے ہاتھ کے کھانے کی اتنی عادت ہے کہ اگر کوئی اور کھانا بنا دے تو اسکول سے آ کر پہلے نوالے کے بعد ہی پوچھ لیتے ہیں کہ "آج نانی امی کہیں گئی ہوئی تھیں کیا؟"

میں نے امی سے کھانا پکانا نہیں سیکھا۔ ان کے ہاتھ کا ذائقہ اور مزا تو میں لانے سے رہی، اس لیے وہ مشن شروع کرنے سے پہلے ہی ختم کر دیا۔

میں نے کھانا پکانا اپنے ابو کو دیکھ کر سیکھا ہے۔ جی ہاں، میرے ابو سے بھی فرمائش کر کے مایونیز، میش پوٹیٹوز، ویجیٹیبل سوپ اور ایلفریڈو پاستہ بنوایا جاتا ہے۔

میرے ابو سائنس دان ہیں۔ وہ کھانا بھی سائنسی تجربے کی طرح ہی بناتے ہیں۔ ٹھیک بن گیا تو اچھی بات ہے، اگر نہ بنا تو یہ ضرور سمجھ آ جائے گا کہ آئندہ کیا نہیں کرنا۔

میں اب بھی جب پاکستان جاتی ہوں تو اکثر ابو صبح کے وقت کچن میں ہی ملتے ہیں۔
میں اب بھی جب پاکستان جاتی ہوں تو اکثر ابو صبح کے وقت کچن میں ہی ملتے ہیں۔

اگر وہ کبھی کھانا پکانے پر کوئی کتاب لکھیں تو اس کا نام 'ٹرائل اینڈ ایرر' ہونا چاہیے۔

ابو کے دو بھائی ہیں۔ ایک ان سے بڑے اور ایک چھوٹے۔ سب ہی بہت اچھا کھانا بناتے ہیں۔ تایا کے ہاتھ کی بنی نہاری کا جواب نہیں اور چچا کے ہاتھ کے کباب اب ان کی جان کا عذاب بن چکے ہیں۔

یہ تینوں لڑکے بچپن سے ہی کچن میں بقول مرحوم دادی امی کے ادھم مچا رہے ہیں۔

تینوں بھائی بہت فخر سے بتاتے ہیں کہ ہمارے لڑکپن میں جب ہماری امی کسی رشتے دار سے ملنے جاتیں، تو ہم فوراً باورچی خانے میں گھس کر میٹھی روٹیاں بنانے کی تیاری کرنے لگتے تھے۔

دو بھائی کچن میں مصروف رہتے اور تیسرا سیکیورٹی گارڈ کی ڈیوٹی پر مامور ہوتا تاکہ امی کی آمد پر الرٹ کر دے۔ کبھی امی توقع سے پہلے گھر آ جاتیں تو بیلی ہوئی روٹیاں دراز میں چھپا کر بھاگ جاتے تھے۔ دو، تین دن بعد کسی کام سے امی دراز کھولتیں تو اندر سے کچی روٹیاں ملتیں اور پھر کچھ دیر کے لیے آسمان سر پر اٹھا لیا جاتا۔

فائل فوٹو
فائل فوٹو

میں اب بھی جب پاکستان جاتی ہوں تو اکثر ابو صبح کے وقت کچن میں ہی ملتے ہیں۔ کبھی اسٹول پر بیٹھے ڈونٹس کا آمیزہ تیار کر رہے ہوتے ہیں، کبھی پھٹے ہوئے دودھ سے پنیر نکال کر اس کے کباب تل رہے ہوتے ہیں۔ ایک بار اس میں کارن فلور کی جگہ آئس کریم پاؤڈر بھی استعمال کیا تھا، پھر سمجھ آ گیا کہ آئندہ کیا نہیں کرنا!

میری ہر بار ابو سے ایک فرمائش ضرور ہوتی ہے اور وہ ہے 'پاستہ وِد وائٹ سوس۔'

بنانے کا طریقہ بھی جان لیں۔ ایک پتیلی میں گھی گرم کر کے ایک بڑا چمچ میدے کا ڈالیں اور اسے بھون لیں۔ تھوڑا رنگ بدلے تو تقریباً ڈیڑھ گلاس دودھ ڈال دیں۔

چمچ ہلاتے رہیں، کچھ دیر میں گاڑھا ہو جائے گا۔ پھر دل کھول کر 'چیڈر چیز' کے ٹکڑے ڈال دیں۔

سوس زیادہ گاڑھا ہو جائے تو دودھ کی مقدار بڑھا دیں اور اگر پتلا ہو تو پنیر مزید ڈال دیں۔ نمک اور کالی مرچ حسب ذائقہ۔

پاستہ وِد وائٹ سوس
پاستہ وِد وائٹ سوس

چاہیں تو سوس میں ابلا ہوا چکن، مشروم اور اپنی پسند کی کوئی سبزی بھی شامل کر لیں۔

لگے ہاتھوں پاستہ بھی ابال لیں۔ لیجیے کھانا تیار ہے۔۔۔

آپ شاید اسے چند مرتبہ کھا کر ہی بور ہو جائیں گے۔ لیکن میرے ابو کے ہاتھ کی اس سادہ سی ترکیب کا ذائقہ ہر بار مختلف ہوتا ہے۔ کیوں؟ یہ صرف ابو ہی جانتے ہیں۔ ہم ان کی لیبارٹری میں موجود نہیں ہوتے۔

میں نے بھی یہ ترکیب کئی بار آزمائی ہے۔ ہمیشہ اچھی بنتی ہے مگر ابو کے ہاتھ کا مزا نہیں ہوتا۔ اس مزے کے لیے مجھے 800 روپے کی گروسری اور ڈیڑھ لاکھ کا جہاز کا ایک ٹکٹ خریدنا پڑتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG