رسائی کے لنکس

کرونا کو عالمی وبا قرار دینے کا ایک سال، نئی رپورٹ میں برطانوی وائرس سب سے مہلک قرار


فائل فوٹو

اقوام متحدہ کی جانب سے کرونا وائرس کو عالمی وبا قرار دیے ہوئے ایک سال مکمل ہو گیا ہے۔ اسی موقع پر شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ میں سامنے آنے والی کرونا وائرس کی نئی قسم دیگر تمام اقسام سے زیادہ مہلک ہے۔

'برٹش میڈیکل جرنل' میں بدھ کو شائع ہونے والی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کرونا وائرس کی نئی برطانوی قسم کا نشانہ جو افراد بنے ہیں، ان میں دیگر اقسام سے متاثر ہونے والوں کے مقابلے میں موت کا امکان 64 فی صد زیادہ ہے۔

گزشتہ ستمبر میں جنوب مشرقی برطانیہ سے پھیلنے والی کرونا وائرس کی نئی قسم اب دنیا کے 100 سے زیادہ ممالک میں پہنچ چکی ہے۔ اس سے قبل ہونے والی ریسرچز میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ یہ قسم کرونا وائرس کی اصل قسم سے کہیں زیادہ تیزی سے پھیلتی ہے۔

دوسری طرف اقوام متحدہ کی جانب سے کرونا وائرس کو عالمی وبا قرار دیے جانے کو ایک سال مکمل ہو گیا ہے۔ اس موقع پر برازیل میں کرونا وائرس سے ایک ہی دن میں ریکارڈ 2286 اموات رپورٹ ہوئی ہیں۔

جنوبی امریکی ملک برازیل کرونا کیسز میں ڈرامائی اضافے کا سامنا کر رہا ہے۔ یہاں وائرس کی 'پی ون' قسم نمایاں ہے جو سب سے پہلے گزشتہ نومبر میں برازیل کے شہر مینواس میں ظاہر ہوئی تھی۔

محققین کا کہنا ہے کہ وائرس کی یہ قسم کرونا وائرس کی اصل قسم سے ایک اعشاریہ چار سے لے کر دو اعشاریہ چار گنا تک زیادہ پھیلاؤ کی اہلیت رکھتی ہے اور ان لوگوں کو بھی متاثر کر سکتی ہے جو 'کووڈ 19' سے صحت یاب ہو رہے ہیں۔

امریکہ کی 'جانز پاپکنز یونیورسٹی' کے 'کرونا وائرس ریسورس سینٹر' کے مطابق دنیا بھر میں میں کرونا کے کل 11 کروڑ 80 لاکھ کیسز میں سے ایک کروڑ 12 لاکھ سے زائد کیسز برازیل میں رپورٹ ہوئے ہیں۔

کیسز کے اعتبار سے برازیل دنیا بھر میں امریکہ اور بھارت کے بعد تیسرے نمبر پر ہے جب کہ اموات کے اعتبار سے برازیل کا نمبر امریکہ کے بعد دوسرا ہے جہاں دو لاکھ 70 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

ایسے میں جب بہت سے ممالک اپنے شہریوں کو عالمی وبا سے بچانے کے لیے ویکسین لگانے کی کوششیں کر رہے ہیں، امریکہ کے صدر جو بائیڈن 'جانسن اینڈ جانسن' کی تیار کردہ ویکسین کی اضافی خوارکیں دنیا کے ساتھ شیئر کرنے کا وعدہ کر رہے ہیں۔

بائیڈن نے بدھ کو اعلان کیا ہے کہ امریکہ 'جانسن اینڈ جانسن' کی ویکسین کی 10 کروڑ خوراکیں خریدے گا تاکہ ملک میں کرونا ویکسین کی سپلائی میں اضافہ کیا جا سکے۔

جو بائیڈن نے گزشتہ ماہ چار ارب ڈالرز کی خطیر رقم عالمی ادارۂ صحت کے گلوبل ویکسین شیئرنگ پروگرام 'کوویکس' کو بھی دینے کا وعدہ کیا ہے۔ یہ پروگرام امیر ممالک کی مدد سے ویکسین خرید کر تمام ممالک میں غیر جانب داری سے تقسیم کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔

امریکہ میں محققین کے ایک گروپ نے کہا ہے کہ وہ لوگ جو پہلے کرونا وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں، انہیں 'فائزر اور بائیو این ٹیک' کی یا 'موڈرنا' کی ویکسین کی دو، دو کے بجائے صرف ایک خوراک کی ضرورت ہو گی۔

زیادہ تر ریسرچر یہ تسلیم کرتے ہیں کہ اگر کسی شخص کو ایک بار کرونا وائرس لاحق ہو چکا ہو تو اس کا مدافعتی نظام زیادہ مضبوط ہو جاتا ہے جو ویکسین لگنے کے بعد تیزی سے اینٹی باڈیز بنانے لگتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG