رسائی کے لنکس

کہکشاں میں زمین جیسے چھ ارب سیارے ہیں


ناسا کی ہبل دوربین سے کہکشاں کی لی جانے والی ایک تصویر۔ فائل فوٹو

اندھیری راتوں میں آپ نے آسمان پر چمکتے ہوئے ستاروں کا مشاہدہ تو کیا ہو گا۔ کچھ بہت روشن ہوتے ہیں، کچھ مدھم اور کچھ کسی کسی وقت ٹمٹا کر نظروں سے اوجھل ہو جاتے ہیں۔ اخترشماری کرنا شاعروں کا ہی نہیں بلکہ فلکیات کے ماہرین کا بھی محبوب مشغلہ ہے۔ آسمان پر کتنے ستارے ہیں؟ اربوں یا کھربوں؟ کوئی بھی نہیں جانتا۔ اس سوال کا جواب شاید کسی کے پاس بھی نہیں ہے۔

جیسے جیسے سائنس ترقی کر رہی ہے، جیسے جیسے خلا میں دیکھنے والی دوربینوں کی طاقت میں اضافہ ہو رہا ہے، نئے نئے ستارے نظروں میں آ رہے ہیں۔

آسمان کی وسعت اور گہرائی کا تو خیر ذکر ہی کیا، سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ صرف ہماری کہکشاں میں اتنے ستارے ہیں کہ ہماری گنتی ختم ہو جاتی ہے، لیکن وہ ختم نہیں ہوتے۔ کائنات میں اس جیسی، بلکہ اس سے کہیں بڑی ان گنت کہکشائیں ہیں۔

آج ہم صرف اپنی کہکشاں کا ذکر کریں گے۔ ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ہماری کہکشاں میں زمین جیسے سیاروں کی تعداد کم از کم 6 ارب ہے۔

زمین جیسے سیارے سے مراد ایک ایسا سیارہ ہے، جس کا ہمارے نظام شمسی جیسا ایک نظام ہو۔ اس نظام میں چند اور سیارے ہوں جو اپنے اپنے مدار میں اس نظام کے سورج کے گرد گردش کرتے ہوں۔ ہماری زمین جیسے سیارے کا سورج سے تقریباً اتنا ہی فاصلہ ہو جتنا کہ ہماری زمین کا ہے۔ سیارے کا قطر بھی ہماری زمین کے قریب ہو۔ اس سیارے میں چٹانیں بھی ہوں اور میدان بھی۔

جب یہ عوامل میسر ہوں گے تو وہاں پانی بھی ہو گا اور کرہ ہوائی بھی۔ جس سے اس سیارے کا درجہ حرارت اور موسمی حالات ایسے بن سکتے ہیں جو زندگی کے لیے مدد گار ہوں۔ ضروری نہیں ہے کہ وہاں زندگی زمین پر موجود زندگی جیسی ہو۔ اس کی کوئی بھی شکل ہو سکتی ہے، لیکن ان عوامل کی موجودگی میں وہاں زندگی کا امکان قوی ہو جاتا ہے۔ اس انداز کے سیارے کو سائنسی اصطلاح میں جی ٹائپ سیارہ کہا جاتا ہے۔

یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا کے فلکیاتی ماہرین نے ناسا کی طاقت ور دوربین سے حاصل کردہ ڈیٹا سے یہ اندازہ لگایا ہے کہ ہماری کہکشاں میں جی ٹائپ یعنی ہماری زمین جیسے سیاروں کی تعداد 6 ارب کے لگ بھگ ہو سکتی ہے۔

برٹش کولمبیا یونیورسٹی کی ماہر فلکیات اور اس تحقیق کی مصنفہ مشیل کونی موتو نے کہا ہے کہ میری گنتی کے مطابق جی ٹائپ جیسے نظام شمسی میں زمین جیسے سیاروں کی تعداد صفر اعشاریہ ایک آٹھ فی صد ہے۔ یہ وہ سیارے ہیں جو ہماری مستقبل کی خلائی تحقیق کا مرکز بن سکتے ہیں۔

برٹش کولمبیا یونیورسٹی کے ایک اور ماہر فلکیات جیمی میتھیو کا کہنا ہے کہ محتاط اندازے کے مطابق ہماری کہکشاں میں 400 ارب ستارے ہیں، جن کے اپنے نظام شمسی ہیں اور ان کے گرد کئی کئی سیارے گردش کرتے ہیں۔ ان چار سو ارب سیاروں میں سے 7 فی صد ستارے ایسے ہیں جو جی ٹائپ کی تعریف پر پورے اترتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ صرف ہماری کہکشاں میں 6 ارب کے قریب زمین جیسی خصوصیات رکھنے والے سیارے موجود ہیں۔

اس سے قبل کونی موتو نے ناسا کی دوربین کیپلر مشن سے تقریباً دو لاکھ ستاروں کے ڈیٹا پر تحقیق کی تھی ۔انہوں نے ہمارے نظام شمسی سے باہر 17 نئے سیاروں کا کھوج لگایا تھا۔

اجرام فلکی پر ہونے والی تحقیق مستقبل کی خلائی مہمات میں سائنس دانوں کی مدد فراہم کرے گی۔ تاہم، ابھی زمین سے بھیجی جانے والی خلائی مہمات طویل ترین فاصلوں کی وجہ سے ہمارے نظام شمسی کے سیاروں تک ہی محدود ہیں۔

زمین کا قریب ترین سیارہ مریخ ہے، جس کا کرہ ارض سے فاصلہ 55 ملین کلومیٹر ہے۔ اس سیارے تک راکٹ پہنچنے میں 150 سے 300 دن لگتے ہیں، جس کا انحصار زمین اور مریخ کی اپنے اپنے مدار میں گردش پر ہے۔

اپنے نظام شمسی سے باہر کسی دوسرے نظام شمسی کے زمین جیسے سیارے تک پہنچنے کے لیے سینکڑوں یا ہزاروں سال لگ سکتے ہیں، کیونکہ وہ ہم سے لامحدود فاصلوں پر گردش کر رہے ہیں اور انسان ابھی تک چند ہزار میل فی گھنٹے سے زیادہ رفتار حاصل کرنے کے قابل نہیں ہو سکا ہے۔

اگر کہکشاں میں زمین جیسے دوسرے سیاروں پر زندگی ہے، تو وہ کیسی ہو گی؟ اس وقت ہم اس کا صرف قیاس ہی کر سکتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG