رسائی کے لنکس

کرونا کی ایسی اقسام بھی سامنے آ سکتی ہیں جن کے خلاف ویکسین مؤثر نہیں ہو گی: سائنس دان


ایک طرف تو وبا کے خاتمے کے لیے ویکسی نیشن کا عمل جاری ہے تو وہیں ویکسین لگوانے کے بعد بھی کرونا میں مبتلا ہونے کے متعدد کیسز سامنے آ رہے ہیں۔

ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کرونا کی بعض ایسی اقسام بھی سامنے آ سکتی ہیں جن کے خلاف ویکسین مؤثر نہیں ہو گی۔ یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ویکسین لگوانے کے بعد بھی کچھ افراد میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔

دنیا بھر میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ویکسی نیشن کے عمل میں تیزی لائی جا رہی ہے۔ تاہم سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس دوران وائرس کی سامنے آنے والی نئی اقسام کے جائزے کی بھی ضرورت ہے۔

امریکہ کے جانز ہاپکنز سینٹر فار ہیلتھ سیکیورٹی کی سینئر اسکالر جی جی گرونوَل کا کہنا ہے کہ "اس دنیا میں کوئی بھی چیز 100 فی صد نہیں ہے۔"

انہوں نے کہا کہ ممکن ہے کہ کرونا وائرس کے مزید ویرینٹ (قسم) سامنے آ سکتے ہیں جس کے پھیلاؤ پر ویکسین کے ذریعے قابو نہیں پایا جا سکے گا، لہذٰا اس معاملے پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

کیا ویکسین پر بڑے ممالک کی اجارہ داری ختم ہو سکے گی؟
please wait

No media source currently available

0:00 0:04:03 0:00

امریکہ میں صحتِ عامہ کے نگراں ادارے سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پری وینشن (سی ڈی سی) کے مطابق 26 اپریل تک کرونا ویکسی نیشن کا کورس مکمل کرنے والے نو کروڑ 50 لاکھ امریکی شہریوں میں سے نو ہزار 245 افراد میں دوبارہ وائرس کی تشخیص ہوئی جو ایک فی صد کے 100 ویں حصے سے بھی کم شرح ہے۔

امریکہ کی یونی ورسٹی آف میری لینڈ انسٹی ٹیوٹ فار جینوم سائنسز کے ایسو سی ایٹ ڈائریکٹر جیک راول کا کہنا ہے کہ کرونا ویکسین کی خوراک حاصل کرنے والا ہر فرد اس ویکسین کا ردِ عمل ظاہر نہیں کرتا۔

ان کے بقول ہم اس حوالے سے 100 فی صد یقین نہیں رکھتے کہ ایسے افراد جنہوں نے کرونا ویکسین کی خوراک حاصل کر لی ہے ان کے جسم میں وائرس کے خلاف قوتِ مدافعت میں اضافہ ہوا ہے۔

وائرس کے خلاف لڑنے والے کمزور مدافعتی ردِعمل اور ویکسین کی خوراک لگنے کے بعد بھی وائرس میں مبتلا کرنے والے ویرینٹ (قسم) کے درمیان فرق پہچاننے کے لیے سائنس دانوں کو وائرس کے جینیاتی کوڈ اور اس کا سیکوئنس پڑھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

کیا کرونا کی ویکسینز درست کام کر رہی ہیں؟

ماہرین کے مطابق اب تک کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے تیار کی جانے والی ویکسینز مختلف ویرینٹس (اقسام) کے خلاف بھی مؤثر ہیں۔

اسرائیل جہاں پہلی بار کرونا وائرس کی برطانوی قسم کی تشخیص ہوئی تھی وہاں امریکی کمپنی کی تیار کردہ ویکسین فائزر-بائیو این ٹیک 95 فی صد مؤثر ثابت ہوئی تھی۔

یاد رہے کہ کرونا وائرس کی برطانوی قسم آسانی سے پھیلتی ہے اور یہ اصل کرونا وائرس سے زیادہ جان لیوا سمجھی جاتی ہے۔

قطر میں ایک مطالعے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کرونا وائرس کے جنوبی افریقی ویرینٹ (قسم) کے خلاف فائزر-بائیو این ٹیک کی ویکسین 75 فی صد مؤثر ثابت ہوئی تھی۔

مطالعے میں مزید بتایا گیا کہ کرونا ویکسین سنگین کیسز کے خلاف حفاظت فراہم کرتی ہے، فائزر-بائیو این ٹیک ویکسین کرونا کے سنگین کیسز اور اموات کے خلاف 97 فی صد مؤثر ثابت ہوئی۔

امریکہ کے جانز ہاپکنز سینٹر فار ہیلتھ سیکیورٹی کی سینئر اسکالر جی جی گرونوَل کا کہنا ہے کہ اگر کسی کو ویکسین لگانے کے باوجود بھی انفیکشن کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے تب بھی ویکسین معنی رکھتی ہے۔

پاکستان: کیا لوگوں میں کرونا وائرس کا خوف ختم ہو گیا ہے؟
please wait

No media source currently available

0:00 0:03:21 0:00

دوسری جانب برطانوی قسم کے حوالے سے جیک راول کا کہنا ہے کہ میں اسے ایک مثبت چیز نہیں کہہ سکتا لیکن یہ واقعی کرونا وائرس کی دیگر خطرناک اقسام کو ختم کرنے میں مدد فراہم کر رہی ہے۔

یونی ورسٹی آف میری لینڈ انسٹی ٹیوٹ فار جینوم سائنسز میں جینومکس کے ایسو سی ایٹ ڈائریکٹر جیک راول کا کہنا ہے کہ ہم ایک دوڑ میں ہیں اور ہم اس جنگ میں مسلسل لڑ رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG