رسائی کے لنکس

ہوشاب واقعہ: عدالتی حکم پر ایف سی اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج، لواحقین کا دھرنا ختم


ہوشاب میں ہلاک ہونے والے بچوں کے لواحقین احتجاجی ریلی نکال رہے ہیں۔

بلوچستان ہائی کورٹ کے حکم پر ہوشاب میں ہونے والے بچوں کی ہلاکت کے واقعے کا مقدمہ فرنٹیئر کور (ایف سی) کے اہلکاروں کے خلاف لواحقین کی مدعیت میں درج کر لیا گیا ہے جس کے بعد کوئٹہ کے ریڈ زون میں گزشتہ ایک ہفتے سے جاری دھرنا بھی ختم کر دیا گیا ہے۔

چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس عبدالحمید بلوچ پر مشتمل دو رکنی بینچ نے پیر کو ہوشاب واقعے کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کی۔ اس موقع پر عدالت نے واقعے کی تحقیقات کرائم برانچ کے تین سینئر افسران سے کرانے کا حکم دیا۔

عدالت کے حکم پر سی ٹی ڈی کیچ تھانے میں ایف سی اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے جس میں قتل کی دفعہ 302 اور 324 شامل کی گئی ہے۔ تاہم ایف آئی آر میں ملزمان کے نام شامل نہیں ہیں۔

ایف آئی آر میں لواحقین نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اتوار کی صبح ان کے تین بچے گھر کے باہر کھیل رہے تھے کہ بقول ان کے ایف سی اہلکاروں کی جانب سے ایک مارٹر گولہ فائر کیا گیا جو ان کے بچوں کے قریب آ کر زور دار دھماکے سے پھٹ گیا۔

اس واقع میں دو بچے ہلاک اور ایک زخمی ہو گیا تھا۔ بچوں کے لواحقین نے دو روز تک تربت میں لاشیں رکھ کر احتجاج کیا بعدازاں وہ کوئٹہ کے ریڈ زون منتقل ہوئے۔

فرنٹیئر کور کے حکام نے اس واقع میں مارٹر گولے سے ہلاکتوں کے الزام کو مسترد کیا ہے۔

بلوچستان ہائی کورٹ کے احکامات

بلوچستان ہائی کورٹ نے ہوشاب واقعے کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کے دوران غفلت برتنے پر ڈپٹی کمشنر کیچ حسین جان بلوچ، اسسٹنٹ کمشنر عقیل احمد اور نائب تحصیل دار رسول بخش کو معطل کرنے کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے واقعے میں ہلاک ہونے والے بچوں کے لواحقین کو فی الفور معاوضہ کی ادائیگی کے احکامات بھی جاری کیے۔

علاوہ ازیں عدالت نے بچوں کے لواحقین کو بھی ہدایت کی کہ وہ دھرنا ختم کر کے بچوں کی فوری تدفین کو یقینی بنائیں۔

اس سے قبل سپریم کورٹ کے سینئر وکیل اور سینیٹر کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ نے رجسٹرار بلوچستان ہائی کورٹ کو ایک خط لکھا تھا جس میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ ہوشاب واقعہ انسانی المیہ ہے جس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں پر الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

ہائی کورٹ نے کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ کی درخواست کو پٹیشن میں بدلتے ہوئے پیر کو اس پر سماعت کی۔

کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ رجسٹرار ہائی کورٹ کے ذریعے چیف جسٹس کو لکھے گئے خط میں انہوں نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ گزشتہ کئی دنوں سے بچوں کے لواحقین اپنے مطالبات کے حق میں دھرنا دیے بیٹھے ہیں لیکن اس مسئلے کا کوئی حل نہیں نکالا جا رہا۔

ان کے بقول عدالت کے ان کے توجہ دلانے کے لیے لکھے گئے خط کو پٹیشن میں تبدیل کیا جس پر وزارتِ داخلہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حکام کو طلب کیا گیا تھا۔

ہوشاب واقعہ کب پیش آیا؟

مکران ڈویژن کے ضلع کیچ کے علاقے ہوشاب میں 10 اکتوبر کو ایک بم دھماکے میں دو کم سن بہن بھائی ہلاک جب کہ ایک بچہ زخمی ہو گیا تھا۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے بچوں کی ماں درخاتون نے الزام عائد کیا تھا کہ فرنٹریئر کور (ایف سی) اہلکاروں کی جانب سے ان کے گھر کی جانب فائر کیے گئے مارٹر گولے کی زد میں آ کر ان کے دو بچے ہلاک ہوئے۔

دوسری جانب ہوشاب واقعے کے بعد ڈپٹی کمشنر کیچ نے کمشنر مکران ڈویژن کو ایک تحریری رپورٹ پیش کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ ہوشاب میں ہلاک ہونے والے بچوں کی اموات مارٹر گولے کے پھٹنے سے نہیں ہوئی۔

رپورٹ کے مطابق اس واقعے میں بچے ہینڈ گرنیڈ سے ہلاک ہوئے۔ بچے ہینڈ گرنیڈ کو کھلونا سمجھ کر اس کے ساتھ کھیل رہے تھی جس دوران دھماکہ ہوا۔

دوسری جانب فرنٹیئر کور (ایف سی) کے ذرائع نے ہوشاب کے علاقے میں بچوں کی ہلاکت ایف سی کے مارٹر گولے کے باعث ہونے کے الزامات کو مسترد کیا ہے۔

ایف سی ذرائع کے مطابق جائے وقوعہ پر ایسے کوئی شواہد نہیں ملے جس سے یہ ثابت ہو کہ یہ دھماکہ مارٹر گولے سے ہوا ہو۔

صوبائی وزیرِ داخلہ ضیاء اللہ لانگو نے جمعرات کو کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ ہلاک بچوں کے لواحقین کے تمام جائز مطالبات پورے کر دیے گئے ہیں لیکن بدقسمتی سے چند عناصر واقعے کی آڑ میں ذاتی اور سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لیے اداروں کو بدنام کر رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG