رسائی کے لنکس

کیا پاکستان برآمدات میں خطے کے دیگر ممالک کو پیچھے چھوڑنے والا ہے؟


فائل فوٹو

وزیرِ اعظم پاکستان عمران خان کے مشیر برائے تجارت اور سرمایہ کاری عبد الرزاق داؤد نے کہا ہے کہ مالی سال 21-2020 کے اختتام پر پاکستان کی برآمدات تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہیں۔

عبد الرزاق داؤد کا یکم جولائی کو کیے گئے ٹوئٹ میں کہنا تھا کہ گزشتہ مالی سال کے اختتام پر پاکستان نے مجموعی طور پر 25.3 ارب ڈالرز کی اشیا دیگر ممالک کو فروخت کی تھیں۔ اس سے پہلے پاکستان نے سات سال قبل 14-2013 میں 25.1 ارب ڈالرز کی اشیا دیگر ممالک کو برآمد کی تھیں۔

مشیر تجارت نے مزید بتایا کہ مالی سال کے آخری ماہ یعنی جون 2021 میں پاکستان نے 2.7 ارب ڈالرز کی اشیا برآمد کیں جو کسی بھی ماہ میں سب سے زیادہ برآمدات کا ریکارڈ ہے۔

پاکستان کی برآمدات کا 60 فی صد ٹیکسٹائل مصنوعات پر مشتمل

واضح رہے کہ پاکستان کی برآمدات کا 60 فی صد کے لگ بھگ حصہ ٹیکسٹائل کی مصنوعات پر مشتمل ہوتا ہے۔

اس شعبے سے جڑے تاجروں کا کہنا ہے کہ بعض بین الاقوامی حالات کی وجہ سے پاکستان کے ٹیکسٹائل سیکٹر کی مصنوعات کی فروخت میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

ٹیکسٹائل اور دیگر مصنوعات کے بڑے تاجر اور بزنس مین محمد بابر خان نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اس میں سب سے اہم کرونا وبا کے دوران بھارت اور بنگلہ دیش کے مقابلے میں پاکستان میں صورتآ حال نسبتاً بہتر ہونا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش اور بھارت میں کرونا کی صورتِ حال خراب ہونے کی وجہ سے یہ ممالک کئی آرڈرز وقت پر پورے نہیں کر سکے جس کی وجہ سے پاکستان کو فوقیت ملی۔

انہوں نے مزید کہا کہ دنیا بھر میں کپڑوں کی مانگ بڑھ گئی ہے جس کا سب سے زیادہ فائدہ پاکستان کی ٹیکسٹائل میں نٹ ویئر کی صنعت کو ہوا ہے۔ اس میں مزید اضافے کے بھی امکانات موجود ہیں۔ جب کہ بقول ان کے دوسری جانب پاکستان کے بارے میں عالمی تشخص میں بہتری کی وجہ سے بھی خریداروں کی پاکستانی مصنوعات میں دلچسپی بڑھی ہے۔

اس صنعت سے جڑے دیگر افراد کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے ٹیکس ریفنڈ کرنے کا دورانیہ کم دیکھنے میں آیا ہے جس سے تاجروں کا اعتماد بڑھا ہے۔ جب کہ کیش لکویڈیٹی کے مسائل بھی کسی حد تک حل ہوئے ہیں جس سے مدد ملی ہے۔

مبصرین کے مطابق پاکستان کی برآمدات بڑھانے میں اب بھی بہت زیادہ استعداد موجود ہے جسے استعمال میں نہیں لایا جا رہا۔ کیوں کہ توانائی کا بحران اور انفراسٹرکچر کی کمی اس میں سے سب سے بڑی رکاوٹیں ہیں جس کی وجہ سے پاکستان کی مصنوعات اب بھی بنگلہ دیش کی مصنوعات سے زیادہ مہنگی ہیں اور یوں عالمی منڈی میں پاکستان کی اشیا کی مسابقت کم ہو جاتی ہے۔

'بہتری کے لیے اب بھی بہت کچھ کرنا باقی ہے'

معروف کاروباری شخصیت زبیر موتی والا کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو قرضوں کی سہولت دیے جانے سے ٹیکسٹائل سیکٹر میں ڈھائی ارب ڈالرز کی مشینری خریدی گئی۔ پیداوار بڑھی اور یوں کچھ بہتری دیکھنے میں ضرور آئی ہے البتہ ابھی بہتری کے لیے بہت کچھ مزید کرنا باقی ہے۔

زبیر موتی والا کا کہنا تھا کہ پاکستان ہر ایک ملین روئی کی گھانٹوں سے1.37 ارب ڈالر کماتا ہے جب کہ بھارت 1.87 اور بنگلہ دیش چھ ارب ڈالر کماتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک توانائی کا بحران حل نہیں ہوگا اس وقت تک ٹیکسٹائل کی برآمدات میں تسلسل سے اضافہ نہیں ہو سکتا اور توانائی کا ٹیرف زیادہ ہونے کی وجہ سے ہماری مصنوعات دیگر ممالک سے مہنگی ہوتی ہیں جس کی وجہ سےخریدار کو رغبت کم ملتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو ٹیکسٹائل کی مصنوعات سے ہر قسم کے ٹیکس کو ہٹا کر اسے زیرو ریٹڈ کرنا چاہیے۔ جب کہ ریفنڈز کے نظام کو مکمل کمپیوٹرائزڈ کرنے کی ضرورت ہے۔ تاکہ تاجروں کو فوری ریفنڈ ملنے سے اعتماد پیدا ہو۔

انہوں نے کہا کہ بیرون ملک پاکستان کے قونصل خانوں میں تعینات کمرشل اتاشیوں کو ایکسپورٹ ٹارگٹس دینے ہوں گے اور اسے پورا کرنے پر انعام اور پورا نہ کرنے پر ہٹایا جائے۔

پاکستان ٹیکسٹائل کے علاوہ کیا مصنوعات برآمد کرتا ہے؟

ایکسپورٹرز کے مطابق پاکستان ٹیکسٹائل کے علاوہ چاول، پھل، سرجیکل آلات، چمڑے سے بنی ہوئی اشیا، فرنیچر، اسپورٹس کا سامان اور بڑے پیمانے پر سمندری غذائی اشیا بھی دنیا کے دیگر ممالک کو بیچتا ہے۔ جب کہ اس کے بڑے خریداروں میں امریکہ، چین، برطانیہ اور جرمنی کے علاوہ پڑوسی ملک افغانستان اور خلیجی ممالک شامل ہیں۔

رواں سال انفارمیشن ٹیکنالوجی سے تیار اشیا کی برآمدات میں بھی خاطر خواہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو برآمدات بڑھانے کے لیے روایتی اشیا کے بجائے اب غیر روایتی مصنوعات اور ٹیکنالوجی پر مبنی اشیا کی جانب بھی دیکھنا ضروری ہو گیا ہے۔ کیوں کہ اب بھی اس کی برآمدات کا حجم خطے کے دیگر ترقی پذیر ممالک جیسے بھارت، بنگلہ دیش اور ویت نام سے کہیں کم ہے۔

'تربیت یافتہ افرادی قوت اور تحقیق ہی برآمدات بڑھانے کا واحد ذریعہ ہیں'

معروف معاشی تجزیہ کار اور ‘ایلفا بیٹا کور’ کے سربراہ خرم شہزاد کا کہنا ہے کہ مسائل کے حل تک برآمدات میں اضافے کی باتیں حقیقت کا روپ نہیں دھار سکتیں۔

پاکستان ٹیکسٹائل کے علاوہ چاول، پھل، سرجیکل آلات، چمڑے سے بنی ہوئی اشیاء، فرنیچر، اسپورٹس کا سامان اور بڑے پیمانے پر سمندری غذائی اشیاء بھی دنیا کے دیگر ممالک کو بیچتا ہے۔ (فائل فوٹو)
پاکستان ٹیکسٹائل کے علاوہ چاول، پھل، سرجیکل آلات، چمڑے سے بنی ہوئی اشیاء، فرنیچر، اسپورٹس کا سامان اور بڑے پیمانے پر سمندری غذائی اشیاء بھی دنیا کے دیگر ممالک کو بیچتا ہے۔ (فائل فوٹو)

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک کو توانائی کی ترسیلات کے انفراسٹرکچر میں موجود خامیوں اور گردشی قرضوں کے ایک بڑے چیلنج کا سامنا ہے۔ اسے حل کرنا ضروری ہے۔

ان کے بقول اسٹیٹ بینک کی اپنی رپورٹ کے مطابق توانائی کے گردشی قرضے ہمارے جی ڈی پی کی شرح میں دو فی صد کمی لے آتی ہے۔ اسی طرح ہمیں افرادی قوت کو اعلیٰ تربیت فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔

خرم شہزاد کے مطابق پاکستان کو اب ٹیکسٹائل کے علاوہ دیگر شعبوں کی جانب بھی توجہ دینی ہو گی۔ فارماسیوٹیکل، چمڑے، کیمیکلز، فوڈ ایکسپورٹ، لائیو اسٹاک اور زراعت جیسے میدانوں میں ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ پر خرچہ کرنا ہو گا۔ انٹرنیٹ تک باآسانی رسائی کو ممکن بنانے کی ضرورت ہے اور اشیا میں ویلیو ایڈیشن کرنا ہو گی۔

ان کا کہنا تھا کہ چھوٹے پیمانے کی صنعتوں کو سپورٹ کرنے کی بھی ضرورت ہے کیوں کہ ان میں بھی برآمد کرنے کی استعداد بہت ہے۔ اس کے لیے انسانی وسائل، انفراسٹرکچر اور مصنوعات کی ترقی میں ہمیں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ہم چار پانچ سال تک مسلسل اس میں آگے بڑھنے میں کامیاب ہوئے تو ہی ہم خطے کے دیگر ممالک کے ہم پلہ اپنی برآمدات رکھنے کے قابل ہو سکیں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG