رسائی کے لنکس

شمالی وزیرستان: سرحد پار سے ہونے والے مبینہ حملے میں دو سیکیورٹی اہل کار ہلاک


فائل فوٹو

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے کہا ہے کہ شمالی وزیرستان میں سرحد پار افغانستان سے کیے جانے والے حملے میں دو سیکیورٹی اہل کار ہلاک ہو گئے ہیں۔

بدھ کو آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ شمالی وزیرستان کے سرحدی علاقے دوہ توئی میں سرحد پار سے عسکریت پسندوں نے سیکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ کو نشانہ بنایا۔

بیان کے مطابق عسکریت پسندوں نے حملے میں بھاری اور جدید خود کار ہتھیاروں سے چوکی میں موجود اہل کاروں پر فائرنگ کی جس پر حملہ آوروں پر جوابی فائرنگ کی گئی۔ تاہم حکام نے جوابی فائرنگ میں عسکریت پسندوں کو پہنچنے والے نقصانات سے متعلق تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

جنوبی وزیرستان حملہ

مقامی انتظامی عہدیداروں کے مطابق دہشت گردی کے ایک اور واقعے میں عسکریت پسندوں نے تحصیل تیارزہ کے ایک گاؤں میں سیکیورٹی فورسز کی چوکی پر جدید خود کار ہتھیاروں سے حملہ کیا جس کے نتیجے میں تین اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوئے ہیں۔

البتہ، پاکستانی فوج نے ان ہلاکتوں کی تصدیق نہیں کی۔

جنوبی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کی چوکی پر ہونے والے حملے کی ذمے داری کالعدم شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے قبول کی ہے۔

شمالی اور جنوبی وزیرستان میں دہشت گردی کے تازہ ترین واقعات کو افغانستان میں بگڑتی ہوئی صورتِ حال سے جوڑتے ہوئے تجزیہ کار ڈاکٹر خادم حسین کا کہنا ہے کہ افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے دوران عسکریت پسند دوبارہ منظم ہو رہے ہیں۔

اُن کے بقول ان دو واقعات سے معلوم ہوا ہے کہ نہ صرف طالبان منظم ہوئے ہیں بلکہ انہوں نے اپنی کارروائیاں بھی تیز کر دی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر افغانستان میں حالات مزید خراب ہوئے تو اس کے انتہائی منفی اثرات پاکستان پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

ٹانک میں قبائلی رہنما قتل

بدھ کو ہی جنوبی وزیرستان سے ملحقہ ٹانک شہر میں نامعلوم افراد نے گھات لگا کر ایک سرکردہ قبائلی رہنما کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔ واقعے کے بعد موٹر سائیکل سوار حملہ آور فرار ہو گئے۔

منگل کو پشاور سے ملحقہ ضلع خیبر کے قصبے لنڈی کوتل کے قریب ایک گاؤں میں گھر کے اندر بارودی مواد پھٹنے سے ایک ہی خاندان کے پانچ افراد ہلاک اور چھ زخمی بھی ہوئے تھے۔

زخمی ہونے والوں میں بچے بھی شامل ہیں جو پشاور کے ایک اسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔ ڈاکٹرز کے مطابق تین افراد کی حالت تشویش ناک ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں چار بچے اور ایک خاتون بھی شامل ہے۔

ضلع خیبر کے انتظامی عہدے داروں نے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ بارودی مواد شفیق دیوانہ نامی شخص کے گھر کے اندر کباڑ میں موجود تھا جس میں دھماکہ ہوا ہے۔

خیبر پختونخوا کے مختلف قبائلی اضلاع بالخصوص شمالی وزیرستان میں تشدد اور دہشت گردی کے واقعات تواتر سے ہوتے رہتے ہیں۔ رواں ماہ شمالی وزیرستان میں دہشت گردی، تشدد اور گھات لگا کر قتل کے اب تک مجموعی طور پر 15 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG