رسائی کے لنکس

کیڑے مکوڑوں کی آبادی گزشتہ 30 سال میں 27 فی صد کم ہوئی: رپورٹ


(فائل فوٹو)

ایک تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ دنیا بھر میں گزشتہ 30 سالوں کے دوران کیڑے مکوڑوں کی آبادی میں لگ بھگ 27 فی صد کمی واقع ہوئی ہے۔ ماہرین نے اس صورتِ حال کو پریشان کن قرار دیا ہے۔

ایک سائنسی جریدے کے مطالعے کے مطابق مکھیاں اور ایسے کیڑے مکوڑے جو دنیا کی خوبصورتی میں اضافہ کرنے والی تتلیوں کی خوراک ہیں، ان میں سالانہ ایک فی صد کی شرح سے کمی واقع ہو رہی ہے۔

تحقیق کے مصنف ریول وین کلنک کا کہنا ہے کہ گو کہ اس تحقیق میں کیڑے مکوڑوں کی آبادی میں کمی کی شرح ماضی میں ہونے والے ایسی تحقیق کے مقابلے میں کم ہے، لیکن پھر بھی یہ خطرناک صورتِ حال ہے۔

تتلیوں پر ریسرچ کرنے والے مشی گن اسٹیٹ یونیورسٹی کے نک ہیڈڈ کا کہنا ہے کہ یہ صورتِ حال واقعی خوفناک ہے۔ جس سے واضح ہوتا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلیوں اور دیگر عوامل ہمارے قدرتی ماحول کو کس قدر نقصان پہنچا رہے ہیں۔

ان میں کیڑے مکوڑوں کی ایسی ماحول دوست اقسام بھی ہیں، جن کی خوراک فصلوں کو نقصان پہنچانے والے کیڑے ہوتے ہیں۔

تحقیق میں کہا گیا ہے کہ خاص طور پر شمالی امریکہ کی ریاستوں اور کئی یورپی ملکوں میں کیڑے مکوڑوں کی آبادی تیزی سے کم ہو رہی ہے۔ یہ اعداد و شمار کیڑوں کی 10 ہزار اقسام اور 1676 مقامات سے حاصل کیے گئے ڈیٹا کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے مرتب کیے گئے ہیں۔

خاص طور پر مڈ ویسٹ امریکہ کے علاقوں میں یہ کیڑے مکوڑے چار فی صد کی شرح سے کم ہو رہے ہیں۔ وین کلنک کا کہنا ہے کہ ان علاقوں میں ان کیڑے مکوڑوں کو خوارک کے حصول میں دشواریوں اور اپنا قدرتی مسکن دستیاب نہیں ہے۔

البتہ بعض محقیقن کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق سمجھ میں آتی ہے۔ لیکن اس کا دائرہ کار محدود تھا۔ اس میں افریقی ممالک اور بہت سے دیگر علاقوں کو شامل نہیں کیا گیا۔

محقق ریول وین کلنک کا کہنا ہے کہ شہری آبادیوں میں تیزی سے اضافہ اس کی ایک وجہ ہو سکتا ہے۔

اُن کے بقول یہ حشرات ایسے علاقوں میں زیادہ پائے جاتے ہیں۔ جہاں پھول پودے اور درخت ہوں۔ تحقیق میں کہا گیا ہے کہ زمین پر رینگنے والے کیڑے جہاں کم ہو رہے ہیں، وہیں اُڑنے والے کیڑے جن میں مچھر بھی شامل ہے، ان کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG