رسائی کے لنکس

کیا ریپ کے ملزم سے پوچھا جا سکتا ہے کہ وہ متاثرہ لڑکی سے شادی پر راضی ہے؟


فائل فوٹو

بھارتی سپریم کورٹ نے پیر کو ریپ کے ایک ملزم کی درخواست کی سماعت کے دوران اس سے استفسار کیا کہ کیا وہ متاثرہ لڑکی سے شادی کرنے پر راضی ہے؟ ۔۔۔۔اگر ہاں تو عدالت اس کی سزا میں نرمی پر غور کر سکتی ہے، ورنہ اسے جیل جانا ہو گا۔ عدالتی بینچ نے ملزم سے مزید کہا کہ اسے لڑکی سے شادی پر مجبور نہیں کیا جا رہا۔

عدالت کے استفسار اور خبردار کرنے کے بعد ملزم کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اُن کا موکل، جو ایک سرکاری محکمے میں ملازم ہے، ابتدا میں لڑکی کے ساتھ شادی کے لیے تیار تھا، لیکن لڑکی نے انکار کیا تھا اور اب ملزم کسی اور سے شادی کر چکا ہے۔

ملزم کے وکیل نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ اُس کے خلاف تاحال فردِ جرم عائد نہیں کی گئی ہے۔

ملزم بھارتی ریاست مہاراشٹر میں سرکاری ملازم ہے، جو ایک نابالغ لڑکی کو بار بار زیادتی کا نشانہ بنانے کے الزام کا دفاع کر رہا ہے۔ ممبئی ہائی کورٹ نے اُس کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست مسترد کر دی تھی جس پر اس نے سپریم کورٹ سے رُجوع کیا تھا۔

تاہم پولیس نے اس کے خلاف جو مقدمہ درج کیا ہے اُس میں بچوں کو جنسی جرائم سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے نافذ قانون کی شقیں بھی شامل کی گئی ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا ردعمل

اس ریپ کیس کی سماعت کے دوران بھارتی سپریم کورٹ کی جانب سے متاثرہ نابالغ لڑکی کی ملزم سے شادی کرانے کی تجویز پر انسانی حقوق کی تنظیمیں اور سماجی کارکن تعجب اور افسوس کا اظہار کر رہے ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ بھارتی عدالتیں اس نوعیت کے فیصلے پہلے بھی کرتی رہی ہیں جو بھارت میں انسداد ریپ قوانین کی رُوح کے بھی منافی ہے۔

انسانی حقوق کی سرگرم کارکن مینا کشی گنگولی نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ لڑکی 18 سال سے کم عمر ہے اور بھارتی قانون کے مطابق کوئی ملزم کسی ایسی خاتون سے اس کی رضا مندی کے خلاف جنسی تعلق پیدا کرتا ہے، جس کی عمر 18 سال سے کم ہے تو قانون کی زبان میں یہ ریپ کہلائے گا۔

اُن کا کہنا تھا کہ عدالت کی جانب سے ملزم کو فراہم کیا جانے والا راستہ آئین اور قانون سے متصادم ہے۔

میناکشی گنگولی نے، جو جنوبی ایشیا میں انسانی حقوق کے عالمی ادارے ہیومن رائٹس واچ کی ڈائریکٹر بھی ہیں، کہا کہ وہ ایک خاتوں کی حیثیت سے بھی سپریم کورٹ کے اس اقدام سے ناخوش ہیں۔

انہوں نے کہا کہ "اس طرح کا ایک فیصلہ اس سے پہلے تامل ناڈو میں آیا تھا"۔

میناکشی کا کہنا تھا کہ "کسی نے لڑکی کا ریپ کیا ہے یا اسے جنسی تشدد کا نشانہ بنایا ہے اور اب لڑکی ہی سے کہا جا رہا ہے کہ وہ اپنی باقی ماندہ زندگی اُسی شخص کے ساتھ گزارے۔۔۔ تو یہ مظلوم کو اور بھی زیادہ ظلم کا شکار بنانا ہی تو ہے"۔

ملزم نے سپریم کورٹ میں دائر کردہ اپنی درخواست میں یہ بھی کہا تھا کہ مہاراشٹر سول سروسز (ڈسپلن اینڈ اپیل) رولز 1979 کے مطابق اگر کسی سرکاری ملازم کو فوج داری الزامات کے تحت 48 گھنٹے یا اس سے زیادہ وقت تک پولیس حراست میں رکھا جاتا ہے تو اُسے مقررہ اتھارٹی کی طرف سے خود بخود جاری کردہ حکم نامے کے تحت معطل قرار دیا جاتا ہے۔

بعد ازاں عدالت نے پولیس کو چار ہفتے تک ملزم کو گرفتاری سے روکنے کا حکم دے دیا۔

ریپسٹ سے شادی کرنے کا قانون دنیا کے اکثر ملکوں میں ختم کر دیا گیا ہے

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ دنیا کے کئی ملکوں میں سن 70 کی دہائی تک "Marry your rapist law" یعنی اپنے رییپسٹ سے شادی کرنے کا قانونی راستہ موجود تھا، جو ریپ کے ملزم سزا سے بچنے کے لئے اختیار کرتے تھے۔ لیکن ستر کی دہائی کے بعد دنیا کے اکثر ملکوں میں ان قوانین میں کافی حد تک ترامیم کر دی گئیں۔ بیسویں صدی کے اخر میں دنیا کے اکثر ملکوں میں ایسے باقی رہ جانے والے قوانین کو بھی تبدیل یا منسوخ کیا جا چکا ہے۔

بھارتی قانون کے تحت بھی ریپ کا ملزم متاثرہ خاتون سے شادی کر کے صحت جرم سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا۔

لیکن انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اب بھی دنیا کے کئی روایتی رسم و رواج کے حامل معاشروں میں جنسی جرائم کو منظر عام پر لانے اور مجرموں کو سزا دلوانے کا قانونی راستہ اس قدر پیچیدہ اور تکلیف دہ ہے کہ ریپ کا شکار ہونے والی خاتون یا اس کے خاندان پر دباؤ ڈال کر اسے خود سے زیادتی کا نشانہ بنانے والے سے شادی پر مجبور کرنے کا طریقہ کسی نہ کسی شکل میں اختیار کیا جاتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG