رسائی کے لنکس

ہیکنگ برائے تاوان کا تدارک، وائٹ ہاؤس کا ایک کروڑ ڈالر تک کے انعام کا اعلان


رینسم ویئر سائبر حملہ۔

امریکی محکمہ خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ غیر ملکی حکومت کی ایما پر رینسم ویئر (یعنی تاوان کی غرض سے سائبر حملوں) کے ذریعے اہم امریکی انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچانے والے ہیکرز کے متعلق اطلاع فراہم کرنے والے شخص کو ایک کروڑ ڈالر تک کا انعام دیا جائے گا۔

سائبر کرائم کی یہ گھناؤنی سرگرمیاں عمومی طور پر بیرونی عناصر غیر ملکوں کی ایما پر کرتے ہیں۔ ہیکنگ کا بر وقت پتا چلنے سے حفاظتی تدابیر اختیار کی جا سکتی ہیں اور ان ملوث غیر ملکی عناصر یا اداروں کو کیفر کردار تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے، جن میں رینسم ویئر کا استعمال کیا جاتا ہے۔

ہیکنگ برائے تاوان کی لعنت کے تدارک کے لیے مربوط کوششوں کے لیے ایک ٹاسک فورس بھی تشکیل دی گئی ہے۔

حالیہ برسوں میں دنیا بھر میں ہیکنگ برائے تاوان کی نوعیت کے سائبر کرائم کی سرگرمیاں بڑھتی جا رہی ہیں، جن کے تدارک کی کوشش کی جاری ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ رینسم ویئر میں ملوث ہیکر اور ہیکر گروپ، جن میں زیادہ تر غیر ملکی عناصر ملوث ہوتے ہیں، تاوان وصول کرکے کمپیوٹر کا کنٹرول واپس کرتے ہیں۔

انتظامیہ کے ایک اعلیٰ اہل کار نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ [stopransomware.gov] نامی ویب سائٹ کا آغاز کیا گیا ہے، تاکہ ان خطرات سے نمٹنے کے لیے عوام کو درکار وسائل میسر ہوں، جن کی مدد سے نیٹ ورکس زیادہ فعال اور مؤثر انداز سے ان حملوں سے نمٹ سکیں۔

رینسم کے تدارک کے سلسلے میں مزید اقدام کے طور پر، امریکی مالیات کے محکمے نے 'فائنانشل کرائمز انفورسمنٹ نیٹ ورک' تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے۔ یہ نیٹ ورک بینکوں، ٹیکنالوجی کے اداروں اور دیگر تنصیبات سے رابطے میں رہے گا، تاکہ کرپٹو کرنسی اور تاوان کی ادائیگی کے لیے استعمال ہونے والے دیگر حربوں کی نوعیت کے مطالبات کی صورت میں منی لانڈرنگ کے قوانین کے ذریعے ان اوچھی سرگرمیوں کے تدارک میں مدد دی جا سکے اور رینسم ویئر کی ادائیگیوں کا پتا لگایا جا سکے۔

عام طور پر ایسے ہتھکنڈے اپنانے والے ہیکر ورچوئل کرنسی میں ادائیگی کا مطالبہ کرتے ہیں۔

اہل کار پرامید ہیں کہ رینسم ویئر نوعیت کی تاوان کی ادائیگیوں کا پتا لگایا جا سکے گا جیسا کہ مئی میں ایف بی آئی 'کولونئیل پائپ لائن' سے متعلق 44 لاکھ ڈالر کے تاوان کی بازیابی کے معاملے میں کارآمد مدد فراہم کر سکی تھی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ انعامات کی پیش کش امریکی محکمہ خارجہ کے 'ریوارڈز فار جسٹس' پروگرام کے تحت کی گئی ہے۔ اس میں آسان طریقہ کار وضع کیا گیا ہے جس سے ویب کی تاریک دنیا کی چالبازیوں سے تحفظ کے لیے وسائل کی نشاندہی کی جائے گی، جن کی مدد سے سائبر حملہ آوروں یا ان کے اصل مقامات کی شناخت ممکن ہو سکے گی، اور کرپٹو کرنسی میں ادائیگیوں کی نشاندہی کے معاملے پر بھی انعامات دیے جائیں گے۔

انتظامیہ کے ایک اہل کار نے اس سوال کا جواب دینے سے احتراز کیا کہ آیا روس سے وابستہ بدنام ہیکرز کے گروہ، 'ریول' کو انٹرنیٹ سے باہر نکال پھینکنے کے عمل میں امریکی حکومت ملوث ہے۔ ہیکرز کے اسی گروپ نے 2 جولائی کو رینسم ویئر کے کئی حملے کر کے فلوریڈا میں قائم سافٹ ویئر فرم، کسایا کو نشانہ بنایا اور دنیا کے 1000 سے زیادہ اداروں کے کمپیوٹر نظاموں کو ناکارہ بنا دیا تھا۔

رینسم ویئر حملے میں نیٹ ورکس کا تمام ڈیٹا قبضے میں لے لیا جاتا ہے اور جرائم پیشہ عناصر تب تک قبضہ جاری رکھتے ہیں جب تک انھیں تاوان کی رقم کی ادائیگی نہیں ہو جاتی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG