رسائی کے لنکس

قومی اسمبلی میں پیش بجٹ پر سوشل میڈیا پر تبصرے


شوکت ترین نے بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کیا۔

پاکستان میں تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت تیسرے سال کا بجٹ پیش کر دیا ہے۔ اس بجٹ میں پیش کی گئی تجاویز پر ایک جانب تجزیے جاری ہیں تو دوسری جانب ایوان کی کارروائی پر بھی تبصرے ہو رہے ہیں۔

قومی اسمبلی میں وزیرِ خزانہ شوکت ترین کی بجٹ تقریر کے دوران شور شرابے پر سوشل میڈیا صارف اور صحافی عدیل راجہ کا کہنا تھا کہ حزبِ اختلاف کے ارکان نعرے کیوں لگا رہے ہیں؟

تو ان کو سوشل میڈیا پر جواب دیتے ہوئے ایک اور صارف خاور گھمن کا کہنا تھا کہ ہر حزبِ اختلاف یہ کام کرتی ہے۔ ایسا کچھ انہونا نہیں ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ کوئی بھی اپوزیشن حکومت کے پیش کردہ بجٹ کی تعریف نہیں کر سکتی اور نہ ہی اسے قبول کرتی ہے۔

سوشل میڈیا پر پاکستان ڈیجیٹل میڈیا ونگ کے جنرل مینیجر عمران غزالی نے ایک ویڈیو شیر کی جس میں ایوان کی راہداری میں عمران خان سے کوئی بہت دور سے سوال کر رہا ہے کہ کیا بجٹ عوام دوست ہوگا تو وزیرِ اعظم عمران خان نے جواب دیا کہ سب خوش ہو جائیں گے۔

صحافی منصور علی خان نے قومی اسمبلی میں خواتین ارکان کے آمنے سامنے آنے کی ایک ویڈیو شیئر کی جس میں حزبِ اختلاف کی ارکان احتجاج کرتی ہوئی نظر آ رہی ہیں۔

ایسے میں کچھ حکومتی خواتین ارکان حزبِ اختلاف کی احتجاج کرنے والے خواتین سے پوسٹرز چھیننے کی کوشش کرتی نظر آتی ہیں۔

ایک جانب قومی اسمبلی میں حزبِ اختلاف کے ارکان احتجاج کر رہے تھے تو دوسری جانب بعض حکومتی ارکان نے اجلاس میں شرکت ہی نہیں کی۔

کراچی سے تحریکِ انصاف کے رکن قومی اسمبلی عامر لیاقت حسین نے سوشل میڈیا پر ایک بیان میں پہلے ہی اعلان کر دیا تھا کہ وہ بجٹ اجلاس میں شریک نہیں ہوں گے۔

عامر لیاقت حسین کا کہنا تھا کہ ان کے ساتھ ساتھ کراچی سے رکن قومی اسمبلی شکور شاد میں اجلاس کا حصہ نہیں ہو گے۔

اسی طرح سوشل میڈیا پر قومی اسمبلی میں حزبِ اختلاف کے احتجاج کی ویڈیوز میں ارکان اسمبلی کو حکومت کے خلاف پوسٹرز اٹھائے دیکھا جا سکتا ہے۔

بعض ویڈیوز میں ارکان حکومت کے ایک روز قبل منظور کیے گئے بلوں پر بھی نعرے بازی کر رہے تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG