رسائی کے لنکس

ہالینڈ: جرائم کی دلیرانہ رپورٹنگ کرنے والا تحقیقاتی صحافی، قاتلانہ حملے میں ہلاک


ہالینڈ کے بادشاہ ولیم الیکسینڈر نے اس واقعے کو صحافت پر حملے کے مترادف قرار دیا ہے

ہالینڈ میں جرائم کی دنیا کی رپورٹنگ کرنے اور پرانے کیسز پر تحقیقات کی شہرت رکھنے والے صحافی پیٹر آر ڈا وریز قاتلانہ حملے میں زخمی ہونے کے ایک ہفتے کے بعد جان کی بازی ہار گئے ہیں۔

جمعرات کے روز ان کے خاندان کی جانب سے جاری ایک پیغام میں بتایا گیا کہ ’’پیٹر نے آخری وقت تک لڑائی جاری رکھی، لیکن وہ اس جنگ میں ہار گئے۔‘‘

خبر رساں ادارے، ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، چھ جولائی کو ملک کے دارالحکومت ایمسٹرٖڈیم کی ایک گلی میں ہونے والا یہ حملہ ملک میں انڈرورلڈ گینگ کی طرز پر ہونے والے فائرنگ کے دیگر واقعات سے مماثلت رکھتا ہے۔ ایجنسی کے مطابق 64 برس کے پیٹر حالیہ دنوں میں انہی واقعات پر رپورٹنگ کر رہے تھے۔

پولیس کی جانب سے دو مشتبہ افراد کو حملے کے الزام میں حراست میں لیا گیا ہے۔ ان افراد میں ایک 21 برس کا فرد شامل ہے جس پر فائرنگ کا الزام ہے اور ایک 35 برس کا پولش شہری بھی شامل ہے جس پر حملہ آور کو گاڑی میں ڈرائیو کر کے جائے وقوعہ تک لانے کا الزام ہے۔ دونوں ملزمان کو حملے کے کچھ ہی دیر بعد حراست میں لیا گیا تھا۔

اے پی کے مطابق، پیٹر اپنی نوجوانی کے زمانے میں ہی شہرت کی بلندیوں پر پہنچ چکے تھے؛ اور وہ ہالینڈ کے بہترین صحافی کے طور پر جانے جاتے تھے۔ وہ قتل کر دئے جانے والے یا غائب ہو جانے والے بچوں کے خاندانوں کے لیے کام کرنے، ناانصافی کے خلاف مہم چلانے اور ملک کے انڈرورلڈ کے لیے کانٹے کی سی حیثیت رکھتے تھے۔

خاندان کی جانب سے پیغام میں کہا گیا ہے کہ پیٹر نے اپنے مضبوط یقین پر زندگی گزاری۔ وہ کہا کرتے تھے کہ ’’گھٹنوں کے بل آزاد زندگی نہیں گزاری جا سکتی۔‘‘ ان کے خاندان کے بقول، جہاں ان کا بچھڑنا ناقابل برداشت ہے، وہیں وہ پیٹر پر بے حد فخر کرتے ہیں۔

فائرنگ کا یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب وہ معمول کے مطابق ٹی وی پر اپنے حالات حاضرہ کے پروگرام میں شرکت کے بعد لوٹ رہے تھے۔ وہ انڈرورلڈ کے ایک گینگ کے سربراہ اور ارکان کے خلاف ایک گواہ کے معاون کے طور پر کام کر رہے تھے۔ پولیس کے مطابق، یہ گینگ قتل کرنے کی مشین کے طور پر جانا جاتا ہے۔

گینگ کے مبینہ طور پر سربراہ ریڈوان تاغی کو 2019 میں دبئی سے ہالینڈ واپس لایا گیا تھا، وہ اور 16 مزید ملزمان اس وقت جیل میں ہیں اور ان پر مقدمے کی کارروائی جاری ہے۔

پیٹر ڈاوریز کو 2008 میں تب بین الاقوامی ایمی ایوارڈ سے نوازا گیا تھا جب انہوں نے 2005 میں ڈچ کیریبین جزیرے میں چھٹیاں گزارنے کے دوران گمشدہ ہونے والی امریکی نوجوان خاتون نٹالی ہولووے پر ایک ٹی وی شو کیا تھا۔

'کوئی ایک دورِ حکومت ایسا نہیں جس میں صحافیوں نے سکھ کا سانس لیا ہو'
please wait

No media source currently available

0:00 0:10:41 0:00

ڈا وریز نے ایسے ہی بہت سے پرانے کیسز پر رپورٹنگ کی۔ ان میں 1983 میں بئیر کے ایک کاروباری شخص فریڈی ہینیکن کا اغوا بھی شامل تھا۔ پیٹر1994 میں ان کے ایک اغوا کار تک پراگ پہنچ گئے تھے۔

ملک کے نگران وزیراعظم مارک رٹ نے پیٹر کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پیٹر ڈاوریز ہمیشہ اپنے کام میں مگن اور کسی سے ڈرنے والے نہیں تھے۔ بقول ان کے، وہ ہمیشہ سچ اور حق کے ساتھ کھڑے رہتے تھے۔ مارک رٹ نے کہا کہ یہ معاملہ زیادہ ڈرامائی اس لیے بھی ہے کہ وہ اب خود ناانصافی کا نشانہ بن گئے ہیں۔

ہالینڈ کے بادشاہ ولم الیکسینڈر نے اس واقعے کو صحافت پر حملے کے مترادف قرار دیا ہے۔

XS
SM
MD
LG