رسائی کے لنکس

سین ہوزے فائرنگ: 'مبینہ حملہ آور نوکری سے بیزار تھا'


سین ہوزے کے ٹرین یارڈ میں فائرنگ سے نو افراد کے قتل کا واقعہ پیش آیا، فوٹو اے پی

امریکی ریاست کیلی فورنیا کے علاقے سین ہوزے میں بدھ کے روز ریلوے کی ایک ورکشاب میں فائرنگ کر کے اپنے 9 ساتھیوں کو ہلاک کرنے والے مبینہ ملزم نے 2016 میں فلپائن سے واپسی پر امریکہ کے محکمۂ کسٹمز اینڈ امیگریشن کے اہلکاروں کو بتایا تھا کہ وہ اپنی ملازمت کی جگہ سے نفرت کرتا ہے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق، یہ بات بائیڈن انتظامیہ کے ایک عہدیدار نے بتائی ہے۔

رپورٹ کے مطابق سانٹا کلارا کے پولیس شیرف نے بتایا ہے کہ مبینہ ملزم کا ہدف بظاہر چند مخصوص افراد تھے۔ کیونکہ اس نے کم از کم ایک شخص سے کہا تھا کہ "میں تم پر گولی نہیں چلاؤں گا۔"

واقعے کے وقت ریل یارڈ کی دو عمارتوں میں کم از کم ایک سو افراد موجود تھے۔ تاہم دونوں عمارتوں میں سیکیورٹی کیمرے نہ ہونے کی وجہ سے پولیس کو واقعے کی فوٹیج دستیاب نہیں ہو سکی۔

پولیس کے مطابق پہلی نائن ون ون کال وصول ہونے کے بعد انہیں ملزم تک پہنچنے میں چھ منٹ لگ گئے۔

پولیس کو فائرنگ کے مقام پر پانچ افراد کی لاشیں ایک اور دو کی دوسری عمارت سے ملیں۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق،دو پولیس اہلکاروں نے حملہ آور کی شناخت 57 سالہ سیموئیل کیسیڈی کے طور پر کی ہے، جو اسی ریل یارڈ میں کم از کم 2012 سے ملازم تھا۔ پولیس اہلکاروں کے مطابق،ممکنہ طور پر واقعہ ایک میٹنگ کے دوران پیش آیا، مگر فائرنگ کی وجہ کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔

پولیس کے مطابق، حملہ آور کی معمولی مجرمانہ ہسٹری بھی تھی۔ اس کی سابقہ بیوی نے ایسوسی ایٹڈ پریس سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ کئی سال پہلے بھی اپنے ساتھیوں کو مار دینے کی بات کرتا تھا، اور کام سے اکثر ناخوش گھر واپس آتا تھا۔ لیکن سسیلیا نیلمز، اس کی سابق بیوی کے بقول، "مجھے کبھی اس کی بات پر یقین نہیں تھا، اور اب تک ایسا کبھی ہوا بھی نہیں تھا"۔

علاقے کے پولیس شیرف کے مطابق، اہلکاروں کو حملہ آور کے گھر سے بارودی مواد بھی ملا۔ تفتیشی اہلکاروں کا خیال ہے کہ اس بارودی مواد کو اڑانے کے لئے حملہ آور نے ٹائمر یا سلو برن ڈیوائس تیار رکھی تھی تاکہ جس وقت وہ ٹرین یارڈ میں فائرنگ کرے، اسی وقت مکان میں آگ لگ جائے۔ تفتیش کاروں کے مطابق، اس کے مکان میں اسی وقت آگ لگی، جب ریل یارڈ سے نائن ون ون کو مدد کے لئے پہلا فون کیا گیا تھا ۔

بدھ کو سانٹا کلارا کے شیرف آفس کے ترجمان رسل ڈیوس نے نامہ نگاروں کو بتایا تھا کہ 911 کو اطلاع ملنے پر جب وہ موقع پر پہنچے، مسلح کارکن فائرنگ سے اپنے کئی ساتھیوں کو ہلاک اور زخمی کر چکا تھا اور اس نے پولیس کو دیکھتے ہی خود کو بھی گولی مار کر ہلاک کر لیا۔

سین ہوزے میں واقع ویلی ٹرانسپورٹیشن اتھارٹی کے قریب ریل گاڑیوں کی ورکشاپ میں مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے چھ بجے کے قریب فائرنگ کی اطلاع ملی جس پر پولیس نے فوری کارروائی کی۔

لاس اینجلس ٹائمز کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حملہ آور نے اپنی صبح کی شفٹ میں اپنے زیادہ تر ساتھیوں کا خاتمہ کر دیا ہے۔ یہ سال 2021 میں امریکہ بھر میں بڑے پیمانے پر شوٹنگ کا سب سے بڑا واقعہ ہے۔

تفتیش کار ابھی تک یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اس حملے کے محرکات کیا تھے اور کس چیز نے اسے اتنا بڑا قدم اٹھانے پر مجبور کیا۔

تفتیش کاروں نے بتایا ہے کہ کیسڈی نے صرف اپنے ساتھیوں کو نشانہ بنایا اور پولیس پر کوئی فائر نہیں کیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ فائرنگ کرنے والے شخص نے پہلے اپنے گھر کو آگ بھی لگائی۔ زخمی افراد میں سے بعض کی حالت تشویشناک ہے۔

فائرنگ کے مقام پر ایمبولنسز موجود ہیں۔ 26 مئی 2021
فائرنگ کے مقام پر ایمبولنسز موجود ہیں۔ 26 مئی 2021

چیئرمین وی ٹی اے بورڈ گلین ہینڈرکس نے ایک نیوزکانفرنس میں اسے ایک ہولناک واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی ہمدریاں اور دعائیں وی ٹی اے کے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہیں۔

سین ہوزے کے میئر سیم لکارڈو نے اس واقعہ کو ایک تاریک لمحے کا نام دیا۔

وائٹ ہاؤس کی ایک نیوز بریفنگ میں ڈپٹی پریس سیکرٹری کیرین جین پیری نے کہا کہ وائٹ ہاؤس صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہے اور ہر ممکن مدد کی پیشکش کر رہا ہے۔

واشنگٹن میں صدر بائیڈن نے کانگریس پر زور دیا ہے کہ گن وائلنس کے واقعات کی روک تھام کے لئے قانون سازی پر کام تیز کیا جائے۔

انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ "گولی سے جانے والی ہر جان ہماری قوم کی روح میں چھید کر دیتی ہے۔ ہمیں مزید کام کرنا ہوگا اور ہم ایسا کر سکتے ہیں"

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس اور امریکی روزنامے یو ایس اے ٹوڈے نے نارتھ ایسٹرن یونیوسٹی کے تعاون سے پچھلے پندرہ سال کے دوران امریکہ میں پیش آنے والی ماس شوٹنگز کے واقعات کے اعدادو شمار جمع کئے ہیں، اور ان سے پتہ چلتا ہے کہ سین ہوزے میں پیش آنے والا واقعہ 2021 کے دوران امریکہ میں ماس شوٹنگ کا 15واں واقعہ ہے۔

2021کے دوران فائرنگ کے ایسے واقعات میں 86 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ 2020 کے دوران یہ تعداد 106 تھی۔

ریاست کیلی فورنیا کا شہر سین ہوزے تقریباً دس لاکھ آبادی پر مشتمل ہے، جو سان فرانسسکو کے ساحلی علاقے میں واقع ہے۔ اسے ٹیکنالوجی کی ایجادات و اختراعات اور بڑی کمپنیوں کے عالمی مرکز کا ایک اہم شہر سمجھا جاتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG