رسائی کے لنکس

آرٹیکل 370 سے متعلق کانگریس رہنما کے بیان پر بھارت میں سیاسی ہلچل


دگ وجے سنگھ (فائل فوٹو)

بھارت میں حزبِ اختلاف کی جماعت انڈین نیشنل کانگریس کے رہنما دگ وجے سنگھ کے آرٹیکل 370 سے متعلق بیان پر بھارت میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے کانگریس رہنما کے اس بیان پر سخت ردِعمل ظاہر کیا ہے۔

آڈیو چیٹ روم کلب ہاؤس پر ایک سیشن کے دوران دگ وجے سنگھ کی پاکستانی صحافی سے گفتگو کا ایک حصہ سوشل میڈیا پر زیرِ گردش ہے جس میں کانگریس رہنما کا کہنا تھا کہ اگر کانگریس اقتدار میں آئی تو وہ آرٹیکل 370 پر نظرِثانی کرے گی۔

کانگریس رہنما کے بیان پر بھارت کی حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے کئی رہنما اور مرکزی وزرا اس بیان پر تنقید کر رہے ہیں۔

دورانِ گفتگو دگ وجے سنگھ کا مزید کہنا تھا کہ جب آرٹیکل 370 ختم کیا گیا تو "نہ تو کشمیر میں جمہوریت تھی اور نہ ہی انسانیت" جب کہ کئی کشمیری رہنماؤں کو گرفتار کر کے یہ فیصلہ کیا گیا۔

کانگریس رہنما کے بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے حکمراں جماعت بی جے پی کے ترجمان سمبت پترا نے الزام لگایا کہ کانگریس رہنما اس کلب ہاؤس مباحثے کے اسٹیج منیجر تھے اور اُنہوں نے ہی پاکستانی صحافی سے آرٹیکل 370 سے متعلق سوال پوچھنے کا کہا۔

اُن کا کہنا تھا کہ کلب ہاؤس میں ہونے والی گفتگو کانگریس کے جھوٹے پروپیگنڈہ کا حصہ ہے۔

بھارتی نشریاتی ادارے ٹائمز آف انڈیا کے مطابق اپنے بیان میں بی جے پی ترجمان نے کہا کہ "کانگریس کو اس کلب ہاؤس کا نام بدل کر اینٹی نیشنل کلب ہاؤس رکھ لینا چاہیے۔ کیوں کہ مودی جی کی نفرت میں اب یہ لوگ بھارت سے نفرت پر بھی اُتر آئے ہیں۔"

خیال رہے کہ نریندر مودی حکومت نے پانچ اگست 2019 کو بھارت کے زیر انتظام کشمیر سے متعلق بھارتی آئین میں موجود آرٹیکل 370 کو ختم کر دیا تھا۔

اس آرٹیکل کے تحت بھارتی کشمیر کی کئی عشروں سے چلی آرہی نیم خود مختار حیثیت ختم کر کے اسے وفاق کے زیرِ انتظام علاقہ قرار دے دیا گیا تھا۔

بی جے پی کی تنقید پر ردِعمل دیتے ہوئے دگ وجے سنگھ کا کہنا تھا کہ اُن کے بیان پر تنقید کرنے والے کم علم ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ کلب ہاؤس مباحثے میں اُنہوں نے کہا تھا کہ اگر کانگریس دوبارہ اقتدار میں آئی تو وہ آرٹیکل 370 کا دوبارہ جائزہ لے گی۔ لہذٰا کوئی کام کرنے کی نیت کرنا اور اس پر غور کرنے میں واضح فرق ہے۔

دگ وجے سنگھ کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 370 کو ختم کرنا اور کشمیر کو حاصل ریاست کا درجہ واپس لینا ایک افسوس ناک فیصلہ تھا۔

کانگریس رہنما کے بیان پر سیاسی رہنماؤں کا ردِعمل

کانگریس رہنما کے بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے بھارتی کشمیر کے سابق وزیرِ اعلٰی فاروق عبداللہ نے کہا کہ وہ دگ وجے سنگھ کے شکر گزار ہیں کیوں کہ اُنہوں نے کشمیری عوام کے جذبات کا احساس کیا۔

اُن کا کہنا تھا کہ وہ اُمید کرتے ہیں کہ بھارت کی حکومت اس معاملے پر نظرِ ثانی کرے گی۔

ادھر کانگریس کے ترجمان پون کھیرا نے ایک بیان میں کہا ہے کہ آرٹیکل 370 سے متعلق کانگریس کا باضابطہ مؤقف وہی ہے جو اس نے چھ اگست 2019 کو دیا تھا۔

چھ اگست 2019 کو کانگریس کی سینٹرل ورکنگ کمیٹی نے ایک قرارداد منظور کی تھی جس میں دیگر سیاسی جماعتوں اور کشمیری رہنماؤں کو اعتماد میں لیے بغیر آرٹیکل 370 ختم کرنے کے حکومتی فیصلے کو مسترد کیا گیا تھا۔

مدھیہ پردیش کے وزیرِ اعلٰی شیو راج سنگھ چوہان نے الزام لگایا کہ کانگریس پاکستان کی زبان بول رہی ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ سونیا گاندھی کو اس معاملے میں اپنی پوزیشن واضح کرنی چاہیے۔

خیال رہے کہ آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد بھارت کے پاکستان کے ساتھ تعلقات بھی مزید خراب ہو گئے تھے۔

پاکستان نے بھارت سے سفارتی اور تجارتی تعلقات محدود کرتے ہوئے کہا تھا کہ جب تک بھارت آرٹیکل 370 بحال نہیں کرتا اس سے مذاکرات نہیں ہوں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG