رسائی کے لنکس

شارجہ کا یادگار چھکا، جب چیتن شرما ولن اور میانداد ہمیشہ کے لیے ہیرو بن گئے


جاوید میانداد کے اس چھکے کے بعد شارجہ میں کھیلے کئی میچز میں پاکستان نے بھارت کو شکست دی۔

آخری گیند پر پاکستان کو فتح کے لیے چار رنز درکار، بھارت اور ٹرافی کے درمیان صرف ایک وکٹ کا فاصلہ اور یہ چھکا۔ پاکستان نے عالمی چیمپئن بھارت کو شکست دے کر ٹرافی اپنے نام کر لی۔

یہ نہ تو کسی بھارتی فلم کا منظر ہے اور نہ ہی کسی کے خواب کا خلاصہ، آج سے ٹھیک 35 برس قبل ون ڈے کرکٹ کی تاریخ کا سب سے مشہور چھکا جاوید میانداد کے بلے سے لگا جس نے بھارتی فاسٹ بالر چیتن شرما کا کریئر پروان چڑھنے سے پہلے ہی ختم کر دیا۔

شارجہ کرکٹ اسٹیڈیم میں 18 اپریل 1986 کو حاصل کی گئی یہ کامیابی پاکستان کی تاریخ کی نہ صرف کسی بھی ون ڈے ٹورنامنٹ میں پہلی فتح تھی بلکہ اس کے بعد ایک ایسا وقت آیا جب پاکستان کو شارجہ میں ہرانا مشکل ہی نہیں ناممکن سا ہو گیا تھا۔

اب نہ تو شارجہ میں کرکٹ ہوتی ہے اور نہ ہی پاکستان اور بھارت کی ٹیموں کے درمیان زیادہ میچز ہوتے ہیں۔ لیکن 35 سال گزر جانے کے باوجود اس چھکے کی گونج آج بھی سنائی دیتی ہے۔

آخری گیند پر باؤنڈری تک نوبت آئی ہی کیوں؟

سن 1986 میں کھیلے گئے پہلے آسٹرل ایشیا کپ میں دنیا کی پانچ بہترین ٹیموں نے حصہ لیا۔ براعظم آسٹریلیا سے آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ جب کہ براعظم ایشیا سے پاکستان، بھارت اور سری لنکا کی ٹیمیں شامل تھیں۔ فائنل روایتی حریف بھارت اور پاکستان کے درمیان تھا لیکن اُس وقت کی پاکستان اور بھارت کی ٹیموں میں اور آج کی ٹیموں میں زمین آسمان کا فرق تھا۔

ایک طرف تھی کپل دیو کی ورلڈ چیمپئن ٹیم جس نے تین سال قبل ورلڈ کپ فائنل میں ویسٹ انڈیز کو شکست دی تھی جب کہ 1985 میں آسٹریلیا میں کھیلی گئی 'ورلڈ چیمپئن شپ آف کرکٹ' کے فائنل میں پاکستان کو ہرا کر اپنی بالادستی قائم کی تھی۔

دوسری جانب تھی عمران خان کی پاکستان ٹیم جس میں کھلاڑی توسب ہی اچھے تھے مگر نہ تو وہ کبھی کسی ٹورنامنٹ کا فائنل جیت سکے تھے اور نہ ہی شارجہ ان کا پسندیدہ گراؤنڈ تھا۔ ایک سال قبل یعنی 1985 میں اسی گراؤنڈ پر عمران خان نے صرف 14 رنز دے کر بھارت کے چھ کھلاڑی آؤٹ کیے تھے۔ لیکن پاکستان وہ میچ بھی ہار گیا تھا۔

آسٹرل ایشیا کپ کے فائنل میں بھی بھارت کا پلڑا آغاز سے ہی بھاری تھا۔ پاکستان نے ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ تو کیا لیکن بھارتی اوپنرز سنیل گواسکر اور سری کانتھ کے 117 رنز کے آغاز اور پھر دوسری وکٹ کی شراکت میں سنیل گواسکر اور وینگ سارکر کے 99 رنز نے عمران خان الیون کے حوصلے پست کر دیے۔

وسیم اکرم کی تین، اور عمران خان کی دو وکٹوں کی وجہ سے پاکستانی بالرز نے کم بیک تو خوب کیا لیکن بھارتی ٹیم 50 اوورز میں سات وکٹوں کے نقصان پر 245 رنز بنانے میں کامیاب ہو گئی جو نہ صرف اس وقت ون ڈے کرکٹ کا ایک مشکل ہدف تھا بلکہ اس ایونٹ میں بھی کسی ٹیم نے اتنے رنز نہیں بنائے تھے۔

'بھارت کی جیت اور پاکستان کی شکست کے درمیان صرف 'جاوید' کھڑا تھا'

جواب میں پاکستان کرکٹ ٹیم کا آغاز مایوس کن رہا، اوپننگ بلے باز مدثر نذر پانچ اور ون ڈاؤن بیٹسمین رمیز راجہ 10 رنز بنا کر واپس پویلین لوٹ گئے۔ محسن خان نے 36 رنز بنا کر ایک اینڈ سنبھالے رکھا لیکن ان کے آؤٹ ہوتے ہی پاکستان ٹیم مشکلات میں گھر گئی۔

ایسے میں پہلے سلیم ملک اور پھر عبدالقادر نے نائب کپتان جاوید میانداد کا ساتھ دیا۔ سلیم ملک 21 رنز بناکر آؤٹ ہوئے جب کہ عبدالقادر نے جارحانہ اننگز کھیلتے ہوئے 39 گیندوں پر 34 رنز اسکور کیے۔ جاوید میانداد نے عبدالقادر کے ساتھ 71 قیمتی رنز جوڑ کر پاکستان کو فتح کی جانب گامزن کیا۔

لیکن ان دونوں بلے بازوں کے آؤٹ ہونے کے بعد ایک اینڈ سے مسلسل وکٹیں گرتی رہیں اور پاکستان کو فتح دور اور شکست قریب نظر آنے لگی۔ نوجوان بھارتی بالر چیتن شرما نے میچ میں مدثر نذر اور منظور الہی کو آؤٹ کرکے کپتان کا اعتماد حاصل کیا اور اسی وجہ سے کپل دیو نے انہیں آخری اوور دے کر ان پر بھاری ذمے داری ڈال دی۔

آخری اوور کے آغاز میں پاکستان کو فتح کے لیے 11 رنز درکار تھے اور اس کی تین وکٹیں باقی تھیں۔ پہلی گیند پر جاوید میانداد نے دو رنز لینے کی کوشش کی لیکن وسیم اکرم دوسرا رن لیتے ہوئے رن آؤٹ ہو گئے۔ دوسری گیند پر جاوید میانداد نے شان دار چوکا تو رسید کیا لیکن تیسری گیند پر صرف ایک ہی رنز بنا سکے۔

پاکستان کو آخری تین گیندوں پر پانچ رنز کی ضرورت تھی لیکن وکٹ کیپر ذوالقرنین بال کو باؤنڈری کے باہر پھینکنے کے چکر میں چیتن شرما کا تیسرا شکار بن گئے۔ ایسے میں توصیف احمد نے پانچویں گیند پر آ کر ایک مشکل سنگل لیا اور جاوید میانداد واپس بیٹنگ اینڈ پر آ گئے۔

آخری گیند پر پاکستان کو چار رنز درکار تھے مزید ایک وکٹ بھارت کو ایک اور ٹرافی دلا دیتی اور پاکستان کرکٹ شائقین کو مزید مایوسی کی طرف دھکیل دیتی۔ لیکن جاوید میانداد اس دن کسی اور ہی موڈ میں تھے۔ روایتی حریف بھارت سے انہیں ہارنا نہیں تھا اور چیتن شرما سے وہ ڈرتے نہیں تھے۔ انہوں نے بھارتی پیسر کی گیند کا انتظار تحمل سے کیا اور فل ٹاس گیند کو پُل کرکے لیگ سائیڈ پر باؤنڈری سے باہر پھینک دیا۔

اس چھکے نے پاکستان کو نہ صرف میچ میں فتح دلائی بلکہ آسٹرل ایشیا کپ کا چیمپئن بنا دیا اور پاکستان کو فتوحات کی راہ پر گامزن کر دیا۔ بھارتی کرکٹ شائقین کے سامنے چیتن شرما ولن اور پاکستانی شائقین کے سامنے جاوید میانداد ہمیشہ کے لیے ہیرو بن گئے۔

'یہ کامیابی ورلڈ کپ 1992 کے ہم پلہ ہے'

نام ور اسپورٹس صحافی عبدالماجد بھٹی نے لاتعداد پاک بھارت مقابلے نہ صرف دیکھے بلکہ کور بھی کیے۔ شارجہ کے چھکے کے بارے میں وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جب بھی پاکستان کی بڑی کامیابیوں کی بات ہو گی،'میانداد کا چھکا' فہرست میں پہلے تین نمبروں پر ہو گا۔

اُن کے بقول "ہم پاکستانیوں کے لیے شارجہ والے چھکے کی اہمیت اس لیے زیادہ تھی کیوں کہ میچ بھارت کے خلاف تھا جو آخری بال تک گیا، وہ چھکا آج 35 برس گزر جانے کے باوجود بھی لوگوں کو ویسے ہی یاد ہے جیسے کل ہی کی بات ہو۔"

ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ کامیابی ورلڈ کپ سے بڑی تو نہیں تھی، لیکن اس کے ہم پلہ ضرور تھی۔

عبدالماجد بھٹی کہتے ہیں کہ "پہلے آسٹرل ایشیا کپ اور 1992 ورلڈ کپ میں مشترک بات جاوید میانداد تھے دونوں میں ان کا اہم کردار تھا اور دونوں میں کپتان عمران خان تھے۔ چوں کہ ورلڈ کپ ایک گلوبل ایونٹ ہوتا ہے اور پاکستان نے اس میں ایک ہی بار کامیابی حاصل کی ہے، اس لیے اس کا نمبر پہلے آئے گا۔ شارجہ والا چھکا اس سے بڑا نہیں تو کم از کم ہم پلہ تو ہے۔"

انہوں نے مزید بتایا کہ انگلینڈ میں ان کی ملاقات ایک ایسے آدمی سے ہوئی تھی جس کے گاؤں میں ایک شخص کی انگلی جاوید میانداد کے چھکے کی وجہ سے کٹ گئی تھی۔

اُن کے بقول "مانچسٹر کے مقام پر میری اور جاوید میانداد کے بھانجے فیصل اقبال کی ملاقات انڈین گجرات سے تعلق رکھنے والے ایک شخص سے ہوئی جس کے گاؤں میں ایک آدمی کی انگلی اس چھکے کی وجہ سے کٹ گئی، جیسے ہی جاوید میانداد نے چھکا مارا، اس آدمی نے خوشی کے مارے چھلانگ ماری اور اس کا ہاتھ پنکھے میں آ گیا۔"

جاوید میانداد (فائل فوٹو)
جاوید میانداد (فائل فوٹو)

'وہ ون ڈے کی شان دار اننگز میں سے ایک تھی'

سینئر اسپورٹس صحافی شاہد ہاشمی کا کہنا تھا کہ پاکستان کی تاریخ میں شارجہ والی جیت ایک بڑی کامیابی ہے اور اس کی سب سے بڑی وجہ روایتی حریف بھارت ہے۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس فائنل میں جاوید میانداد نے ون ڈے کی تاریخ کی بڑی اننگز کھیلی۔

شاہد ہاشمی کے بقول "آپ جب بھی شارجہ گراؤنڈ جائیں تو ایسا لگتا ہے کہ جیسے سامنے سے چیتن شرما بالنگ کرنے آ رہا ہے اور کریز پر میانداد موجود ہیں۔ وہ شور، وہ افتخار احمد کی کمنٹری، ایسا لگتا ہے کہ آج بھی شارجہ کرکٹ اسٹیڈیم کے درو دیوار میں گونج رہی ہے۔ بھارت کو آج بھی وہ ہار ہضم نہیں ہوتی کیوں کہ اس کے بعد پاکستان نے شارجہ میں کئی بار بھارت کو زیر کیا۔"

'پاکستان نے ہاری ہوئی بازی اپنے نام کی'

سن 2007 میں بھارت کے خلاف ٹیسٹ ڈیبیو کرنے والے یاسر عرفات بھی اس میچ کو پاکستان کی شان دار کامیابیوں میں سے ایک قرار دیتے ہیں۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے اُں کا کہنا تھا کہ کسی بھی کھیل میں بھارت کے خلاف جیت کا مزہ ہی الگ ہوتا ہے اور یہ تو پھر بھی کرکٹ میچ تھا۔

اُن کے بقول "چاہے کبڈی ہو ہاکی ہو یا لوڈو ہو، اس جیت کی اہمیت ہی بڑھ جاتی ہے۔ جاوید میانداد کا چھکا تو ویسے بھی اس لیے زیادہ اہم تھا کیوں کہ شارجہ کے مقام پر بھارتی اور پاکستانی شائقین دونوں ہی بڑی تعداد میں آتے تھے۔"

یاسر عرفات کہتے ہیں کہ "جاوید میانداد کی میچ وننگ اننگز کی وجہ سے پاکستان نے ایک ہاری ہوئی بازی جیت لی۔ اس کے بعد عبدالقادر نے ویسٹ انڈیز، اور آصف مجتبیٰ نے آسٹریلیا کے خلاف بھی ون ڈے انٹرنیشنل میچز میں چھکے مارے لیکن شارجہ والے چھکے کی بات ہی کچھ اور تھی۔"

آسٹر ل ایشیا کپ سے پہلے کئی کھلاڑیوں نے چھکے تو مارے لیکن جو شہرت جاوید میانداد کے اس چھکے کو ملی وہ کسی اور کے حصے میں نہیں آئی۔ اس کے بعد جاوید میانداد کو عزت، شہرت اور دولت بھی خوب ملی۔

یہاں تک کے پاکستان ٹیلی ویژن کے پروگرام 'شوٹائم' میں بشریٰ انصاری نے گلوکارہ سلمیٰ آغا کی پیروڈی کرتے ہوئے 'ایک چھکے کے جاوید کو' گا کر تہلکہ مچا دیا تھا جب کہ آف اسپنر توصیف احمد کو اس ایک رن کی وجہ سے جو محبت ملی وہ آج بھی قائم ہے۔

میچ کے ختم ہوتے ہی شائقین گراؤنڈ میں داخل ہو گئے جن کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے ڈنڈوں کا استعمال کیا تھا۔ توصیف احمد اور ذاکر خان کے ساتھ ساتھ علی انور جعفری جو شارجہ کرکٹ اسٹیڈیم کے جوائنٹ سیکریٹری تھے۔ مقامی پولیس کے ڈنڈے کی زد میں آئے، لیکن ان کا کہنا تھا کہ میچ کی کامیابی کی وجہ سے انہیں اور کچھ یاد نہیں۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شارجہ کا چھکا نہ صرف پاکستان کرکٹ بلکہ ون ڈے کرکٹ کا ٹرننگ پوائنٹ تھا۔

اُن کے بقول اس میچ سے قبل ون ڈے کرکٹ کو 'جارح مزاج' اور 'پاور ہٹرز' کی کرکٹ سمجھا جاتا تھا۔ لیکن جاوید میانداد کی اننگز نے لوگوں کے ذہنوں میں موجود اس تصور کو تبدیل کر دیا۔

علی انور جعفری کہتے ہیں کہ "مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ آخری گیند سے قبل بھارت کا پلڑا بھاری تھا، پاکستانی شائقین چھکے سے قبل سر جھکائے بیٹھے تھے اور اسٹیڈیم بھارتی شائقین کے نعروں سے گونج رہا تھا لیکن چھکے نے تصویر کا رخ بدل دیا تھا۔"

اس کامیابی کے بعد عمران خان کی قیادت میں ٹیم کے زیادہ تر کھلاڑیوں نے اگلے ہی سال دورۂ بھارت پر بنگلور کے مقام پر ٹیسٹ اور کلکتہ کے مقام پر ون ڈے میچ میں پاکستان کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔ 1989 میں بھارت میں ون ڈے ٹورنامنٹ نہرو کپ جیتا اور پھر شارجہ میں لاتعداد میچز میں بھارت کو ہرانے کے بعد 1992 کا ورلڈ کپ بھی اپنے نام کیا۔

جاوید میانداد نے پہلے آسٹرل ایشیا کپ اور پھر ورلڈ کپ میں شان دار کھیل پیش کیا جب کہ عمران خان نے بہترین انداز میں نوجوانوں پر مشتمل ٹیم کے ساتھ دونوں ایونٹس اپنے نام کیے۔ لیکن اگر شارجہ کا چھکا نہ ہوتا، تو نہ جانے کیا ہوتا۔ چیتن شرما بھارت کا بہترین بالر ہوتا اور شارجہ کا میدان پاکستان کرکٹ ٹیم کے لیے تلخ یادوں کا سبب ہوتا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG