رسائی کے لنکس

ترکی میں بھی مہنگائی سے عوام پریشان؛ 'ہم اس سلوک کے مستحق نہیں'


پاکستان کی طرح دنیا کے مختلف ممالک میں شہری مہنگائی کے باعث پریشان ہیں جن میں ترکی بھی شامل ہے۔ ترکی میں حالیہ مہینوں سے تیل کے علاوہ اشیائے خورو نوش کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس کی بڑی وجہ اس کی کرنسی کی مسلسل گرتی ہوئی وجہ بتائی جا رہی ہے۔

کرونا وبا کے اثرات کم ہونے کے بعد تیل کی طلب میں اضافے اور دیگر وجوہات کی بنا پر دنیا بھر میں مہنگائی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ البتہ ترقی پذیر ممالک کے ساتھ ساتھ ترقی یافتہ ممالک میں بھی ہوش ربا مہنگائی کے اثرات محسوس کیے جا رہے ہیں۔

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ ترکی میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ معاشی بدانتظامی، ملک کے مالی ذخائر سے متعلق تحفظات اور صدر رجب طیب ایردوان کی جانب سے شرح سود کم رکھنے کا دباؤ ہے۔

ترک صدر کا دعویٰ ہے کہ کم قرضہ لینے سے ترقی کی شرح میں اضافہ ہو گا جب کہ ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی قیمتوں پر قابو پانے کا طریقہ اس کے برعکس ہے۔

ترکش لیرا ڈالر کے مقابلے میں تاریخ کی کم ترین سطح پر ہے کیوں کہ صدر ایردوان کی خواہش کے مطابق مرکزی بینک نے شرح سود میں کمی کی ہے۔

ماہرین کے مطابق اس ساری صورتِ حال سے سب سے زیادہ عوام متاثر ہو رہے ہیں جن کے لیے اپنی ضروریات پوری کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

"ہر چیز مہنگی ہو چکی ہے، میں کچھ نہیں خرید سکتی۔" یہ کہنا تھا کہ صالحہ پوئراز کا جو استنبول کی ایک مارکیٹ میں فوڈ اسٹالز میں اشیا کی قیمتیں دیکھ کر پریشان نظر آئیں۔

ستاون سالہ صالحہ نے ایردوان کی پارٹی کو ووٹ دیا تھا، تاہم ان کا اب مطالبہ ہے کہ حکومت بڑھتی ہوئی مہنگائی پر قابو پانے کے لیے اقدامات کرے۔

اُن کا کہنا تھا کہ "اگر آپ حکومت میں ہیں اور ہم نے آپ کو چیزیں درست کرنے کے لیے ووٹ دیا تھا تو آپ اس معاملے میں مداخلت کیوں نہیں کر رہے، آپ مہنگائی کنٹرول کیوں نہیں کر رہے؟"

ماہرین کے مطابق بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث صدر ایردوان کی مقبولیت میں کمی دیکھی جا رہی ہے جن کے دورِ اقتدار کے ابتدائی برسوں میں ترک معیشت نے تیزی سے ترقی کی تھی۔

رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق ایردوان کی پارٹی کے مقابلے میں اتحاد بنانے والی اپوزیشن جماعتوں اور دیگر قوم پرستوں جماعتوں کی مقبولیت میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

ترک حکومت کا مؤقف ہے کہ اکتوبر میں افراطِ زر کی شرح میں گزشتہ برس اسی ماہ کے مقابلے میں 20 فی صد اضافہ ہوا ہے۔

البتہ سابق سرکاری افسران اور ماہرینِ تعلیم کے ایک آزاد تحقیقی ادارے کی رپورٹ کے مطابق یہ شرح 50 فی صد کے لگ بھگ ہے۔

ادارے کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکہ میں گزشتہ برس کے مقابلے میں مہنگائی میں چھ فی صد جب کہ یورپی یونین کے 19 ممالک میں چار فی صد اضافہ دیکھا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکہ میں 1990 اور یورپ کے ان 19 ممالک میں 13 برس بعد اتنی مہنگائی ریکارڈ کی گئی ہے۔

ترکش کرنسی کی قدر میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں رواں برس 25 فی صد گراوٹ دیکھی گئی ہے جس کے باعث درآمدات، تیل کی قیمتوں اور روزمرہ کی اشیائے ضروریہ مہنگی ہوتی جا رہی ہیں۔

بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ لیرا کی قدر میں کمی ترک برآمد کنندگان کو عالمی معیشت میں زیادہ مسابقتی بناتا ہے۔ کیوں کہ ترکی کی صنعت کا بڑا حصہ درآمد شدہ خام مال پر انحصار کرتا ہے۔

ترک صدر ایردوان کی جانب سے مانیٹری پالیسی پر مبینہ طور پر اثر انداز ہونے کی شکایات نے بھی تحفظات کو جنم دیا ہے۔ ترک صدر نے 2019 کے بعد سے مرکزی بینک کے چار گورنرز کو مقرر کیا ہے جب کہ مبینہ طور پر شرح سود کم نہ رکھنے والے بینکاروں کو وہ ملازمتوں سے فارغ بھی کرتے رہے ہیں۔

اس کے برعکس کرونا وبا سے متاثرہ ممالک میں شرح سود میں اضافہ دیکھا گیا ہے اور کئی معیشتیں اس میں مزید اضافے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ تاکہ توانائی کے بڑھتے ہوئے اخراجات کو پورا کیا جا سکے۔

ماہرین کے مطابق موجودہ صورتِ حال کے باعث غیر ملکی سرمایہ کار ترکی میں اپنے اثاثے فروخت کر رہے ہیں جب کہ ترک شہری بھی اپنی جمع پونجی کو دیگر کرنسیوں میں تبدیل کر رہے ہیں۔

استنبول میں قائم مشاورتی فرم کی ماہرِ اقتصادیات اور بانی پارٹنر اوزلم ڈیریکی کہتی ہیں کہ مرکزی بینک کی خود مختاری میں مبینہ مداخلت کی وجہ سے مالیاتی منڈیوں میں بڑے پیمانے پر فروخت دیکھی گئی ہے۔

اُن کے بقول افراطِ زر کی شرح میں اضافے کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں، لیکن بنیادی وجہ مرکزی بینک کی پالیسی ہی ہے۔

اُن کے بقول ترکی کی آدھی سے زیادہ آبادی اس وقت کم آمدنی کی وجہ سے مشکلات سے دوچار ہے۔

دریں اثنا ترک صدر طیب ایردوان کا اصرار ہے کہ ترک معیشت اب بھی مضبوط اور ترقی کی جانب گامزن ہے۔

اُن کا کہنا ہے کہ ترک معیشت عالمگیر وبا کے اثرات سے نکل رہی ہے اور دیگر ممالک کے مقابلے میں ترکی کی صورتِ حال اب بھی بہتر ہے۔

اپنے ایک حالیہ بیان میں اُن کا کہنا تھا کہ امریکہ اور یورپ میں اشیا کی قلت ہے، شیلفس خالی ہیں۔ لیکن خدا کی مہربانی سے ہمارے ہاں ہر چیز کی فراوانی ہے۔

ایردوان حکومت سپر مارکیٹ چینز پر یہ الزام عائد کرتی ہے کہ انہوں نے اشیا خور و نوش کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے جب کہ اس بابت تحقیقات کا بھی حکم دیا گیا ہے۔

انہوں نے زرعی کوآپریٹیو اداروں کو ملک بھر میں ایک ہزار نئی دکانیں کھولنے کا حکم بھی دیا ہے تاکہ خوراک کی قیمتیں کم رہیں۔

اس سے قبل ایردوان نے طلبہ کے ایک گروپ پر،جس نے رہائش اور ہاسٹل فیس میں اضافے کے خلاف بطور احتجاج پارکس میں سونا شروع کر دیا تھا، 'دہشت‘ کا الزام عائد کیا تھا۔

دریں اثنا ترکی میں رہائش کے لیے کرایوں کا بڑھنا جب کہ گھروں کی قیمتوں میں بھی ہوش ربا اضافے اور انہیں ڈالرز میں فروخت کرنے کی اطلاعات بھی سامنے آ چکی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG