رسائی کے لنکس

کرونا وائرس سے عالمی معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان، ہر شعبہ متاثر


عالمی اسٹاک مارکیٹس میں بھی شدید مندی کا رُجحان ہے۔

چین کے شہر ووہان سے پھیلنے والا کرونا وائرس لگ بھگ دُنیا کے 113 ممالک میں سرایت کر چکا ہے جس کے باعث عالمی معیشت، تجارت، کھیل سمیت زندگی کا ہر شعبہ بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے اسے وبائی مرض بھی قرار دے دیا ہے۔

امریکہ، بھارت، ایران، پاکستان، یورپ سمیت دُنیا کے بیشتر ممالک نے سرکاری مشینری اس وبائی مرض کا پھیلاؤ روکنے کے لیے وقف کر رکھی ہے۔

پاکستان میں کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے 'صحت ایمرجنسی' نافذ کرنے کے مطالبات کیے جا رہے ہیں۔

اٹلی میں لاک ڈاؤن کے بعد ڈنمارک اور دیگر یورپی ملکوں میں بھی احتیاطی تدابیر اختیار کی جا رہی ہیں۔

کرونا وائرس کے باعث اب تک دُنیا بھر میں 4600 افراد ہلاک جب کہ ایک لاکھ 26 ہزار افراد اس وائرس کا شکار ہو چکے ہیں۔

عالمی وبا قرار دیے جانے کے بعد دُنیا کی متعدد حکومتوں نے ہنگامی اقدامات تیز کر دیے ہیں۔

کرونا وائرس کے باعث عالمی اسٹاک مارکیٹس، سیاحت، ایئر لائنز اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں کے علاوہ کھیلوں کی سرگرمیاں بھی محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔

کرونا وائرس کے باعث عالمی اسٹاک مارکیٹ میں بھی مندی کا رُجحان ہے۔
کرونا وائرس کے باعث عالمی اسٹاک مارکیٹ میں بھی مندی کا رُجحان ہے۔

تیل کی قیمتیں گرنے سے فضائی کمپنیوں نے کرایوں میں کمی کر دی ہے۔ وہیں دُنیا کے بڑے شہروں میں ہوٹل انڈسٹری بھی متاثر ہو رہی ہے۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یورپ سے امریکہ سفر پر بھی پابندی لگا دی ہے۔ جس کے بعد تیل کی قیمتوں میں مزید چار فی صد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

وبائی مرض قرار دیے جانے اور صدر ٹرمپ کے اعلان کے بعد تیل کی قیمتوں میں گراوٹ کے علاوہ اسٹاک مارکیٹس میں بھی مندی کا رُجحان ہے۔

خبر رساں ادارے 'سی این بی سی' کی رپورٹ کے مطابق وائرس کے باعث چین میں کاروباری سفر 95 فی صد کم ہوا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کرونا وائرس کے باعث کاروباری سفر محدود ہونے سے عالمی سطح پر 820 ارب ڈالر نقصان کا تخمینہ ہے۔ جس میں سب سے زیادہ چین کو 404 ارب ڈالر نقصان پہنچنے کا اندازہ ہے۔ یورپی ملکوں کو اس مد میں 190 ارب ڈالر نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

عالمی سطح پر کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے اور اس سے بچاؤ کی ویکسین کی تیاری پر بھی کام جاری ہے۔ (فائل فوٹو)
عالمی سطح پر کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے اور اس سے بچاؤ کی ویکسین کی تیاری پر بھی کام جاری ہے۔ (فائل فوٹو)

خیال رہے کہ چند روز قبل ورلڈ بینک نے بھی کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے محدود وسائل رکھنے والے ملکوں کی مدد کے لیے 12 ارب ڈالر جاری کرنے کا اعلان کیا تھا۔

عالمی سطح پر کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے اور اس سے بچاؤ کی ویکسین کی تیاری پر بھی کام جاری ہے۔ البتہ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اس عمل میں وقت لگ سکتا ہے۔

گھر سے کام کرنے کے رُجحان میں اضافہ

وائرس کے پھیلاؤ کے باعث گھر سے کام کرنے کا رُجحان بڑھ رہا ہے۔ خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق سماجی رابطوں کی بڑی ویب سائٹ 'ٹوئٹر' نے اپنے ملازمین کو گھروں سے کام کرنے کی ہدایت کی ہے۔

ٹوئٹر پہلے ہی جاپان، جنوبی کوریا اور چین میں اپنے ملازمین کو گھروں سے کام کرنے کی ہدایت کر چکا تھا۔ ٹوئٹر انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ ایک غیر معمولی اقدام ہے، لیکن یہ غیر معمولی حالات میں کیا جا رہا ہے۔

کرونا وائرس لگ بھگ دُنیا کے 113 ملکوں تک پھیل چکا ہے۔
کرونا وائرس لگ بھگ دُنیا کے 113 ملکوں تک پھیل چکا ہے۔

اس سے قبل 'گوگل' بھی سان فرانسسکو، نیو یارک اور سلیکون ویلی میں اپنے دفاتر میں لوگوں کی آمد و رفت محدود کر چکا ہے۔

دُنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنی ایپل نے بھی اپنے ملازمین کو گھروں سے کام کرنے کی ہدایت کر رکھی ہے۔

سماجی رابطوں کی سب سے بڑی ویب سائٹ 'فیس بک' نے بھی سنگا پور اور لندن میں واقع اپنے دفاتر میں کرونا وائرس کے کیسز سامنے آنے کے بعد اُنہیں بند کر دیا تھا۔

کھیلوں کی سرگرمیاں محدود

کرونا وائرس کے باعث عالمی سطح پر کھیلوں کی سرگرمیاں بھی بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔ اٹلی میں وائرس کے باعث ہلاکتوں کے بعد فٹ بال کے متعدد میچز منسوخ کر دیے گئے ہیں۔

اسپین اور فرانس کے حکام نے اعلان کر رکھا ہے کہ مختلف لیگز کے فٹ بال مقابلوں کے دوران اسٹیڈیمز خالی ہوں گے۔

جرمنی میں ہفتے کے اختتام پر کھیلے جانے والے میچ بھی خالی اسٹیڈیمز میں کھیلے جائیں گے۔

قطر میں شیڈول یورو کپ فٹ بال کے وارم میچز بھی منسوخ کر دیے گئے ہیں۔ اس ایونٹ میں پرتگال، کروشیا، بیلجیم اور سوئٹزرلینڈ کی ٹیموں نے حصہ لینا تھا۔

یورپ میں شائقین کے بغیر فٹ بال میچز کھیلے جا رہے ہیں۔
یورپ میں شائقین کے بغیر فٹ بال میچز کھیلے جا رہے ہیں۔

خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق مارچ اور اپریل میں شیڈول موٹر اسپورٹ، باسکٹ بال، سائیکلنگ، گالف، ایتھلیٹکس، بیس بال اور آئس ہاکی کے مختلف ممالک میں ہونے والے مقابلے بھی ملتوی کر دیے گئے ہیں۔

رواں سال جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو میں شیڈول اولمپکس مقابلوں کے انعقاد پر بھی سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ البتہ ٹوکیو کے گورنر کا کہنا ہے کہ 24 جولائی سے نو اگست تک شیڈول اولمپکس مقابلے منسوخ کرنے کا سوچا بھی نہیں جا سکتا۔

انٹرنیشنل اولمپک ایسوسی ایشن کا ایک بیان میں کہنا ہے کہ تاحال ٹوکیو اولمپکس کے حوالے سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی۔

کرکٹ کی سب سے بڑی لیگ 'انڈین پریمیئر لیگ' میں بھی غیر ملکی کھلاڑیوں کی شرکت مشکوک ہو گئی ہے۔ بھارت نے ویزا پر ایک ماہ کے لیے پابندی عائد کر دی ہے اور رواں ماہ سے ہی ایونٹ کا آغاز بھی ہو رہا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG